زرداری اسامہ کی ہلاکت کا سن کر خو ش ہو ئے :اوباما

امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے اپنی آپ بیتی میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کو اسامہ بن لادن کے قتل کیلئے کی گئی امریکی کارروائی کی خبر دینا توقع سے زیادہ آسان ثابت ہوا کیوں کہ اس وقت کے صدر آصف علی زرداری امریکی صورتحال کو سمجھتے تھے ۔باراک اوباما نے ’’ اے پرامس لینڈ‘‘نامی کتاب میں لکھا وہ جانتے تھے کہ ایک اتحادی ریاست میں فوجی حملے کا حکم دینا اس کی سالمیت کی خلاف ورزی ہے لیکن انہوں نے پھر بھی ایبٹ آباد آپریشن کی اجازت دی کیوں کہ وہ القاعدہ کے رہنما کے خاتمے کا موقع کھونا نہیں چاہتے تھے ۔سابق امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ ان کے قریبی ساتھی جو بائیڈن اور وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے اس کارروائی کی مخالفت کی تھی۔اوباما نے لکھا کہ آصف زرداری اسامہ کی ہلاکت کا سن کر خو ش ہو ئے ،انہوں نے حقیقی جذبات کا اظہار کیا اور یاد کیا کہ کس طرح القاعدہ سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں نے ان کی شریک حیات بینظیر بھٹو کو قتل کیا تھا ۔سابق امریکی صدر نے لکھا واقعہ کے بعد میرا خیال تھا کہ مشکلات میں گھرے پاکستان کے صدر کو کی گئی کال سب سے مشکل ثابت ہوگی جنہیں لازمی طور پر پاکستان کی سالمیت کی خلاف ورزی پر ملک میں مخالفت کا سامنا ہوگا،تاہم جب میں نے انہیں کال کی توانہوں نے مبارکباد دی اور کہا چاہے جو بھی نتیجہ ہو یہ بہت اچھی خبر ہے ۔یاد رہے امریکی کمانڈوز نے 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد کے کمپائونڈ میں کارروائی کر کے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کوہلاک کردیاتھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں