جاپان میں حقیقی چہروں والے ماسک مقبول ہونے لگے

ٹوکیو: کورونا وائرس نے پوری دنیا کے لوگوں کو ماسک سے منہ چھپانے پر مجبور کردیا ہے لیکن اس تناظر میں جاپان میں اجنبی انسانی چہروں والے مکمل حقیقی ماسک کی فروخت میں عوامی دلچسپی بڑھ گئی ہے۔

سہ جہتی ماسک سوہائے اوکاوارا کی تخلیق ہیں اور ان کے ماسک کورونا وائرس کو تو نہیں روک سکتے لیکن یہ ماسک جاپان کے اصل باشندوں کے تھری ڈی پرنٹر سے چھاپے گئے چہرے ہیں جنہیں آپ بلاخوف استعمال کرسکتے ہیں۔ سوہائے کے مطابق بعض لوگ اپنے چہرے سے مطمئن نہیں ہوتے اور ہم نے سائنس فکشن فلموں میں لوگوں کو چہرے بدلتے دیکھا ہے۔ شاید یہ انسانی خواہش ہے اور اسی وجہ سے انہوں حقیقی چہروں والے ماسک بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوہائے کے مطابق وہ کئی چہرے ڈراموں اور تھیٹر کے لیے تیار کرچکے ہیں لیکن اب وہ عام افراد کے لئے بھی مردوخواتین کے حقیقی ماسک بنارہے ہیں جس کی قیمت 950 ڈالر یعنی پاکستانی ڈیڑھ لاکھ روپے کے برابر ہے۔ لیکن وہ جس ماڈل کا انجٹاب کرتے ہیں اسے تقریباً نصف قیمت ادا کرتے ہیں۔

اس سال اکتوبر میں انہوں نے لوگوں سے آن لائن درخواست کی کہ اگر وہ اپنے چہرے کے ماسک بنا کر انہیں دوسروں کو دینے کی اجازت دینا چاہتے ہیں تو رابط کریں۔ اس ضمن میں 100 خواتین اور مرد نے انہیں اپنی تصاویر بھیجیں جن میں سے بعض چہروں کو منتخب کرلیا گیا اور ان کے تھری ڈی ماسک چھاپے گئے۔

ان کے گاہکوں میں ایسے لوگ زیادہ ہیں جو حقیقی انسانی ماسک کو بطور ایک تحفہ خریدنا چاہت ہیں۔ اب وہ دنیا بھر کے لوگوں سے ان کے چہروں کے ماسک بنانے کی درخواست کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں