افتخارِتاریخ،رسالتِ مآب ﷺ

shahbaz
تاریخِ انسانی اس بات کی گواہ ہے کہ بہت کم تعدادمیں ایسی بڑی بڑی شخصیات کاظہورہواجنہوں نے انسانوں کی علمی اورعملی زندگی پرگہرے نقوش چھوڑے ،جنہوں نے انسانی زندگی کی مجموعی ساخت کو متاثر کیا ،جنہوں نے انسانوں کے طرزِ فکر اور طرزِ عمل کو بدل ڈالا،جنہوں نے تاریخ میں ایک ہلچل پیدا کی،جنہوں نے تاریخ کواپنے تابع کرتے ہوئےاوراس کے دھارے کوموڑنے کی کوشش کی۔ایسی شخصیات ہی عبقریت اورعظمت کا تاج پہن کر لوگوں کے دلوں میں ایک محترم مقام پیدا کرتی ہیں ۔ایسی شخصیات کی زندگیاں عوام الناس کے لئے قابلِ التفات ہوا کرتی ہیں ۔ان عظیم انسانوں کی تعمیر کس ڈھنگ اور کس پیٹرن پہ ہوئی ہے یہ محققین کے نزدیک قابلِ تحقیق موضوع ہواکرتا ہے۔
ایسی شخصیات کی تعمیرمیں متعدد عوامل کو دخل ہوتاہے۔جن عوامل کا صحیح خطوط پر تفتیش کرنا دشوارتو ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ یہاں پران تمام عوامل کا (جو تعمیرِ شخصیت میں درکار ہوتے ہیں ) ذکر کرنا ضروری نہیں کیونکہ ہمارا موضوع اس سے مختلف ہے۔لیکن ایک خاص عنصر کا بیان کرنا افادیت سے خالی نہیں۔ایک انسان کی شخصیت کی تعمیر میں سب سے زیادہ متاثر کن عنصر وقت ہے۔وقت انسان کی زندگی پر بذریعہ مواقع و احوال اپنا اثر نفوز کر تا ہے۔یہ ایک عام مروّجہ اصول ہے کہ ہر ایک انسان کو اس کی زندگی میں مختلف مواقع (opportunities)حاصل ہوتے ہیں۔ ان مواقع کی قدردانی ایک انسان کو عروج اور ناقدری زوال عطا کرتی ہے۔وہ لوگ جو ان مواقع کا صحیح اور جا ئز استعمال کرتے ہیں وہ ایک منزل دیرسویر پا ہی لیتے ہیں اور یہ منزل ان کی شخصیت کی پہچان بن جاتی ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ جو سستی، کاہلی اور نااہلی کا دامن نہیں چھوڑتے، وہ نتیجتاً مواقع کا صحیح استعمال نہ کرنے کے نتیجے میں اپنی فطری شخصیت کو ناکامی کی جھریوں میں چھپا دیتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے معاشرے کے لیے تو دور کی بات اپنے اہل خانہ کے لیے بھی ایک مثالی کردار ظاہر نہیں کر پاتے ۔ عروج وزوال کا یہ قاعدہ انسانی تاریخ میں بڑے پیمانے پر مروّج رہا ہے۔
انسانی تاریخ نے عظیم مفکروں، فلسفیوں،سائنسدانوں ،قانون دانوں,سیاستدانوں ،فاتحین ،بادشاہوں وغیرہ کے نام اپنے صفحات پر رقم کیے ہیں۔ ان مرقم ناموں کے پیچھے ایک عام اور یکساں اصول کار فرما رہا ہے وہ ہے مواقع کا صحیح استعمال ۔ان شخصیات نے اپنے مواقع کا صحیح استعمال کرکے اپنے آپ کو بامِ عروج تک پہنچایااوردنیاکوقیمتی تحائف پیش کیے۔تاریخ ان لوگوں کے کارناموں کو کبھی نہیں بھولےگی۔لیکن ان مشاہیرِعالم میں سے کوئی بھی مواقع، حالات اور واقعات کا موجد نہیں رہا ہے۔بلکہ صحیح ترین بات تو یہ ہے کہ وہ مواقع، حالات اور واقعات کی پیداوارہیں۔حالات وواقعات نے ان کی شخصیات کو تعمیر کیاہے۔انہوں نے جس فیلڈ میں بھی نام کمایا اس میں انھیں پہلے سے ہی روایات اورذخائردستیاب تھے،تصورات و نظریات کے ذخائرموجودتھے،پس مناظر موجود تھے جن کی بنیاد پر تعمیر کرنا نہایت آسان تھا۔حالات کی موافقت اور مواد کی فراونی نے انھیں بڑا آدمی بنایا ۔لیکن اگر کوئی انسان حالات کی ناموافقت اورمواد کی عدم دستیابی کے باوجود حالات اورموادخود پیداکرتاہے تو کیاان تمام بڑے لوگوں کے مقابلے میں وہ عظیم ترکہلانے کاحقدارنہیں ہوسکتا ہے؟ بالکل وہ رجل عظیم عظیم تر کہلانے کا حقدار ہے اور اس رجلِ عظیم کو دنیا کا سب سے بڑا آدمی ماننا انسانیت پر فرض ہے۔
اس محدود دنیا کے متفقہ اصول و ضوابط کے مطابق وہ شخصیت اتنی ہی عظیم مانی جائے گی جس نے عدم سے ہر چیز کا آغاز کیا ہو،مواقع اس نے خود پیدا کیے ہوں ،ذرایع اس نے خود پیدا کیے ہوں اور سب سے بڑھ کر اس کی ذات ان تمام عوامل کی تاثیرسے مبرارہی ہوجودیگرشخصیات کے بننے میں جزوِلاینفک کی حیثیت رکھتے ہوں ۔دنیا کی جس بڑی شخصیت کا بھی آپ مطالعہ کریں گے تو انحصار علی العوامل آپ ضرور پائیں گے۔ لیکن اس عام عملِ تعمیر سے مبرا صرف محمد رسول اللہ ﷺکی شخصیتِ مبارکہ ہے۔ڈاکٹرمحمود احمدغازی لکھتے ہیں”بالکل آغازسے تعمیرہویہ کارنامہ حضور ﷺ کے علاوہ کسی نے نہیں کیا۔یہاں قریب قریب عدم سے ہر چیز کا آغاز ہوا ہے “۔دوسری بات جو دنیا کی ان بڑی شخصیات کے متعلق ہے وہ یہ کہ ان میں سے ہر ایک اپنےاپنے میدان کا شہسواروماہرمانااورجاناجاتاہے۔ان میں سے ہر ایک نے اپنی صلاحیتوں کا رس زندگی کے صرف ایک رخ کو سمجھنے میں صرف کیا ہے۔وہ زندگی کے ایک شعبہ میں ماہر تو ہیں لیکن دوسرے شعبہ جات میں نہ کہ وہ صرف انجان ہیں بلکہ عاجز ہیں کہ وہ کوشیش کرنے کے باوجود دوسرے شعبہ جات میں نام کما نہیں سکے۔گرچہ وہ اپنے اپنے مخصوص شعبہ جات میں ایک سند کا مقام رکھتے ہوں لیکن انسانوں کی کامل راہنمائی کے لیے مثالِ کامل کا درجہ ان کو حاصل نہیں ۔کیونکہ انسانی زندگی کے ہر پہلو میں راہبری کے مقام پر فائز ہونے کے لیے نہایت ہی غیرمعمولی متوازن ،متکامل اور متناسب شخصیت درکار ہے ایسی شخصیت انسانوں کی دنیا میں سوائے انبیاء ورسل کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتی ۔حضرت ﷺ پوری تاریخ میں اکملیت کے اعلیٰ اور اخلاقی ممکنات کےانتہا کن مقام پر فائز ہوئے اور آخری رسول و رحمتہ اللعالمین کے لقب سے ملقب ہوکرمبعوث کیے گیے۔جن کی شخصیتِ مطہرہ مائکل ہارٹ کی زبانی مادی وروحانی دونوں سطحوں پرکامیاب ترین رہی۔ حضور کی حیاتِ طیبہ جامعیت ،ہمہ گیریت اور وسعت کو سموئے ہوئے ایک اکمل مثال کے طور پر ہمارے سامنے ہےﺣﻀﻮﺭؐﮐﯽ ﺣﯿﺎتِ ﻃﯿﺒﮧ ﺟﺎﻣﻌﯿﺖ ، ﮨﻤﮧ گیریت ﺍﻭﺭ ﻭﺳﻌﺖ ﮐﻮ ﺳﻤﻮﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﮐﻤﻞمثال کے طور پر ہمارے سامنے ہےجو انسانی دنیا کی گوناگونی ،حسن و خوبصورتی اور جمال و کمال میں ممکنہ حد تک اضافہ کرنے کی اہل ہے۔ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﺟﺲ آخری ﮐﻤﺎﻝ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﯽﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﮨﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻮﮦ ﮔﺮ ﮨﮯ۔مولانا نعیم صدیقی اپنی کتاب “محسنِ انسانیت ” میں رقمطراز ہیں:
دنیا میں بڑے آدمی ہو ئے اور ہوتے ہیں۔بڑے لوگ وہ ہیں جنہوں نے کوئی اچھی تعلیم اور کوئی تعمیری فکر پیش کردی۔ وہ بھی ہیں جنہوں نے اخلاق و قانون کے نظام سوچے۔ وہ بھی ہیں جنہوں نے اصلاحِ معاشرہ کے کام کیے ،وہ بھی ہیں جنہوں نے ملک فتح کیے اور بہادرانہ کاموں کی میراث چھوڑ دی۔وہ بھی ہیں جنہوں نے سلطنتیں چلائیں۔وہ بھی ہیں جنہوں نے فقر و درویشی کے عجیب عجیب نمونے ہمارے سامنے پیش کیے۔وہ بھی ہیں جنہوں نے دنیا کے سامنے انفرادی اخلاق کا اونچے سے اونچا معیار قائم کر دکھایا۔ مگر ایسے بڑے آدمیوں کی زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو بالعموم یہی دیکھتے ہیں کہ ان کی قوتوں کاسارارس کسی ایک شاخ نے چوس لیا اور باقی ساری ٹہنیاں سوکھی رہ گئیں۔ ایک پہلو بہت زیادہ روشن ملتا ہے تو ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﭘﮩﻠﻮ ﺗﺎﺭﯾﮏ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽﺩﯾﺘﺎﮨﮯ۔ایک طرف افراط ہے تو دوسری طرف تفریط۔ لیکن نبی ﷺ کی زندگی کا ہر گوشہ دوسرے گوشوں کے ساتھ پوری طرف متوازن بھی ہے اورپھرہرگوشہ ایک ہی کمال کا نمونہ ہے۔جلال ہے تو جمال بھی ہے۔روحانیت ہے تو مادیت بھی ہے۔معاد ہے تو معاش بھی ہے۔دین ہے تو دنیا بھی ہے۔ایک گونہ بے خودی بھی ہے مگر اس کے اندر خودی بھی کار فرما ہے۔خدا کی عبادت ہے تو اس کے ساتھ بندوں کے لیے محبت اور شفقت بھی ہے۔کڑا اجتماعی نظم بھی ہے تو فرد کے حقوق کا احترام بھی ہے۔گہری مذہبیت ہے تو دوسری طرف ہمہ گیر سیاست بھی ہے۔ قوم کی قیادت میں انہماک ہے مگر ساتھ ساتھ ازدواجی زندگی کا بکھیڑا بھی نہایت خوبصورتی کے ساتھ چل رہا ہے۔مظلوموں کی داد رسی ہے تو ظالموں کا ہاتھ پکڑنے کا اہتمام بھی ہے۔” ایک غیر مسلم دانشور پروفیسر ،ایس۔ کے ۔راما کرشنا راو نے اپنی کتاب کے چھوتھے سبق میں ایک عنوان باندھا ہے “انسانی زندگی کے لیے مکمل نمونہ” جس کے تحت وہ لکھتے ہیں؛
حضرت محمد ﷺ کی ہمہ گیر شخصیت کا احاطہ کرنا میرے لیےتقریباً ناممکن ہے۔میں تو صرف اس کی ایک جھلک دیکھ سکتا ہوں۔ آپ کی شخصیت کی جھلکیں دل آویز اورمختلف النوع مظاہرہیں!حضرت محمدﷺبحیثیت سپہ سالار ,حکمراں ،جنگ آزما،تاجر،معلم،فلسفی،سیاستدان،خطیب ،یتیموں کے مربی، غلاموں کے محافظ،عورتوں کے نجاتِ دہندہ ،منصف اورخدا رسیدہ انسان اور ان تمام شاندار کرداروں میں اور انسانی سرگرمیوں کے ان تمام شعبوں میں آپ قابلِ رشک شخصیت کے مالک ہیں ” اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کے کارنامے زندگی کے کسی ایک پہلو تک محدود نہیں بلکہ تمام شعبہ جاتِ۔حیات پر محیط ہیں ۔
عرب کی سرزمین پر انسان تہذیب و تمدن اور اخلاق و کردار کے تصور سے خالی تھا۔ وہاں کوئی ایک آدمی بھی اسلام سے پہلے انسانی زندگی کے نمایاں شعبہ جات میں نام نہ کما سکاتھا۔ یہی وجہ تھی کہ عرب کی سرزمین پر کوئی معروف حکمران ،سیاستدان ،فلسفی ،سائنسدان ،ریاضی دان وغیرہ نہ ابھر سکا۔گرچہ علم الانساب ،شعروشاعری میں وہ ایک مقام رکھتے تھے۔ لیکن یہ چیزیں عالمی ہونے کے بدلے مقامی اثر رکھتی تھیں۔ وہ لوگ اکرامِ انسانیت جیسی اعلی اقدار سے یکسر غافل تھے اسی لیے جنگ وجدال اور قتل و غارت وہاں کی جاہلی تہذیب کا حصہ تھیں ۔انفرادی سطح پر وہاں کی اکثریت احساسِ کمتری کا شکار ہو کر شرک و بت پرستی میں مبتلا تھے۔انھوں نے ہر بڑی چیز کو مقدس بنا کر اس کو اپنا خدا بنایا ہوا تھا۔ چاند،سورج،پہاڑ،بڑاسا پتھر،دریا،آگ اور دیگر اس قسم کی چیزوں کے ساتھ تقدیس کے عنصر کو منسلک کر کے گویا تحقیق و تدقیق کا دروازہ ہی بند کردیاتھا۔یہ صرف عرب کا ہی حال نہ تھا بلکہ پوری دنیا اس غلط فہمی کا شکار تھی۔ جس کی وجہ سے عرب خصوصی طور پر اور پوری دنیا عمومی طور پر مکمل جہالت کے اندھیرے میں سانسیں لے رہی تھی۔جہاں تک عرب کا تعلق تھا کوئی بھی عربی سلطنت اس قسم کے حالات میں مستقبل میں قائم ہونے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔آمریکہ کا معروف مؤرخ و فلسفیWill Durant اسی ضمن میں اپنی کتاب The story of civilizations میں لکھتا ہے.
565عیسوی میں ایک بہت بڑی سلطنت کا ماسٹر، جسٹینین مر جاتا ہے ۔اس کے پانچ سال بعد ایک بہت بڑے صحرا( جو صرف خانہ بدوش اور قبائلی لوگوں کا مسکن تھا )کے غریب خاندان میں حضرت محمد ﷺ پیدا ہوتے ہیں۔ جہاں کی پوری آمدنی سینٹ صوفیا کے معبد کی پوری آمدنی کے برابر بھی بہ مشکل تھی۔اس وقت کسی نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک صدی کے اندر اندر یہ قبائلی اور خانہ بدوش لوگ بازنطینی ایشیاء ،پورے ایران ،مصر ،شمالی افریقہ اورسپین کوفتح کریں گے۔ جزیرہ نما عرب کی موجِ ظفر کا سرعت کے ساتھ پھیلنا اور آدھی سے زیادہ خشک دنیا کو تبدیل کرنا قرونِ وسطی کی دنیا کا نہایت عجیب و غریب معاملہ ہے”۔
وہاں پر ایک بااخلاق معاشرہ بننے کا کوئی بھی امکان نہیں تھا۔ المختصر عرب پورا کا پورا علمی صحرا اور عملی میدانِ حر ب بنا ہوا تھا۔عرب کے ساتھ ساتھ پوری دنیاعلمی وعملی گمراہیوں میں گرفتار تھی۔دنیا کی اس وقت کی صورتحال کا صحیح نقشہ آپ ایک غیر مسلم اسکالر سوامی لکشمن پرشاد مصنف” عرب کا چاند” کے قلم سےملاحظہ فرمائیں:
“دنیا کا نظام تہذیب وتمدن بگڑ چکا تھا۔ اخلاق وشرافت کے تمام آئین وقوانین درہم برہم ہوچکے تھے۔ ہر طرف جورواستبداد کی فرمانروائی تھی۔ہرسمت ظلم و ستم کی حکمرانی تھی۔وہ دل جو اس لیے بنے تھے کہ انوارالہیہ پرتوفگن ہوں،ضلالت و جہالت کی تاریکیوں سے معمور تھے۔خدا کی وفاداری کے معاہدے عصیاں کار لوگوں نے ایک ایک کرکے توڑ دیے تھے۔کوئی گردن نہ تھی جو اس کے آستانہ جلال و جبروت اور دہلیز رحم و کرم پرنگوں ہو۔کوئی سر نہ تھا جو اس شانِ قدوسیت کا اقرار کرے ۔وہ پیشانیاں جن پر خلافتِا الہیہ کی در خشاں مہر لگ چکی تھی اور جو صرف ایک خدایے بزرگ و برتر کے حضور میں جھکنے کے لئے بنائی گئی تھیں ،دنیا کی ہر قاہرو ظالم طاقت کے سامنے نہایت ذلت سے سجدہ ریز تھیں”۔
اب ایک عام سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تاریخِ انسانی میں کوئی ایسی شخصیت رہی ہے جس نے علمی وعملی دونوں اعتبارات سے مثالِ کامل پیدا کی ہو؟ جس نے نوعِ انسانی کی غیرمعمولی خدمت کی ہو؟جس نے انسانوں کی بھلائی کے لیے ان کی حقیقی محبت میں سب کچھ قربان کر دیا ہو؟جس نے انسانیت کی اصلی وصحیح بقا کے لیے بے مثال نظام حیات پیش کیا ہو جس کے ماننے میں ہی انسان کی اصل کامیابی ہو؟جس نے لوگوں کی بھلائی کے لیے پتھر کھائے مار پیٹ برداشت کی ؟ ہر قسم کی ایذا اور تکلیف کو صرف لوگوں کی حقیقی کامیابی کے لیے برداشت کیا اور اپنے کسی سیاسی ،سماجی اور معاشی فائدے کے لیے ایک لمحہ ذرا برابر بھی وقت صرف نہ کیا ہو؟جس نے حقیقت میں دنیا والوں کو اپنے رب سے آشنا کیا ہو ؟اس قسم کی شخصیت کا انتخاب کرنے کے لیے تاریخ کی عظیم شخصیات کا مطالعہ ناگزیر ہے۔وہ مطالعہ بلا تعصب و تنگ نظری اور اعلی اخلاقی اقدار کو ملحوظ رکھ کے کیا جانا چاہئے۔ اس قسم کا ایک ناقدانہ مطالعہ مائیکل ہارٹ نے کیا اور اپنی کتاب میں پہلا نمبر محمد رسول اللہ صلی الله عليه وسلم کو دیا۔ پروفیسر ہیٹی نے کیا اور حضور صلی الله عليه وسلم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔تمام انصاف پسند مشرقی ومغربی قلمکار رسالت مآب صلی الله عليه وسلم کو تاریخ اسلامی کی منفرد شخصیت کہتے ہیں جو انسانی تاریخ پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوئے۔ سوامی لکشمن پرشاد نے آپ صلی الله عليه وسلم پر ایک عاشقانہ انداز میں کتاب تصنیف کر ڈالی اور انھوں نے اپنے ایک ہندو دوست کی فرمائش کو کہ” آپ سوامی دیا نند کی سوانح عمری لکھ کر دیں” مگر سوامی لکشمن نے یہ کہہ کر انکار کر دیا “میں سوامی دیا نند کو اس قابل نہیں خیال کرتا کہ اس کی زندگی کے حالات قلمبند کرنے کے لیے قلم کو حرکت میں لاؤں”۔انسائیکلوپیڈیا آف بریٹینیکا کے مطابق محمد رسول اللہ ہی تمام مذہبی شخصیات میں کامیاب ترین رہے ہیں۔Major A leonard اپنی کتاب(Islam, its Moral and Spiritual Values, p۔ 9)میں لکھتے ہیں :
“اگر دنیا میں کبھی کسی نے خدا کو پہچانا ہو۔اگر کسی نے اپنے پورے خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ خالص خدا کی رضا کے لیے جدوجہد کی ہے تو ایسی شخصیت بلا شبہ و شک صرف عرب کے پیغمبر محمد ﷺ ہی ہیں”۔ “۔
آپ کی بعثت کے بعد ہی دنیا میں روشن خیالی کا دور شروع ہوا۔ آپ ﷺ کے بعد مسلمانوں نے ہر فیلڈ میں عظیم نام پیدا کیے:صحابہ جیسی شخصیات جنہیں ہیٹی نےnursery of heroes کا خطاب دیا ہے۔ابنِ سینا،ابنِ رشد،ابنِ خلدون ،ابن الہیثم،جابربن حیان ،امام غزالی ،امام ابن تیمیہ،شیخ عبدالحق محدث دہلوی ،صلاح الدین ایوبی،سلطان غزنوی ،مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ اقبال ،علامہ مودودی وغیرہ۔حضور ﷺ کی سیرت و پیغام کے یہ قیمتی تحائف ہیں جو انسانیت کو حاصل ہوئے۔ حضور ﷺ تاریخ کی واحد ایک منفرد شخصیت ہیں جو تاریخی طور پر ثابت شدہ ہیں۔ باقی تمام تاریخی شخصیات اوہام وخرافات کے جال کے اندر کہیں پوشیدہ ہیں۔پلیٹو و ارسطو نام کے لوگ رہے ہیں کہ نہیں رہیں ہیں کوئی مستند ثبوت نہیں ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ تاریخ کے اٹل اصولوں کے مطابق جو شخصیت اترتی ہے وہ صرف محمد رسول اللہ ﷺ ہے۔تاریخ جن کے وجودِ مبارکہ کی وجہ سے اپنا وجودِ حقیقی برقرار رکھ سکی ہے وہ آپ رسول اللہ ﷺ ہی ہیں۔آپ ﷺ تاریخ کا افتخار ہیں۔ آپ وہ ہیں جن پر تاریخ خود فخر وناز کرتی ہے۔فداک امی وابی یا رسول اللہ ﷺ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں