وطن نیوز انٹر نیشنل

اداریہ

سیاست اپنی جگہ لیکن ہمیں بحیثیت پاکستانی سب سے پہلے ملک کا سوچنا چاہیے، سیاست دان ہوں یا عوام، سب کو پاکستان کے بارے میں اپنی ذات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا. لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں سیاست ملکی مفاد کی بجائے ذاتی مفاد پر کی جاتی ہے، ملک میں موجود جتنی سیاسی پارٹیاں ہیں سب کی سب ذاتیات کے گرد گھومتی ہیں۔ ہر پارٹی کا ایک سیاسی بت ہے اور ساری پارٹی اس سیاسی بت کا پرچار کرتی نظر آتی ہے۔

ہم نے سیاست میں اپنے اپنے بت بنائے ہوئے ہیں ،ان سیاسی بتوں نے کارکنوں کو اپنا دیوانہ بنایا ہوا ہے اور لوگ دیوانہ وار ان سیاسی بتوں کو پوجتے ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں پاکستانی سیاست کبھی بھی ان سیاسی بتوں سے باہر نہیں نکلی، یہ سیاسی بت اپنے آپ میں سیاسی خدا بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہیں سب کا ایک ہی جیسا حال ہے ۔پاکستان کی تین بڑی پارٹیاں جو اس وقت کسی نہ کسی طریقے سے حکومت کا حصہ ہیں جن میں ن لیگ ،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف یہ سب پارٹیاں موجودہ حکومت کا حصہ ہیں۔ اگر ان سیاسی پارٹیوں میں سب سے پہلے ن لیگ کو لیں جس طرح سے ن لیگ موجودہ حکومت کو چلا رہی ہے شاید ہی آپ کو ماضی میں ایسی کوئی مثال ملے گی۔

چلیں جیسے بھی یہ حکومت قائم ہوئی ، ہم ماضی میں جائے بغیر جائزہ لیں تو اس حکومت کا کوئی سر پیر ہی نہیں ہے، نہ ہی وزیراعظم ایسا ہے کہ وہ کوئی فیصلہ خود سے کرسکے، یعنی اس حکومت کی بدقسمتی دیکھیں ہر عہدے پر دودو لوگ کام کر رہے ہیں۔ یعنی آئینی طورپر وزیراعظم تو شہباز شریف ہیں لیکن وہ فیصلے کے لیے نواز شریف کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ دوسرا بڑا عہدہ وزیر خزانہ کا ہے، وزیرخزانہ ہیں تو مفتاح اسماعیل ہیں لیکن معاشی فیصلوں کے لیے وہ اسحاق ڈار کی طرف دیکھ رہے ہیں، یہ ملک میں وفاق کاحال ہےیعنی ملک معاشی طور پر بد حالی طرف جا رہا ہے لیکن فیصلہ کرنے والے لوگ آپس میں کنفیوژن کا شکار ہیں۔

بھئی ایسے تو ملک نہیں چلائے جاتے، اس سے بڑھ کر ہماری بد قسمتی دیکھیں شہباز شریف صاحب پوری کابینہ کو ہی لندن لے گئے تھے۔ لندن میں پاکستان کی بقاء کے فیصلے ہونے تھے پوری کابنہھ لندن اس لیے گئی کہ ملک بد ترین معاشی حالات میں ملا ہے کہ اب حکومت تو لے لی ہے لیکن اب یہ فیصلہ کرنا تھا کہ حکومت چلانی ہے یا پھر انتخابات کی طرف جانا ہے۔ ان فیصلوں کے لیے شہباز شریف پوری حکومت کو لندن لے گئے تھے۔

بھئی اب آپ نے جیسے تیسے حکومت لے لی ہے ،اب آپ پاکستان کے وزیراعظم ہیں، آپ کو پاکستان کے لیے فیصلے کرنے ہیں نہ کہ آپ ن لیگ کے وزیراعظم ہیں۔ آپ کو پارٹی سے ہٹ کر پاکستان کا سوچنا چاہیےلیکن بد قسمتی سے سیاسی پارٹیاں اپنےلیڈران کے بتوں سے باہر ہی نہیں نکلیں۔ کیونکہ نواز شریف ن لیگ کے لیڈر ہیں اور جب تک نواز شریف زندہ ہیں ن لیگ ہی نواز شریف ہے اور نواز شریف ہی ن لیگ ہے ،کوئی مائی کا لعل نواز شریف کو ن لیگ سے نہیں نکال سکتا، نواز شریف کاہر غلط یا صحیح فیصلہ ن لیگ کا فیصلہ ہوتا ہے پوری جماعت اس فیصلے پر قائم رہتی ہے دیکھا جائے تو اس پارٹی میں کو ئی جمہوریت نہیں ہے، فرد واحد کے فیصلے ہوتے ہیں۔

ن لیگ پر صرف اور صرف شریفوں کی اجارہ داری ہے۔ نواز شریف کے بعد اب شہباز شریف وزیراعظم کے عہدے ہیں اور پارٹی کے صدر بھی ہیں، حمزہ شہباز پنجاب کے وزیراعلٰی ہیں اور مریم نواز پارٹی کی نائب صدر ہیں۔ پارٹی میں جمہوریت برائے نام ہےجس وجہ سے ن لیگ وفاق کی پارٹی کبھی نہیں بن سکی۔ آج بھی ن لیگ کو صرف پنجاب کی پارٹی کہا جاتا ہے،آپ کو پوری پارٹی کی سربراہی میں ایک ہی خاندان کے لوگ نظر آئیں گے باہر سے کسی کی ہمت نہیں ہے کہ پارٹی کی صدارت کر سکے۔ جب سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت نہ ہو پھر کیسے ملک میں جمہوری ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔

بالکل اسی طرح کے حالات آپ کو پاکستان کی دوسری بڑی پارٹی پیپلز پارٹی کے ملیں گے، سب سے پہلے بھٹو صاحب پارٹی کے بانی تھے، جب تک زندہ رہے پارٹی ان کے کنٹرول میں رہی، پھر جب ان کو پھانسی دی گئی تو پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو بنیں پھر جب تک بے نظیر بھٹو صاحب زندہ رہیں پارٹی کو وہ خود چلاتی رہیں۔ جب ان کو سیاسی شہید کیا گیا تو آصف زرداری نے پارٹی کی بھاگ دوڑ سنبھالی ۔زرداری صاحب نے پوری کی پوری پارٹی کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے اوریہ بھی ن لیگ کی طرح ایک فیملی پارٹی بن چکی ہے یعنی پارٹی کا سربراہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے ابھی تک زرداری صاحب ہی پارٹی کو کنڑول کر رہے ہیں پارٹی کے سارے فیصلے زرداری صاحب خود کرتے ہیں، زرادری صاحب نے بلاول بھٹو کو پارٹی کا چیئرمین بنایا ہوا ہے لیکن فیصلہ سازی زرداری صاحب خود کرتے ہیں، پوری پارٹی ایک بندے کے تابع ہے ،کہنے کو تو پیپلز پارٹی ایک جمہوری پارٹی ہے لیکن لیکن زرداری صاحب کا فیصلہ پارٹی کا فیصلہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے ہماری سیاسی پارٹیوں میں جمہوری ریوں کا فقدان ہے۔

اسی وجہ سے زرداری صاحب کے سیاسی فیصلوں کی وجہ سے ایک وفاق کی پارٹی ایک صوبے تک محدود ہوگئی ہے ،بھٹو صاحب سے لیکر بے نظیر بھٹو صاحبہ تک پیپلز پارٹی وفاق کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے لیکن اب بد قسمتی سے پارٹی ذاتی مفاد کی بھینٹ چڑھی ہوئی ہے۔

جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے یہ واحد پارٹی ہے جو ابھی تک ایک خاندان کی پارٹی نہیں بنی ۔ہاں باقی پارٹیوں کی طرح عمران خان فرد واحد ہی سارے فیصلے کرتے ہیں لیکن یہ کسی بھی طرح ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی طرح ایک فیملی کی سربراہی والی پارٹی نہیں ہے، عمران خان نے 25سال اس پارٹی کے لیے جدوجہد کی ہے، آخر کا ر پہلے 2013 میں ایک صوبے کی حکومت بنائی پھر 2018 میں وفاق میں حکومت بنائی۔ تحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جس کا ملک کے ہر صوبے میں ووٹ بنک ہے اور تحریک انصاف جماعت اسلامی کے بعد واحد سیاسی جماعت ہے جو پارٹی کے اندر الیکشن بھی کراتی رہی ہے۔یہ واحد سیاسی جماعت ہے جو موروثیت سے پاک ہے ۔

ویسے تو آپ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم پاکستان کو بھی موروثیت سے پاک سیاسی جماعتیں کہ سکتے ہیں جن کے باقاعدہ تنظیمی ڈھانچے ہیں لیکن ان کے علاوہ جتنی بھی پاکستان میں سیاسی جماعتیں ہیں، سب کی سب موروثی سیاست کی بد ترین مثالیں ہیں ۔پاکستان میں سیاسی جماعتوں کو موروثی سیاست نے تباہ وبرباد کردیا ہے، ان سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کی بجائے نفرتوں، ذاتی حملوں جماعتوں کے اندر سیاسی بتوں کو پروان چڑھایا ہے، ان سیاسی بتوں نے صرف نفرتیں ہی پیدا کیں ہیں جو بھی پارٹی کا سر براہ ہے، اس کو ہر پارٹی ورکر بتوں کی طرح پوجتا ہے، ہر سیاسی ورکر اپنے لیڈر کے لیے مرنے مٹنے کو تیار ہو جاتا ہے ان نفرتوں کی وجہ سے ہماری جمہوریت کمزور ہو رہی ہے پارٹی کا سربراہ جو بھی بیانیہ بناتا ہے اس کا ورکر اندھوں کی طرح اس کی تقلید کرتا ہے لیکن اب حالات بدل رہے ہیں ملک میں میڈیا اور سوشل میڈیا نے جو شعور دیا ہے اس سے سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اب سیاسی ورکر اور ووٹر اپنے پارٹی لیڈر کو اچھی طرح پہچانتا ہے ہمارے ملک کی بد قسمتی ہے ہم جمہوریت پسند تو ہیں لیکن حقیقی جمہوریت سے بہت دور ہیں کیونکہ ہماری سیاسی پارٹیوں میں فرد واحد کی اجارہ داری ہے اسکا حکم چلتا ہے اس لیے ہم ملک میں جمہوری سوچ کو پروان نہیں چڑھا سکے۔

افسوس ناک امر ہے کہ ہم آج بھی کنٹرول شدہ سیاست کے قائل ہیں، ہم پاکستان کے ہر ادارے کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتے ہیں، ہر ادارے کو کنیز کی طرح رکھنا چاہتے ہیں کہ وہ جو حکم کریں ادارے چل کر ان کے پاس جائیں اور وہ اپنی مرضی کے فیصلے کریں لیکن ملک ایسے نہیں چلتے، اگر ملکوں کو ایسا چلانا ہو تو سوائے بربادی کے اور کچھ نہیں ملتا۔

جہاں تک بات ہے کہ ہم سیاسی بت پرستی میں بہت آگے نکل چکے ہیں ،ہم اپنے سیاسی آقاؤں کی خاطر کچھ بھی کر کرسکتے ہیں ۔ایک دوسرے کی تضحیک تو دور کی بات ہم ایک دوسرے کی جان کے دشمن بھی بن جاتے ہیں، پاکستان میں سیاسی تلخی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ بندہ اپنے دوستوں کے ساتھ ٹھیک طرح سے ایک منٹ بات بھی نہیں کر سکتا، ہر بندہ اپنےاندر اتنی نفرتیں پیدا کر رہا ہے، اب زندگی میں سوائےنفرتوں کے اور کچھ نظر ہی نہیں آتا ،اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارے سیاسی لیڈروں کا خود کوسیاسی خدا سمجھنا ہے، ہمارے سیاستدان سوائے نفرت کےبیج بونے کےسوا اور کوئی کام نہیں کر رہے۔ آپ پاکستان کی کسی بھی سیاسی پارٹی کو دیکھ لیں، ان میں ذات پرستی کے علاوہ آپ کو کچھ نہیں ملے گا۔ ہم ہر سیاسی جماعت میں اپنے اپنے سیاسی بت بنائے ہوئے ہیں، ان سیاسی بتوں کی وجہ پاکستان میں انتشار کی سیاست ہو رہی ہے۔ سیاستدان عوام کی خدمت کی بجائے سیاسی بت پرستی کو پروان چڑھا رہے ہیں۔

انتہائی دکھ کی بات ہے کہ ان نفرتوں کی سیاست میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہو رہا ہے، اللہ تعالی ہمارے ملک کو ایسے سیاستدانوں کے شر سے محفوظ فرمائے جن کو اپنی ذات کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا، ہم ان کی اندھی تقلید میں ملک کو نقصان پہنچائے جا رہے ہیں ۔یہ ملک سیاسی انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ انتشاری سیاست سے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے اور سیاسی عدم استحکام کابراہ راست تعلق معاشی استحکام سے ہے۔جب تک ملک میں سیاسی عدم استحکام نہیں آتا تب تک ملک معاشی طورپر ترقی نہیں کرسکتا ، ہمیں سب سے پہلے پاکستان کا سوچنا چاہیے نہ کہ ان سیاسی بتوں کے بارے میں سوچنا چاہیے جو اپنی ذات کی خاطر ملک کو گدھوں کی طرح نوچ رہے ہیں۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

0