چور تاجر کی سرپرستی افسر شاہی کرے تو قصور عوام کا یا حکمران کا۔!

چور تاجر کی سرپرستی افسر شاہی کرے تو قصور عوام کا یا حکمران کا ۔ !
گل بخشالوی
صوبائی مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے رمضان بازار میں ناقص اشیا ءخورو نوش کی فروخت اور خواتین کی شکایات پر اسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ
سونیا صدف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا میرا بھی دل چاہتا ہے اے سی والی گاڑی میں بیٹھوں ،سب کا دل چاہتا ہے کہ اپنی فیملی کیساتھ سکون کریں لیکن ہم نے لوگوں کو جواب دینا ہے۔افسر شاہی کی کارستانیاں بھی حکومت بھگت رہی ہے ۔
سونیا صدف نے عزت نفس مجروح ہونے پر کہا بات آ رام سے بھی ہو سکتی میڈم ، جس پر ڈاکٹر فرودس نے کہا آپ اس بات کی تنخواہ لیتی ہیں ،میں تنخواہ نہیں لیتی ، آپ کا فرض ہے ،یہ سنتے ہی اے سی سلیم صدف رمضان بازار سے چلی گئیں۔
بعدازاں میڈیا سے گفتگو میں اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف نے کہا ہم یہاں گرمی میں روز ذلیل ہوتے ہیں، یہ کوئی بات کرنے کا طریقہ نہیں ،اگر کوئی پھل خراب ہو گیا ہے تو غلطی ہو سکتی ہے۔ گرمی بہت ہے اس وجہ سے اگر رمضان بازار میں کچھ پھل خراب ہوجائیں تو انہیں اٹھوا دیتے ہیں دریں اثناءچیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک نے کہا اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف اور دیگر انتظامی افسران سخت گرمی اور کورونا کی وباءکے باوجود فرنٹ لائن پر موجود ہیں۔ کسی بھی سرکاری افسر یا عملے کے ساتھ غیر اخلاقی زبان استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔
فردوس عاشق اعوان کے عمل ، سونیا صدف کے ردِ عمل اور چیف سیکر ٹری کی افسر پرستی پر کھاریاں کے نواحی گاﺅں کے وطن دوست تجزیہ نگا ر ثاقب شبیر لکھتے ہیں کہ مہنگائی کنٹرول نہ کرپانے پہ عمران خان کو گذشتہ تین سال سے گالیاں ثواب سمجھ کردینے وا لی قوم،مہنگائی اور کوالٹی پہ چیک رکھنے کی ذمہ دار ا ے سی کی غفلت بر تنے پر حکو مت کی ڈانٹ کو توہین ِ اے سی قرار دینے لگی ہے
اگر اے سی، پرائس انسپکٹر، تحصیلدار کی موجودگی میں فروٹ سبزی ریڑھی والے کی ریڑھی الٹا دے دکاندار کو تھپڑ مار دے تو وہ درست ہے اس لئے کہ مزدور کی عزتِ نفس تو ہوتی ہی نہیں اور اگر حکمران جماعت کی ایک خاتون مشیر ایک خاتو ن اسسٹنٹ کمشنر کو اس کی غفلت اور غیر ذمہ داری سر زنش کر دے تو اس کی عزت ِ نفس مجروح ہو جاتی ہے جس پر حکمران دشمن سیا ستدانوں کے درباری اس کی مذمت کرتے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں ،
ہمارے شہر کھاریاں کے رمضان بازار میں چینی چور کے سرکاری سٹال سے ٹائیگر فورس نے پانچ تھیلے چینی کے برآمد کئے ، وہاں اے سی کھاریاں تو نہیں تھے لیکن پانچ پولیس اہل کاروں کے ساتھ اے سی کھاریاں کا نامزد عملہ تو موجود تھا ، مقامی اے سی کھاریاں نے اس کے خلاف کیا ایکشن لیا، عوام جاننا چاہتے ہیں؟
چور تاجر کی سرپرستی افسر شاہی کرے تو قصور عوام کا یا حکمران کا ۔ !

اپنا تبصرہ بھیجیں