برسلز: کشمیری ڈائس پورہ کو آن لائن رابطے مضبوط کرنے ہوںگے، ویبنار کے مقررین کا خطاب

برسلز (پ۔ر)
کشمیرکونسل یورپ (کے۔سی۔ ای یو) کے زیراہتمام ایک ویبنار کے مقررین نے زور دے کر کہاہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ کشمیری ڈائس پورہ کو بھی آپس میں آن لائن رابطے مضبوط کرنے ہوں گے تاکہ کشمیریوں کی آواز کو دنیا تک پہنچایاجاسکے۔
“ابتک کی کامیابیاں، ناکامیاں اور کوتائیاں ۔ آئندہ کا لایحہ عمل” کے عنوان سے آن لائن سیمینار کے دوران جموں و کشمیر کونسل برائے انسانی حقوق کے صدر ڈاکٹر سید نذیر گیلانی، سابق رکن یورپی پارلیمنٹ شفق محمد، چیئرمین کشمیرکونسل یورپ (کے۔ سی۔ای یو) علی رضا سید، آزادکشمیر پاکستان سے دانشور و محقق ارشاد محمود، برطانیہ سے پروفیسر نذیر تبسم، اٹلی سے فنانشل ڈیلی انٹرنیشنل کے نمائندہ ڈاکٹر ممتازحسین خیال اور سپین ندائے کشمیر کے صدر راجہ مختار سونی نے خطاب کیا۔ سیمینار کے دیگر اہم شرکاء میں کشمیرکونسل ای یو کے سینئر رہنماء چوہدری خالد جوشی بھی شامل تھے۔
مقررین نے حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر بشمول مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو مؤثر انداز میں عالمی فورموں پر اٹھائے۔
ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نذیر گیلانی نے کہاکہ ہمارے پاس اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں جو ہمارے لیے اہم ہتھیار ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی رپورٹیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ پانچ اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز بڑی سیاسی جماعتیں بھی بھارتی اقدام کی وجہ سے بھارت کی مخالف ہوگئی ہیں۔
بھارت نے پچھلے پانچ اگست کو کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کی اور پھر وہاں کی مقامی قانون ساز اسمبلی کو بھی توڑ دیا اور اب وہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے کشمیریوں کی خصوصی شناخت ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
کشمیریوں کے حقوق بری طرح پامال ہورہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں مسئلہ کشمیرکو ایک بار پھر سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی و دیگر عالمی فورموں پر اٹھانے کی ضرورت ہے۔نذیر گیلانی نے کہاکہ بھارتی افواج کشمیری بچوں کو بھی جاسوسی کے لیے استعمال کررہی ہیں جو جنگی جرم ہے۔ ہمیں جواب اس کے مطابق دینا چاہیے۔آزاد کشمیر سے ممتاز دانشور و محقق ارشاد محمود نے بھی کشمیریوں کے آپس میں رابطوں کو مربوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے مسئلے کو عالمی فورموں پر زیادہ سے زیادہ اٹھایا جائے اور اس سلسلے میں کشمیری ڈائس پورہ کے لوگ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ارشاد محمود نے کہاکہ خاص طور پر مغربی ممالک میں کشمیری ڈایس پورہ ایک پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کے اداروں، این جی اوز، سول سوسائٹی اور دیگر اثرو رسوخ حلقوں سے بآسانی رابطہ کرسکتے ہیں۔
انہوں نے پاکستان کے نکتہ کے بارے میں کہاکہ ہمیں پاکستان پر زور دینا چاہیے کہ وہ کشمیرکے بارے میں اپنی پالیسی کو جاری رکھے۔ پاکستان کے آئین کی شق نمبر ۲۵۷ میں کشمیریوں کو مرکزی حاصل ہے۔انھوں نے پاکستان کے ساتھ جموں و کشمیر کے تعلق کے بارے میں پاکستان کے آئین کی اس شق کی اہمیت پرزور دیتے ہوئے کہاکہ فعل الحال اس شق کو چھیڑنے کی ضرورت نہیں۔یادر ہے کہ پاکستان کے آئین کی شق ۲۵۷ میں جموں و کشمیر کے ساتھ پاکستان کے تعلق کے بارے میں بتایا گیا ہے۔سابق رکن یورپی پارلیمنٹ شفق محمد نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے کشمیریوں کے مابین اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے تاکہ عالمی برادری تک کشمیریوں کا پیغام پہنچایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری جس جس ملک میں رہتے ہیں، وہاں کے حکام اور عوام کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ مسئلہ کشمیر خاص طور پر کشمیریوں پر مظالم کے بارے میں آگاہ کرسکیں۔چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے کہاکہ کشمیریوں کے مابین اتحاد و اتفاق ضروری ہے اور مسئلہ کشمیر کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے ایک لایحہ عمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیرکونسل ای یو نے ابتک بے شمار ملاقاتوں، سیمیناروں اور اجتماعات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو یورپ میں اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور اس جدوجہد کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
پروفیسر نذیر تبسم نے کہاکہ ہم اس وقت بڑے تاریخی موڑ پر ہیں۔ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جو کشمیرکاز کے لیے نقصان کا باعث بنے۔ ہماری پوری توجہ ہونی چاہیے کہ کسطرح ہم کشمیرپر آگاہی مہم کو آگے بڑھا سکیں.سیمینار سے اٹلی سے ڈاکٹر ممتاز حسین خیال اور سپین سے راجہ مختار سونی نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے زور دے کہاکہ ان دنوں جب کرونا وائرس کا زور ہے، کشمیریوں کو بھی بدلتے ہوئے حالات کے مطابق حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی اور آپس میں آن لائن رابطوں کو مضبوط اور مربوط بنانا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں