عَلامہ محمد اقبالؒ اور حقیقی آزادی

جب تک لا اِلٰہ کا مفہوم سمجھ میں نہ آ جائے انسان اپنے آپ کو غیر اللہ کی غلامی سے آزاد نہیں کر سکتا۔جو قومیں اس وقت غیر اللہ کی غلامی میں گرفتار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لا اِلٰہ کے حقیقی مفہوم سے ناآشنا ہیں۔ لا اِلٰہ کا مطلب یہ نہیں کہ ’’کوئی دوسرا خدا نہیں‘‘ بلکہ ’’کوئی طاقت نہیں جو مجھ پر حکمران ہو سکے‘‘ اور جب کوئی قوم اس حقیقت کو سمجھ لیتی ہے کہ کائنات میں کوئی طاقت (انسان ‘ حیوان‘ کوہ و دریا‘ شمس و قمر‘ آسمان و زمین‘ شجر و حجر) مجھ سے بالاتر نہیں ہے تویہ عقیدہ اس میں اس قدر قوت پیدا کر دیتا ہے کہ وہ غیر اللہ کی غلامی سے آزاد ہو جاتی ہے۔عنوان زیرِ بحث (لَا اِلٰہ الا للہ) کے تحت‘ علامہؒ نے اس مثنوی میں آئندہ جس قدر اشعار لکھے ہیں وہ سب شعر مذکورہ بالا کی تعریف ہیں۔ یعنی انہوں نے خود رمزلا اِلٰہ کی وضاحت فرمائی ہے۔

در جہاں آغازِ کار از حرف لاست

ایں نخستیں منزلِ مردِ خداست

دنیا میں انسان کی زندگی کا آغاز حرف لا سے ہوتا ہے یعنی یہ عقیدہ کہ کوئی معبود نہیں ‘ ایک موحد کی زندگی کی پہلی منزل ہے۔(صرف ایک خدا ہے جو معبود ہے‘ یہ دوسری منزل ہے) یعنی اس کی زندگی کی تمام فعالیت (Activity) اس بنیادی حقیقت پر مبنی ہے کہ کائنات میں نہ کوئی طاقت مجھ پر حکمران ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ ہو اس لیے نہیں سکتی کہ اس کائنات میں قوت کا مظہر اتم‘ انسان ہے اور سب انسان میری طرح مخلوق اور محتاج الی الغیر ہیں، پس کسی انسان کو مجھ پر حکومت کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

ملّتے کز سوزِ او یک دم تپید

از گلِ خود ‘ خویش را باز آفرید

جو قوم اس حقیقت سے آگاہ ہو جاتی ہے ‘ وہ ازسرِ نو زندگی اور توانائی حاصل کر لیتی ہے یعنی عقیدۂ لا اِلٰہ سر بلندی کا ضامن ہے۔

پیشِ غیر اللہ لا گفتن‘ حیات

تازہ از ہنگامہ او‘ کائنات

اگر کوئی قوم زندگی کی طالب ہو تو اسے غیر اللہ‘ کے سامنے لا اِلٰہ کا نعرہ بلند کرنا چاہیے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ کسی قوم کے زندہ ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ وہ غیر اللہ کے سامنے لا الٰہ کہہ سکے۔ اگر نہیں کہہ سکتی تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ میں زندہ نہیں ہوں۔ زندگی یا زندہ ہونے کی صورت یہی ہے کہ وہ غیر اللہ کی اطاعت سے انکار کر دے، اس اعلان سے ہنگامہ پیدا ہونا یقینی ہے لیکن اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کائنات ازسرِ نو جوان ہو جائے گی ‘کیونکہ اس کائنات کی تمام رونق اور تازگی اسی نعرہ کے دم سے وابستہ ہے۔

جذبۂ او در دل یک زندہ مرد

می کند صد رہ نشیں را رہ نورد

اگر یہ جذبہ کہ میں غیر اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کروں گا ‘کسی ایک زندہ مرد کے دل میں پیدا ہو جائے تو وہ ہزاروں انسانوں کو بیدار کر سکتا ہے۔ یعنی حرف لا اِلٰہ میں اس قدر طاقت پوشیدہ ہے کہ صرف ایک انسان سارے ملک میں انقلاب پیدا کر سکتا ہے بشرطیکہ یعنی حرف لا اِلٰہ میں اس قدر طاقت پوشیدہ ہے کہ صرف ایک انسان سارے ملک میں انقلاب پیدا کر سکتا ہے کا سوز دل میں جاگزیں ہو جائے۔

1919 ء میں ‘ حقہ بازانِ فرنگ نے ‘ ترکوں کو غلامی کی موت سے ہم آغوش کر دیا۔ لیکن مصطفٰے کمال نے غیر اللہ کے سامنے یعنی حرف لا اِلٰہ میں اس قدر طاقت پوشیدہ ہے کہ صرف ایک انسان سارے ملک میں انقلاب پیدا کر سکتا ہے کا نعرہ بلند کیا۔ چونکہ وہ لا الٰہ کی قوت سے آشنا تھا اس لیے اس نے چشم زدن میں لاکھوں ‘ رہ نشینوں کو رہ نورد بنا دیا اور ۱۹۲۲ء میں‘ اس کی قوم نے ازسرِنو زندگی حاصل کر لی۔

بیشک ہزاروں بلکہ لاکھوں ترکوں نے جامِ فنا نوش کیا‘ لیکن ان افراد نے اپنی جان دے کر قوم کو زندہ کر دیا۔آئینِ فطرت یہی ہے۔

اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے

کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

بندہ را با خواجہ خواہی درستیز

تخم لا در مشتِ خاکے او بہ ریز

اگر تم غلاموں کو آقائوں کے مقابلہ میں صف آرا کرنا چاہتے ہو تو ان کو یعنی حرف لا اِلٰہ میں اس قدر طاقت پوشیدہ ہے کہ صرف ایک انسان سارے ملک میں انقلاب پیدا کر سکتا ہے ،کا مفہوم سمجھا دو۔ یقینا وہ غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لیے آمادہ ہو جائیں گے۔

(الف):ہندی مسلمانوں کی حالت کیا ہے؟

از غلامی فطرت او‘ دوں شدہ

نغمہ ہا اندر نئے او‘ خوں شدہ

(ب):یہ حالتِ زار کیوں ہے؟

از سہ قرن ایں امت خوار و زبوں

زندہ بے سوز و سرورِ اندروں

یعنی اس لیے کہ وہ لا الٰہ کے مفہوم سے بیگانہ ہو چکے ہیں۔

(ج) :بیگانہ کیوں ہیں؟

چار مرگ اندر پئے ایں دیر میر

سود خور و والی و ملّا و پیر

یعنی اس لیے کہ اربابِ اقتدار ہر وقت اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ مسلمانوں کے دل میں‘ توحید کا حقیقی مفہوم جاگزیں نہ ہو پائے‘ کیونکہ پھر ان اربابِ اقتدار کا ٹھکانہ یا بحرِ عرب ہو گا یا خلیج بنگالہ۔

(د):توحید سے مسلمانوں کو بیگانہ رکھنے کے لیے کیاتدبیر کی گئی! ملّائوں اور پیروں نے انہیں فقہ اور علمِ کلام کی بحثوں میں الجھا دیا۔

زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی

آج کیا ہے؟ فقط اک مسئلہ علمِ کلام

ہندوستان کی دیگر اقوام آج بھی آزادی حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن وہاں بھی کروڑوں رسمی مسلمان اپنی اپنی اغراض میں گم ہیں۔ ہندوستان میں تکفیر و تفسیق کا بازار گرم ہے اور ہندوئوں کاآئینۂ ضمیر تاریک ہو چکا ہے۔

باقی نہ رہی تجھ میں وہ آئینۂ ضمیری

اے کشتۂ سلطانی و ملاّئی و پیری

’’کفار‘‘ جہداللبقاء میں مصروف ہیں۔ کچھ لوگ اسلام کی رسوائی کے درپے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کے دماغوں میں مختلف اقسام کے بت جا گزیں ہیں۔‘ قرآنِ مجید کا مصرف صرف اس قدر ہے کہ

کہ از یسٰینِ او‘ آساں بہ میرند

دراصل شخصیت پرستی کا بازار گرم ہے، عقلِ سلیم معطل ہوچکی ہے۔ غور و فکر کا مادہ فنا ہو چکا ہے۔ پانی پت اور کرنال دونوں شہروں میں ایک حاملِ توحید کا مزار بنا ہوا ہے اور کوئی مسلمان اتنا نہیں سوچتا بلکہ سوچ نہیں سکتا کہ ایک شخص دو مزاروں میں کس طرح دفن ہو سکتا ہے؟ ایک مذہب کے لوگ خدا کا بیٹا مان کر شرک کرتے ہیں۔ میں نے بچشمِ خود دیکھا ہے کہ کچھ مسلمانوں نے ایک انسان کو غیر انسانی صفات سے متصف کر دیا۔ وہ پانی پت میں بھی ہے اور کرنالؔ میں بھی ۔

سمجھ میں نکتۂ توحید آ تو سکتا ہے

ترے دماغ میں بتخانہ ہو تو کیا کہے

(اقبالؔ)

اپنا تبصرہ بھیجیں