حقیقی انقلاب

پہلے درویشی کی روش اختیارکرو اور اپنا کام کرتے رہو۔ دعوت و تبلیغ میں لگے رہو۔ کوئی پاگل کہے یا کوئی گالی دے تو اسے جواب میں دعا دو۔ یہ درویشی ہے گویا بدھ مت کے بھکشو بنے ہوئے ہیں۔ مارا جا رہا ہے تو جواب نہیں دے رہے ہیں اور جب تیار ہو جائو یعنی تعداد بھی کافی ہو، ٹریننگ بھی صحیح ہو چکی ہو، ڈسپلن کے بھی پابند ہو جائیں اور ہر شے قربان کرنے کو تیار ہوں تو اب اپنے آپ کو موجود الوقت نظام کے ساتھ ٹکرا دو۔ اس ٹکرائو کے بغیر انقلاب نہیں آتا، وعظ سے انقلاب نہیں آیا کرتا۔ ٹکرائو میں جانیں جائیں گی خون دینا پڑے گا، ٹھنڈے ٹھنڈے انقلاب نہیں آتے۔

6 مراحل کے علاوہ انقلاب کا ساتواں مرحلہ بھی ہے اور یہ ایک حقیقی انقلاب کا Litmus ہے۔ ایک حقیقی انقلاب کبھی بھی اپنی جغرافیائی یا قوم و ملکی اور حکومتی سرحدوں کے اندر محدود نہیں رہتا کیونکہ اگر انقلابی نظریہ زور دار، قوی، مضبوط مدلل اور مبرہن ہے تو یہ لوگوں کے قلوب و اذہان کو اپنی گرفت میں لے گا۔ چنانچہ حقیقی انقلاب لازماً برآمد (Export) ہوتا ہے وہ اپنی حدود میں نہیں رہ سکتا۔

یہ ہے انقلابی عمل کا وہ خاکہ جسے میں نے سیرت نبویﷺ سے اخذ کیا ہے لیکن دینی اصطلاحات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے عمومی انداز میں آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔ اب ہم آپ اس خاکے میں سیرت نبویؐ اور انقلابِ نبوی ؐکا رنگ بھرتے ہیں۔

رسول انقلابﷺ کا انقلابی نظریہ

حضور اکرمﷺ کا انقلابی نظریہ کیا ہے؟ اسے ایک لفظ میں بیان کریں تو وہ ہے ’’توحید‘‘ جس کے بارے میں علامہ اقبالؒ کہتے ہیں:

زندہ قوت تھی زمانے میں یہ توحید کبھی

اور اب کیا ہے، فقط اک مسئلہ علم کلام!

جو کبھی انقلابی نظریہ تھا وہ آج ایک مذہبی بحث و نزاع کا موضوع بن کر رہ گیا ہے۔ اب اس نظرئیے کے جو انقلابی نتائج و مضمرات ہیں ذرا ان پر ایک نظر ڈال لیں۔

انسانی حاکمیت کی بجائے خلافت

میں نے عرض کیا تھا کہ انقلابی نظرئیے کی سب سے پہلی خصوصیت یہ ہونی چاہیے کہ وہ موجود الوقت نظام کی جڑوں پر تیشہ بن کر گرے نظریۂ توحید میں سب سے پہلی بات اللہ کی حاکمیت ہے اللہ کی زمین پر نہ کوئی انسان حاکم ہے اور نہ کوئی قوم حاکم ہے۔ ان الحکم الاللہ

نظریۂ توحید انسانی حاکمیت کی ہر شکل میں نفی کرتا ہے۔ انسانی حاکمیت نہ تو فرد واحد کی بادشاہت کی شکل میں قابل قبول ہے نہ کسی قوم کی دوسری قوم پر حاکمیت کی شکل میں، حاکمیت کا حق صرف اللہ تعالیٰ کا ہے اور انسان کیلئے خلافت ہے، حاکمیت کی دوسری تمام صورتیں شرک ہیں۔ شارح (قانون ساز) صرف اللہ تعالیٰ ہے اور رسول اکرمﷺ اس کے نمائندے ہیں۔ اب بتایئے اس سے بڑا کوئی انقلابی نعرہ ہو گا؟

ملکیت کی بجائے امانت

توحید کا دوسرا تقاضا یہ ہے کہ ہر شے کا مالکِ حقیقی اللہ ہے۔ یہ انقلابی نعرہ سیاسی نظام کی جڑوں پر تیشے کی طرح گرتا ہے۔کوئی شخص کسی شے کا مالک نہیں ہے‘نہ انفرادی طور پرنہ قومی طور پر۔اس طرح سرمایہ داری کی بھی نفی ہو گئی اور کمیونزم کی بھی۔مالک صرف وہ ہے :

ترجمہ۔’’ اُسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے‘‘۔ہر شے کا مالک وہی ہے اور انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ امانت ہے۔

ایں امانت چند روزہ نزد ماست

درحقیقت مالک ہر شے خدا ست!

میں اپنے جسم کا بھی مالک نہیں ہوں‘ میرا یہ جسم بھی اللہ کی ملکیت ہے‘ انا للہ وانا الیہ راجعون۔یہ ہاتھ پائوں‘ یہ آنکھیں‘ یہ دماغ سب کچھ میرے پاس اللہ کی امانت ہے۔اس نے مجھے کوئی گھر دے دیا ہے تو وہ بھی اس کی امانت ہے‘ اولاد دی ہے تو وہ بھی اسی کی امانت ہے چنانچہ ملکیت تامہ اسی کیلئے ہے۔ہم مالک و مختار نہیں ہیں کہ جو چاہیں کرتے پھریں۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا کہ ’’اے شعیبؑ!کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے؟اور یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو؟‘‘ سرمایہ دار کا مؤقف یہ ہوتا ہے کہ یہ میرا مال ہے‘ میں اسے جیسے چاہوں تصرف میں لائوں‘ خواہ اس سے سودی کاروبار کروں یا کسی کو سود پر قرضہ دوں۔اس لئے کہ وہ اپنے آپ کو سرمائے کا مالک سمجھتا ہے۔ اگر آپ اپنے آپ کو امین سمجھیں گے تو آپ کا نقطۂ نظر یکسر مختلف ہو گا۔پھر آپ اپنا ہاتھ بھی وہیں استعمال کریں گے جہاں اللہ کی اجازت ہے۔آپ اپنے پائوں سے بھی اسی راستے پر چلنا چاہیں گے جس پر اللہ چاہتا ہے کہ آپ چلیں۔آپ کا مال وہیں خرچ ہو گا جہاں اللہ چاہتا ہے کہ آپ خرچ کریں۔

کامل معاشرتی مساوات

سماجی سطح پر توحید کا تقاضا یہ ہے کہ بنیادی طور پر‘پیدائشی طور پر تمام انسان برابر ہیں‘ کوئی اونچا نہیں‘ کوئی نیچا نہیں۔اسلامی معاشرے میں اگر کوئی اونچ نیچ ہے تو وہ ان کمالات کی بنیاد پر ہے جو آپ نے ازخود حاصل کئے ہیں۔ آپ نے علم حاصل کیا تو آپ اونچے ہو گئے‘ آپ کی عزت کی جائے گی۔آپ نے تقویٰ کی روش اختیار کی‘ روحانی مقام حاصل کیا‘ اب آپ کی عزت کی جائے گی۔ ترجمہ۔’’اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں سب سے بڑھ کر متقی ہو‘‘۔ پیدائشی طور پر تمام انسان برابر ہیں۔شودر ہو یا برہمن‘کالا ہو یا گورا‘ مرد ہو یا عورت‘ کوئی فرق نہیں۔مرد اور عورت کے درمیان فرق انتظامی اعتبار سے ہے۔جیسے کسی محکمے میں ایک انچارج اور ایک باہر کھڑے ہوئے قاصد میں بحیثیت انسان بنیادی طور پر کوئی فرق نہیں ‘لیکن منصب کے اعتبار سے سربراہ شعبہ کا منصب اونچا ہے‘ قاصد کا نیچا ہے‘ یہ انتظامی معاملہ ہے۔

مرد اور عورت میں بھی بحیثیت انسان کوئی فرق نہیں، صرف انتظامی اعتبار سے فرق ہے۔ ازروئے الفاظ قرآنی ’’مر د عورتوں پر قوام ہیں‘‘۔ یعنی مرد کو خاندان کے ادارے کے سربراہ کی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مرد افضل ہے اور عورت کمتر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی عورت اپنے اخلاق اور کردار کے اعتبار سے کروڑوں مردوں سے اوپر چلی جائے۔ کتنے مرد ہوں گے جو حضرت مریمؑ، حضرت آسیہؑ، حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہؓ اور حضرت فاطمہؓ کے مقام کو اس طرح دیکھیں گے جیسے آپ آسمان کو دیکھتے ہیں۔ تو نظریۂ توحید کے یہ 3 نتیجے ہیں جو سیاسی سطح پر معاشی سطح پر اور سماجی سطح پر نکلتے ہیں۔ حاکمیت مطلقہ اللہ کیلئے ملکیت مطلقہ اللہ کیلئے اور کامل مساوات انسانی۔

رسول اکرمﷺ نے اس نظریۂ توحید کی تبلیغ مکہ کی گلیوں میں گھوم پھر کر کی۔ آپﷺ نے لوگوں کو پکارا ’’اے لوگو کہو! اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تم کامیاب ہو جائو گے‘‘۔ ابتدائی دعوت میں بھی آپﷺ نے اپنی رسالت کا ذکر شامل نہیں کیا‘ پورے کا پورا زور توحید پر ہی رکھا۔ اس انقلابی نظریئے کی دعوت و اشاعت میں آپ ﷺنے گھر گھر جا کر دعوت توحید پیش کی۔ پھر2مرتبہ اپنے خاندان والوں(بنو ہاشم) کو کھانے پر بلا کر دعوت پیش کی۔ ایک مرتبہ تو لوگوں نے بات سنی نہیں، شور مچا دیا۔ دوسری مرتبہ بات سن لی لیکن سب کے سب خاموش بیٹھے رہے جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ حاضرین میں سے صرف حضرت علیؓ کھڑے ہوئے جوپہلے ہی ایمان لا چکے تھے۔ انہوں نے کہامیں آپﷺ کا ساتھ دوں گا۔ اس پر سارا مجمع بولایہ چلے ہیں انقلاب لانے کیلئے۔ پھر آپﷺ کو حکم ہوا۔ ’’اے نبیؐ! جس چیز کا آپ ﷺکو حکم ہوا ہے اسے ڈنکے کی چوٹ پربیان کیجئے اور مشرکین کی ذرا پرواہ نہ کیجئے‘‘۔ چنانچہ آپ ﷺ نے کوہ صفا پر کھڑے ہو کر واصباحا کا نعرہ لگایا۔ پھر عکاظ اور دوسرے میلوں میں جا کر دعوت دی۔ حج کے اجتماعات میں لوگوں کے سامنے دعوت رکھی۔ الغرض جو طریقہ بھی ممکن تھا اسے استعمال کیا۔ اس وقت تو لائوڈ سپیکر تھانہ کوئی ٹیلی ویژن تھا۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی نہیں تھے۔ نہ کوئی چھاپہ خانہ تھا، نہ کتابیں نہ رسالے نہ اخبار! لیکن جوبھی میسر ذرائع اور وسائل تھے انہیں آپ ﷺ نے استعمال کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں