اسلام کا معاشی نظام

تحریر : ڈاکٹر محمد حمید اللہ
اسلام اپنے پیروکاروں کو زندگی کے تمام مرحلوں اور سرگرمیوں کے حوالے سے مادی اور روحانی یعنی دنیاوی اور دینی معاملات میں رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ معاشیات سے متعلق اس کی بنیادی تعلیمات کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے ۔ اسلام مادی خوشحالی کے خلاف نہیں ۔ فرمان خداوندی ہے :
ترجمہ ’’ اور جو (مال) تم کو اللہ نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت (کی بھلائی) طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائے ‘‘۔
اس حوالے سے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی دہری فطرت اور دو اقسام کا ذکر فرمایا:ترجمہ ’’ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دنیا ہے ) دنیا ہی میں عنایت کر ، ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ۔۔۔‘‘اور بعض ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی ،نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھو۔یہی لوگ ہیں جن کے لیے ان کاموں کا حصہ (یعنی اجر نیک تیار) ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا (اور جلد اجر دینے والا ہے )‘‘۔
بعض دوسری آیات میں ہم واضح طور پر ذکر پاتے ہیں کہ جو کچھ زمین ، سمندر،حتیٰ کہ آسمانوں میں موجود ہے ، اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدے کے لیے پیدا کیا ہے اور اس کے علاوہ زمین ، سمندر، آسمان، ستارے اور دوسری تمام اشیاء انسان کی مطیع کر دی گئی ہیں اور اب یہ انسان پر ہے کہ وہ اس چیز کا کھوج لگائے کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ چیزوں سے کیسے فائدہ اٹھانا ہے اور یہ فائدہ مستقبل کو پیش نظر رکھ کر اس کی مناسبت سے اٹھانا چاہیے ۔
اسلام کی معاشی پالیسی قرآن مجید میں بہت واضح انداز میں بیان کردی گئی ہے : ’’۔۔۔۔تا کہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں (مال)ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتار ہے‘‘ ۔
دولت اور فارغ البالی کے حوالے سے تمام انسانوں میں مساوات کا تصور بظاہر کتابی آئیڈیل کیوں نہ ہومگر انسانیت کے لئے مکمل سودمند ہونے کی ضمانت نہیں ۔ ایک تو اس وجہ سے کہ فطری صلاحیتیں تمام انسانوں میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ یہاں تک کہ اگرمکمل مساوات کے ساتھ کچھ لوگ زندگی کا آغاز کریں تو جلد ہی ان میں سے جو فضول خرچ ہوگا وہ کنگلا ہو کر مشکلات میں گھر جائے گا اور باقی مالکوں کے مال پر حریصانہ نظریں ڈالنے لگے گا۔ اس کے علاوہ فلسفیاتی اور نفسیاتی لحاظ سے بہتر صورت سامنے آئی ہے کہ یہ انسانی معاشرے کے بہترین مفاد میں ہے کہ انسانوں کے مابین کوئی امیر ہو اور کوئی غریب،اس کے باعث جو غریب ہوں گے ان میں مزید محنت کر کے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوگا۔
اس کے علاوہ اگر ہرشخص کو علم ہو جائے کہ اگر وہ اپنے ذمہ ڈیوٹی سے زائد کام کر بھی لے تو بھی اسے اس کا کوئی اضافی معاون نہیں ملے گا بلکہ وہ انہی لوگوں کے برابری رہے گا جو اپنے فرائض سے زیادہ کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو یقیناً اس میں آگے بڑھنے کی امنگ ختم ہوجائے گی۔ وہ کاہل اور لاپرواہ ہو جائے گا اور اس کی صلاحیتیں ضائع ہونے لگیں گی جو معاشرے کی بدقسمتی ہے ۔
جانوروں میں بہترین سماجی تعاون کی مثال شہد کی مکھی، چیونٹی اور دیمک میں پائی جاتی ہے ۔ وہ اجتماعی طور پر زندگی گزارتی ہیں ان میں کوئی مسابقت کا تصور نہیں سب مل جل کر کھاتی اور ایک جیسا کھاتی ہیں اس لیے ان کے ہاں ایسی کوئی بات نہیں کہ کوئی زیادہ ذہین شہد کی مکھی زیادہ محنت سے اپنے لیے زیادہ آرام دہ زندگی کا اہتمام کرے ۔ اس وجہ سے ان کی زندگی میں کوئی بہتری آ سکتی ہے نہ ہی تبدیلی جبکہ انسانوں کی صورتحال اس کے برعکس ہے ۔انسانی تاریخ گواہ ہے کہ شاہراہ ترقی پر ہراگلے قدم اور زندگی کو زیادہ سے زیادہ سہل اور آرام دہ بنانے کے لیے سامان آسائش کی تیاری کے پس پردہ جذبہ مسابقت اور بہتر تبدیلی کے لیے جدوجہد کارفرما ہے ۔ اس کے علاوہ انسانوں میں مالی اونچ نیچ اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والے سماجی مراتب نے بھی انسانوں میں آگے بڑھنے کی خواہش بیدار کرنے کے لیے مہمیز کا کام کیا۔
ان خدشات کا ادراک کرتے ہوئے کہ اندھی مادہ پرستی سے مغلوب شیطان صفت لوگ ضرورت مندوں کا استحصال کریں گے اور انہیں رفتہ رفتہ غربت کے اندھیروں میں دھکیل دیں گے ۔ ضرورت محسوس کی گئی کہ ہر نمو پذیر تہذیب اور صحت مند ثقافت کو متوازن رکھنے کے لیے اس کے افراد پر ذمہ داریاں ڈال دی جائیں (مثلا ٹیکس کی ادائیگی نیز ظلم وزیادتی اور دھوکہ دہی وغیرہ کی روک تھام کے لیے سزائیں) اور کچھ فرائض سے بڑھ کر بھی کرنے کی تلقین (اللہ کی راہ میں خرچ یعنی صدقات و خیرات وغیرہ ) ان ذمہ داریوں کی بجا آوری کے بعد ہر فردکو فکر کی آزادی ہے کہ وہ اپنی، اپنے خاندان، دوستوں اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے جو بھی کرنا چاہے کرے ، اسلام کی خصوصیت بلکہ تقاضا ہے جوفطرت سے ہم آہنگ بھی ہے ۔
یہ بنیادی اصول ہے جس پر اسلام نے اپنا معاشی نظام استوار کیا ہے ۔ اگر یہ قلیل سے طبقہ امرا ء کوقبول کرتا ہے تو اس پر بھاری ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے ۔ انہیں غریبوں کو سہاراد ینے کے لئے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے ۔ اس کے علاوہ ذ خیرہ اندوزی، ارتکاز دولت سمیت استحصال کے غیر اخلاقی حربے استعمال کرنے کی بھی ممانعت کی گئی ہے ۔ اس مقصد کے لیے کچھ احکام، اصول اور قابل تحسین اقدامات بھی بیان کر دیئے گئے ہیں یعنی ضرورت مندوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنے مال سے خرچ کرنا اور اپنی ضروریات کو محدود کر کے ناداروں کی بنیادی ضروریات کے لیے قربانی دینا، جس کے اجر کے لیے آخرت کا وعدہ کیا گیا ہے کہ یہ عمل دوسری دنیا میں درجات کی بلندی کا باعث بنے گا۔ اس کے علاوہ ایک طرف اسلام نے کم از کم ضروریات اور قابل قبول افراط کی نشاندہی کر دی ہے اور دوسری طرف وہ احکام اور فرامین ہیں کہ جن پرعمل نہ کرنے پرسزاوں سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔
اسلامی معاشی نظام کے اخلاقی پہلوکی کچھ وضاحت کی ضرورت ہے تا کہ اس کو بہتر طریقے سے سمجھا جا سکے ۔ دوسروں سے خیرات مانگنے کو اسلام میں ناپسند کیا گیا ہے ۔ اور اس کے لیے سخت الفاظ استعمال کئے گئے ہیں کہ ایسا کرنا روز قیامت ان کے لیے شرم اور مار کا باعث ہوگا مگر اس کے ساتھ ساتھ محتاجوں کی مدد کرنے والوں کے لیے بے پایاں تحسین کی گئی ہے اور ان لوگوں کو بہترین انسانوں میں شمار کیا گیا ہے جو دوسروں کے لیے قربانی دینے اور اپنے او پر دوسروں کی ضروریات کوترجیح دیتے ہیں ۔ اسی طرح علاج اور فضول خرچی کی بھی ممانعت کی گئی ہے ۔
ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کسی سرکاری مقصد کے لیے کثیر وسائل درکار تھے ۔ ایک صحابیؓ نے کچھ مال اپنی طرف سے لا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے استفسار پرعرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ! گھر میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت کے سوا کچھ نہیں چھوڑا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا چہرہ مبارک بیان سن کر خوشی سے دمک اٹھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کی اس پر بے حد تحسین فرمائی۔ ایک اور موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ایک صحابیؓ بیمار تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے ۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ! مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بہت کچھ عطا کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اپنا سارامال غریبوں کے لیے وقف کر دوں ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:’’نہیں، پر زیادہ بہتر ہے کہ اپنے پسماندگان کے لیے اتنا (ضرور) چھوڑ کر جاؤ کہ وہ عزت کی روٹی کھا سکیں اور دوسروں سے مدد مانگنے پر مجبور نہ ہوں‘‘۔ مختلف مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مال کے دو تہائی اور نصف کو اللہ کی راہ میں دینے کو بھی حدسے زیادہ قرار دیا۔ اور جب ایک تہائی کی تجویز دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ایک تہائی زیادہ ہے‘‘۔(بخاری)
ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک صحابی ؓکو دیکھا کہ وہ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے جواب دیا:‘‘یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ! میں غریب نہیں ہوں مگر میں چاہتا ہوں کہ اپنی ذات کی بجائے اپنا مال ضرورت مندوں پر خرچ کروں۔’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:’’نہیں تمہارا رب چاہتا ہے کہ اس نے اپنے بندے پر جو رحمت کی ہے وہ اس کا اظہار کرے‘‘ ۔ (ابوداؤد، ترمذی)
وراثت:۔اپنے مال اور جائیداد کو مرضی سے بیچنے یا خریدنے کے حق اور ہر فرد کے مال پر اجتماعی حق دونوں کو ملحوظ رکھا جانا ضروری ہے ۔ اس حوالے سے کہ ہر فرد معاشرے کا رکن ہے ۔ ہرفردکا مزاج دوسرے سے مختلف ہوتا ہے ۔ بیماری اور بعض دوسرے حادثات بھی انسان کے ذہن کو متاثر کرتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ اجتماعی مفاد کے لیے بھی ضوابط کا اطلاق کیا جانا چاہیے ۔
اس طرح اسلام نے دو اقدامات کئے ہیں۔ پہلا کہ متوفی کا مال اس کے قریبی رشتہ داروں (ورثاء) میں تقسیم کر دیا جائے ۔ اور دوسرا مرضی کی وصیت کے ذریعے ترکہ کی قسم کی ممانعت قانونی ورثا ء کو کسی قسم کے ترکہ کی وصیت نام کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مرحوم کا تر کہ انہیں قانون میں تین تناسب سے از خودمل جاتا ہے ۔
والدین کے لیے ساری اولاد برابر ہوتی ہے ۔ اس لیے کسی کو بھی حق نہیں کہ وہ کسی ایک بیٹے کو دوسرے سے زیادہ دے دے چاہے کوئی چھوٹا ہے یابڑا۔ متوفی کے مال میں سے سب سے پہلے اس کی تدفین کے اخراجات ادا کئے جائیں۔ اس کے بعد اس کے قرضداروں کا حصہ ہے کہ اس کے بعد تمام قرضے ادا کئے جائیں۔ ان دو مدات پرخرچ کے بعد جو مال باتی بچ جائے اس پروصیت (اگر ہے تو) کا اطلاق ہوگا مگر وصیت کا اطلاق باقی مال (تدفین اور قرض کی ادائیگی کے بعد) کے ایک تہائی سے زائد پرنہیں ہوسکتا(یعنی وصیت کے مندرجات پرعمل کرتے وقت یہ پابندی ضروری ہے کہ باقی مال کے زیادہ سے زیادہ ایک تہائی کوہی تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ باقی مال شریعت کے تعین کردہ اصول کے مطابق تقسیم ہوگا۔)
یہ تین معاملات نمٹانے کے بعد شریعت اور قانون وراثت کا وقت آتا ہے ۔ شوہر یا بیوی، والدین اور اولاد ( بیٹے اور بیٹیاں) پہلے نمبر پر وارث ہیں اور ان کو ہر حال میں وراثت سے حصہ ملتاہے اور ان ورثاء کی عدم موجودگی میں بھائی اور بہنیں اور دوسرے رشتہ دار وراثت کے مالک ہوتے ہیں ۔ دوسرے رشتہ داروں میں چچا، ماموں، پھوپھیاں، کزنز اور دیگر آتے ہیں۔
تکنیکی تفصیلات کو چھوڑ کر چند بنیادی اصولوں کا ذکر مناسب ہے ۔ قاتل کو اپنے مقتول کی وراثت سے حصہ نہیں مل سکتا، چاہے عدالت کا فیصلہ یہ ہو کہ یہ قتل عمداً نہیں بلکہ قتل سہو تھا، یہ اقدام اس لیے کیا گیا تا کہ کسی کو اپنے امیر رشتہ دار کو اس ارادے سے قتل کرنے کی ترغیب نہ ہو کہ اس کے مرنے کی صورت میں اور اس سے جلدی مل جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے متوفی کے مذہب سے مختلف عقیدہ کے مال وارث کو بھی شرعی وراثت سے محروم قرار دیا ہے چاہے ان کا تعلق میاں بیوی کا ہو، البتہ اس صورت میں تحفہ یا وصیت میں دی گئی روایت کے مطابق حصہ غیرمسلم وارث کو ملے گا اور مسلمان شوہر چاہے وہ بستر مرگ پرہی ہو، اپنی غیر مسلم بیوی کے لیے جائیداد کے حصے کی وصیت کرسکتا ہے ۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ فقہاء اولیٰ نے اپنے ادوار کے عالمی اور سیاسی حالات کے دبائو کے تحت ایک اور پابندی بھی عائد کی ہے کہ مختلف قومیت یا دوسرے ملک سے تعلق کی بناء پربھی وارث ترکہ کے حصہ سے محروم رہے گا۔ تاہم بین الملکتی معاہدوں کے تحت دوطرفہ بنیادوں پر اس مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے کہ اس صورت میں مثلاً میاں بیوی (یا دوسرے ورثاء) بھی دونوں مختلف ممالک کے شہری ہوں تو ان میں سے کسی ایک کے انتقال پر وراثت میں دوسرے کو حصہ مل سکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں