اسرائیل،امارات امن معاہدہ ” فلسطین کی پیٹھ میں ایک اورخنجر

پوری دنیاکومعلوم ہے کہ اسرائیل ایک ناجائزریاست ہے جواپناوجود فلسطینیوں کے مسلسل خون چوسنے کے سبب قائم کئے ہوئے ہے۔اسرائیل کے لئے ہردن فلسطینیوں کے خون کی ہولی کا تہوار ہوتا ہے۔اسرائیل کی تاریخ ظلم و بربریت سے عبارت ہے۔چند مثالوں سے اس کو بآسانی واضح کیا جا سکتا ہے:کنگ ڈیوڈ قتل عام جس میں92 لوگ قتل کئے گئے، ڈیرہ یاسین قتلِ عام جس میں 254 مفلس دیہاتیوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، قبیا قتل عام جس میں 96لوگ قتل کر دئے گئے، کفر قاسم قتل عام ،خان یونس قتل عام، مسجد ابراھیم قتل عام، سابرہ و شاتیلا قتل عام جس میں 3000فلسطینیوں کو لبنان کے رفیوجی کیمپ میں قتل کیا گیا اور تاہنوز فلسطین میں ایک بہیمانہ نسل کشی جاری ہے ۔اس پورے تناظر میں عرب ممالک کا اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سطح پر کسی بھی نوع کی بات چیت کرنا انہیں انصاف کی عدالت میں ایک مجرم کی حیثیت سے کٹھہرے میں کھڑا کرتا ہے۔اسرائیل سے بات چیت کرنا اسرائیل کو ایک ریاست ماننے کا جواز فراہم کرتا ہے.عرب ممالک کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کے کسی بھی ملک کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی پیش رفت فی نفسہ ایک جرم ہے کیونکہ اسرائیل خدبا اپنے مکر و فریب اور مغرب کی منافقت سے امت مسلمہ کی سینے میں بصورت خنجر گھونپ دیا گیا ہے۔یہ افسوس کی بات ہے کہ 1948کے بعد کئی مسلم ممالک نے اسرائیل کے ساتھ معاملات گرچہ مسئلہ فلسطین کے حوالے ہی سے پرامن طریقے کے تحت حل کئے جانے پر بات چیت کی لیکن کس قانون کے تحت ،کس دستور کے تحت یا کن اخلاقی اقدار کے تحت یہ سرگرمیاں انجام دی گئیں یا دی جارہی ہیں۔اسرائیل کو امت مسلمہ خصوصاً عرب ممالک نے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرنا تھا بلکہ اس خنجر کو طاقت کے ذریعے نکال باہر کرکے رکھنا تھا۔بدقسمتی یہ ہے کہ دور جدید کی امت مسلمہ میں میر جعفراور ابن علقمی جیسے غداروں اور ابو عبداللہ جیسے نااہل حکمرانوں نے غیرت کا سودا جان بچی والے داموں کے عوض کیا ہے۔تاریخ کے اوراق پر آج بھی سقوط بغداد کی داستان رقم ہے۔جب بغداد کے چہار اطراف ہلاکو کا لشکر بھوکے بھیڑیوں کی طرح مسلمانوں کو نوچنے کے لئے تیار تھا تو وقت کا خلیفہ مستعصم باللہ اپنی خوبصورت کنیزوں کے ہجوم میں موسیقی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ایسا ہی حال آج بیشتر حکمرانوں کا ہے ۔وہ اپنی سلامتی کے لئے نہ کہ امت کی عظمت کی بحالی کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔وہ خود کو دشمن کی جھولی میں بھی دے سکتے ہیں ۔وہ بخت خان جیسے بہادروں کی ایک بھی بات سننے کے لئے تیار نہیں ۔وہ طارق بن زیاداورمحمد بن قاسم کا کردارادا کرنے کے اہل قطعاً نہیں ہیں۔آج بعینہ عرب حکمرانوں کی صورتحال مذکورہ افراد کی طرح ہے۔محمد بن سلمان آئے دن جیرڈ کشنرکے ساتھ مسلسل ملاقاتوں کی وجہ سے قربت اختیارکرتاجارہا ہے۔ قصر سفید کے مشیر نے یکم ستمبر کو محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر کافی زور دیا۔الجزیرہ کے مطابق “اگر سعودی حکومت کے بیانات سچ ہر مبنی ہیں تو کشنر کے لئے سعودی عرب کی منظوری حاصل کرنا بہت مشکل ہے لیکن کشنر بن سلمان کے ساتھ اپنی دوستی اورمسلسل ملاقاتوں کے ذریعے کچھ مفید تر معاملہ طے کر سکتا ہے “.یاد رہے کہ بن سلمان کو اپنے والد شاہ سلمان کے اسرائیلی موٴقف سے سخت اختلاف ہے۔

سنہ 1979 میں مصر کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے قائم کیا گیا جس کے بعد اردن نے ایسا ہی معاہدہ سنہ 1994 میں کیا۔حال ہی میں اب متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ ابراھم نامی معاہدہ طے کر کے اس ناجائز ریاست کے وجود کو تسلیم کیا ہے۔اس معاہدے کو فلسطینیوں نے کمر میں خنجر گھونپ دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔ایک بات یاد رہے عرب حکمرانوں کو بھی اسرائیل سے کوئی انس نہیں ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوارکرنے کی نیت رکھتے ہوں۔ایساہرگزنہیں ہے بلکہ یہ ان کی نااہلی،باہمی چپقلش،بے غیرتی
Muslim Silence
اورعیش کوشی کا نتیجہ ہے کہ وہ سفارتی اور ڈیپلومیٹک سطح پراسرائیل کے روبرو ہورہے ہیں۔اسرائیل مشرقی وسطیٰ میں ایک سرطان کی طرح پھیل رہا ہے۔اسرائیل نے عربوں کی آپسی نااتفاقی کو جس طرح سے اپنے وجود کو مستحکم کرنے کے لئے استعمال کیا ہے تاریخ ایسی کوئی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔عربی ممالک صرف ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں ہیں ناکہ اسرائیل کا گھیراو کرنے کی ہمت رکھتے ہیں ۔میرے ایک دوست نے جو مشرقی وسطیٰ میں کافی دیر تک رہے ہیں مجھے یہ بات کہہ کر چونکا دیا کہ عربوں کی جدید فطرت میں صرف نام و نمود کی تمنا ہے، وہ کچھ ایسے کام کرناچاہتے ہیں کہ وہ دنیا کی نظروں میں رہیں ۔عرب امارات کے دبئی شہر کو دیکھیں وہ نمائش کا ایک بہت بڑا شہر ہے ،دوحہ کو دیکھ لیں، مسقط کو دیکھ لیں، اور اب سعودی عرب کا نیوم شہر کے مستقبل پروٹوٹائپ کو دیکھ لیں یہ سب مراکزنماٰئش کی دنیا میں ایک نام رکھتے ہیں۔عرب یورپ کے ساتھ مادی لحاظ سے سبقت لینے کی دوڑمیں غیرت و حمیت کا لباس اتار چکے ہیں ۔خلافت عثمانیہ کے سقوط کے پیچھے عربوں کی جو کارستانی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔اسرائیل کا خنجر ان کے سینے میں ان کی اپنی خامیوں اور کمزوریوں کے باعث گھونپا گیا۔عرب اسرائیل جنگ تو” چڑیا چگ گئی دانا اب پچھتانے سے کیا کے مصداق صرف ایک سوئے ہوئے کسان کاجاگنے کے بعد احتجاج کی حیثیت رکھتی تھی۔اس کے بعدعربوں کی گہری نیند اورجاگنے کے ساتھ باہمی سر پھٹول نے انھیں اسرائیل کے قوی ہونے کاذریعہ بنایاہے۔اسرائیل پہلے فلسطینیوں کے قبرستان پر زندہ رہنے کا دعویدار ہے اور اب پوری عرب قوم کی میتوں کی قبروں ہر اپنا وجود پھیلانا چاہتا ہے۔

۔متحدہ عرب امارات مصر اور اردن کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تازہ معاہدہ کرکے تیسرا عرب ملک بن گیا ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات باضابطہ طورپر قائم کرلیے ہیں اوریہ خلیج کی چھ عرب ریاستوں میں پہلا ملک ہے جس نے ایسا کیا ہے۔متحدہ عرب امارات کی سرکاری ایمریٹس نیوز ایجنسی کے مطابق اس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات مضبوط کرنا ہے۔سرکاری حکم نامے کے تحت اماراتی باشندے اورکمپنیاں اسرائیلی باشندوں اورکمپنیوں کے ساتھ مالی لین دین،روابط اورمعاہدے قائم کرسکیں گی۔بی بی سی اردو کے مطابق آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بحال کرنے کی کوششوں میں تیزی آئے گی اور اس سلسلہ میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سکیورٹی، مواصلات، ٹیکنالوجی، توانائی، نظامِ صحت، ثقافت اور ماحولیات جیسے امور پر باہمی معاہدے ہونے کی امید ہے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک ایک دوسرے کی سرزمین پر سفارت خانے بھی کھولیں گے”. عرب ممالک کا اسرائیل کے اتنا قریب جانا پورے عالم اسلام کے لئے خطرناک علامت ہے۔جس کے بھیانک قسم کے نتائج برآمد ہونے کا خدشہ ہے۔اس معاہدہ کے تحت ایک مضحکہ خیزشرط کاامارات نے اسرائیل کوپابند کرنے کی کوشش کی ہے وہ یہ کہ اسرائیل فوراً فلسطینی زمینوں کو غصب کرنابندکردے ۔جس کو اسرائیل نے مکارانہ طورپر قبول توکرلیاہے لیکن بباطن عزائم گریٹراسرائیل بنانے کے ہیں ۔اسرائیل اتنی تگ ودو گریٹر اسرائیل بنانے کے لئے ہی تو کرریا ہے لیکن امارات اسرائیل کی اس مکاری کو سمجھنے سے بالکل بیگانہ ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر حامد دباشی لکھتے ہیں “عرب امارات پہلا عرب ملک نہیں ہے جس نے مسئلہ فلسطین کو اپنی دغابازی کا نشانہ بنایا ہے ۔امارات مصر اور جورڈن کی طرح تیسرا ملک ہے جس نے اپنی عوام کی خواہشات کے خلاف جاکر اسرائیل سے تعلقات استوار کئے ہیں ۔صہیونی اب تل ابیب اور واشنگٹن میں بیٹھ کر باقی عرب ممالک کو بھی امارات کے نقش قدم پر چلانے کے لئے سازشیں رچا رہے ہیں۔

سعودی عرب اور بحرین نے بھی امارت اسرائیل معاہدے کا استقبال اسرائیلی ہوائی جہازوں کو اپنے ملک کا ہوئی راستہ فراہم کرنے کی صورت میں کیا ہے۔اگر عرب ممالک فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اسرائیل کو ہوائی سپیس استعمال کرنے کی اجازت کیوں دی جارہی ہے؟ یہ سارے اقدامات خطے میں اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے عمل کو فروغ دیں گے ۔ متحدہ عرب امارات کو سلامتی اور سائبر سپر پاور کے میدان میں اسرائیل کی مدد ملے گی اور امریکی صدر تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں امریکی ووٹروں کے سامنے خود کو مشرق وسطیٰ میں بطور امن مندوب پیش کریں گے۔اس امن معاہدہ کے پیچھے ٹرمپ ایک خاص کردار ہونے کے ناطے نوبل پیس انعام کے لئے بھی نامزد کیا گیا ہے۔میرا یقین ہے کہ جس طرح سابق امریکی صدر بارک اوبامہ کو مسلمانوں کے قتلِ عام پر نوبل انعام سے نوازا گیا تھا بعینہ ٹرمپ کو بھی اس انعام سے سرفراز کیا جائے گا۔یہ سارا کھیل گریٹر اسرائیل کے قیام کی تیاری کے لئے کھیلا جاریا ہے۔عرب دنیا امریکہ اور اسرائیل کے مکر کا دن بدن شکار ہوتے جا رہے ہیں اور جس کے نتیجے میں اسرائیل کا خنجر فلسطینیوں کی پیٹھ میں مزیدا گہرا ہوتا جا رہا ہے۔یہ امن معاہدہ عرب اوراسرائیل کونزدیک کرنے کے مقصد سے طے کیا گیا ہے تاکہ اسرائیلی دجل بڑی تیزی کے ساتھ پورے خطے میں پھیلے ۔اس معاہدے سے فلسطینیوں کی زندگیاں مزید اجیرن بنے گیں کیونکہ اسرائیل کے فطور میں عرب ایک تو ان کے فطری غلام ہیں دوسرا انہیں فلسطین میں رہنے کا قطعاً کوئی حق نہیں ہے۔اس کے لئے یہودی پروٹوکالز کی شہادتیں بہت کافی ہیں ۔اس کے باوجود بھی اگر عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرتے جائیں گے تو گویا وہ اپنے گھروں میں اژدھا کو پرامن مسکن دینے کے لئے تیار ہیں ۔

رابطہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں