وطن نیوز انٹر نیشنل

الیکشن کی تاریخ نہ دی گئی تو اسلام آباد آنے والا سمندرسب کو بہا لے جائے گا، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر انتخابات کی تاریخ نہیں دی تو اسلام آباد آںے والا سمندر سب کو بہا لے جائے گا، عوام فیصلہ کریں کہ پاکستان کی قیادت کون کرے گا۔

مردان میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ حقیقی آزادی کی جدوجہد میں شرکت کے لیے آپ کو آنا ہوگا، میں سیاست کے لیے نہیں بلکہ انقلاب کے لیے بلارہا ہوں، جو بھی 70 سال سے کم عمر ہے وہ نوجوان ہے، جب اسلام آباد آنا ہے تو اپنے خوف کی زنجیریں توڑ کر آنا۔

مزیدپڑیں: ‏عمران خان کا عید کے بعد 6 شہروں میں جلسوں کا اعلان
سابق وزیر اعظم نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے قائدین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف اور آصف علی زرداری امریکا کے غلام ہیں اور نواز شریف سے زیادہ بزدل آدمی زندگی میں نہیں دیکھا، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کو مولانا نہیں کہوں گا کیونکہ مذہبی علما کی بہت عزت کرتا ہوں، فضل الرحمن نے حکومت میں آکر این ایچ اے کی وزارت حاصل کی۔

انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ لو نے ہمارے سفیر کو کہا کہ اگر عمران خان کو ہٹا دیا تو پاکستان معاف کردیں گے، کیا ہم امریکیوں کے غلام ہیں، ہم ان کے نوکر ہیں؟ ہم ان کے نوکر اور غلام نہیں ہیں، ملک کی قیادت کون کرے گا فیصلہ کوئی مفرور نہیں بلکہ عوام کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ میرے لیے سب سے شرمندگی کی بات یہ تھی کہ میں نے بیرون ملک جاکر چین، سعودی عرب سمیت دیگر ممالک سے قرضے مانگے، جو قوم قرضے مانگتی ہے اُس کی کوئی عزت نہیں ہوتی، مجھے معلوم ہے کس کس نے سازش کی۔

یہ بھی پڑھیں: فوج مخالف بیانات کا الزام لگانے والوں کوجہلم جلسے میں جواب دوں گا، عمران خان

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے خلاف مہم چلائی گئی اور اس مہم میں کس کس میڈیا ہاؤس کو پیسا دیا گیا اس بارے میں ساری معلومات ہیں، اب میڈیا کے نمائندے عوام سے مہنگائی سے متعلق سوال کیوں نہیں کرتے جیسا کہ وہ ہماری حکومت کے دوران کرتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس سازش کی کھلی تحقیقات کرائیں، سازش کرنے والے ایک میر جعفر کی شکل میرے دل پر نقش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول امریکا جا کر پیسے مانگے گا کہ ہماری مدد کر دیں ورنہ عمران خان واپس آجائےگا۔

عمران خان نے کہا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی موجودگی میں انتخابات صاف و شفاف نہیں ہوسکتے، الیکشن کمیشن کو ’تمام لوٹوں‘ کے بارے میں علم ہے، یہ قانونی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقات کا مسئلہ ہے، اگر الیکشن کمیشن نے ’لوٹوں‘ کو بچایا تو عوام انہیں بھی معاف نہیں کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

0