نیب :بلین بڑی سونامی اور شوگر سبسڈی سکینڈل کی انکوائری کی منظوری

قومی احتساب بیورو( نیب) نے بلین ٹری سونامی اور شوگر سبسڈی سکینڈل کی انکوائریز کی منظوری دیدی،بدھ کونیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت اسلام آبادمیں ہوا ، اجلاس میں پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ(پی پی ایل)کے سابق ایم ڈی /چیف ایگزیکٹو آفیسر/رکن بورڈ آف ڈائریکٹرز عاصم مرتضیٰ خان اور دیگرکیخلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں 7انویسٹی گیشنز کی بھی منظوری دی گئی جن میں بلین ٹری سونامی پراجیکٹ خیبر پختونخوا کی 4الگ الگ انویسٹی گیشنز، المسہ ماڈل ٹاؤن اور پروفیسر ماڈل ٹاؤن کی انتظامیہ اور دیگر،ٹیکسٹ بورڈ خیبر پختونخوا کے افسران /اہلکاران اور دیگر،مرزا خان صوہیرا نی،محکمہ تعلیم اور خواندگی حکومت سندھ کے افسران و اہلکاران اور دیگر کیخلاف انویسٹی گیشنز بھی شامل ہیں ۔ نیب ایگزیکٹو بورڈنے 12انکوائریوں کی بھی توثیق کی ، جن میں بلین ٹری سونامی پراجیکٹ خیبر پختونخوا کی 6الگ الگ انکوائریز،شوگرسبسڈی سکینڈل میں شوگر ملز کی انتظامیہ اور دیگر، عبدالرحیم خان،ظہور احمد،عظمت علی شاہ ، حمزہ خان، عرش الرحمن، ایڈیشنل کنٹرولر عبد الولی خان یونیور سٹی مر دان اور دیگر،بنوں شوگر ملز لمیٹڈ کے افسران /اہلکاران،آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کے افسران /اہلکاران اور دیگر،سردار خان چانڈیو رکن صوبائی اسمبلی،برہان خان چانڈیو رکن صوبائی اسمبلی،ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے افسران /اہلکاران اور دیگر کیخلاف انکوائریز شامل ہیں، اجلاس میں متعدد انکوائریز اور کئی انویسٹی گیشنز کو بھی عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دی گئی۔ادھرلاہور سے نمائندہ دنیا کے مطابق نیب اسلام آبادنے شہدا کے خاندانوں کے لئے مختص4ارب مالیت کی اراضی افسروں کو الاٹ کرنے پر پنجاب حکومت کیخلاف تحقیقات شروع کردیں، نیب نے تمام ریکارڈ چیف سیکرٹری پنجاب سے طلب کر لیا، کابینہ ارکان کی مخالفت کے باوجود وزیر اعلیٰ نے جنوبی پنجاب میں موجود سینکڑوں ایکڑ اراضی سرکاری افسران کو الاٹ کرنے کی منظوری دی تھی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں