مسلم دنیا میں اسرائیل کی منظوری ،کیوں اور کیسے؟

shahbaz
ابراھم معاہدہ نے مسلم دنیا میں اسرائیل کے حوالے سے چند سلسلہ وار واقعات کو رونما کیا ہے جو مستقبل قریب میں عالمی سیاست و سیادت میں خاطر خواہ تبدیلی لانے کا ملکہ رکھتے ہیں۔اگست میں امریکہ کی سرپرستی میں منظر عام پر لائے گئے اس معاہدہ نے گویا جادوئی چھڑی کا سا رول ادا کر کے مسلم ممالک کو مسحور کردیا جس کے زیر اثر ایک کے بعد ایک مسلم ملک اسرائیل کی جولی میں گرتے نظر آرہےہیں.مصر اور کویت کے ساتھ سوڈان، امارات، بحرین اور اب مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ باضابطہ اپنے تعلقات کی بحالی کا آغاز کیا ہے۔اچنبے اور حیرت کی بات ہے کہ ترکی نے بھی اسرائیل کے ساتھ مصالحت کا عندیہ دیا ہے .25دسمبر کو ترکی کےصدرطیب اردوان نے کہا “ترکی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے حق میں ہے لیکن اس کی فلسطین پالیسی انقرہ کے لئے ناقابلِ قبول ہے ۔ “مشرقی وسطیٰ سے بعید عین مشرقی ایشیاء میں بھی اسرائیل اپنے وجود کو محسوس کروانے کی تیاری میں ہے۔انڈونیشیا کو بھی اسرائیل تسلیم کروانے کے لئے امریکہ ہاتھی اپنے سونڈھ سے پیسوں کی کیچڑ پھینکنے والا ہے۔الجزیرہ کے مطابق امریکہ نے انڈونیشیا کی ڈیولپمنٹ ایڈ کو ایک سے دو بیلین زیاد کرنے کا عندیہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی شرط پر دیا ہے ،بعد میں مختلف ذرائع سے موصول ہوئی خبروں کے مطابق انڈونیشیا نے تعلقات کی سازگاری کا قطعی طور پر انکار کیا لیکن آمریکہ اس معاملے میں پھر بھی بڑا پر امید نظر آرہا ہے ۔ اسی حوالے سے بلومبرگ کو دئے گئے انٹرویو میں یو ایس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فائننس کارپوریشن کے سربراہ ایڈم بہولر نے کہا “امریکہ انڈونیشیا کے ساتھ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے بات چیت کررہا ہے،اگرچہ انڈونیشیا نے تعلقات کی بحالی کا فی الحال انکار کیا لیکن اسی قسم کا انکار آغاز پر سوڈان،مراکش، عمان اور قطر نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے پہلے کیا تھا. “امریکہ کے اس مکروہ فعل (مسلم ممالک کا اسرائیل کو ماننا) کو سرانجام دینے میں سعودی عرب کا ولی عہد بن سلمان بڑا سرگرم ہے جو ٹرنپ کے داماد جیرڈ کشنرکے دام فریب میں بری طرح سے گرفتارہوچکاہے۔کشنرموساداورصہیونیت کا زبردست علمبردار ہے جو دوسرے پرنس آف عربیا کی طرح مسلم دنیا میں خصوصاً مشرقی وسطیٰ میں صہیونیت اور عظیم تراسرائیل کے مقصد کی تکمیل کے حوالے سے رات دن ایک کر رہا ہے ۔بظاہر سعودی عرب یہ کام امریکہ کے نئے صدر جو بائڈن کی سعودیہ کے ساتھ نئی خارجی پالیسی کی متوقع ترتیبِ نو اور ایران پر عائد کردہ پابندیوں میں تخفیف کے پیش نظر کر رہا ہے لیکن اس عملی اقدام کی وجہ سے سعودی عرب بشمول پورا میڈل ایسٹ خطرے کی ذد میں ہوگا ۔ایران کی نکیل چونکہ روس کے ہاتھ میں ہے اس لئے خطے میں ایران بھی برابر سعودی مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اس لئے سعودی عرب امریکہ کی مدد سے اسرائیل کے حوالے سے خود اور دیگر مسلم ممالک کے تعلقات بحال کرکے ایک نئی بیرونی طاقت کے سہارے ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک اتحاد تشکیل دے رہا ہے۔امریکہ نے سعودی ولی عہد کو اس کی ہماسائگی میں ایک طاقتور دوست اسرائیل کی شکل میں فراہم کرنے کا وعدہ اسے مسلم دنیا میں اسرائیل کے جوالے سے نرم رویہ پیدا کرنے کے عوض باندھا ہے۔سعودی عرب اس تناظر میں اپنا سیاسی اور معاشی مقام کا ستعمال بڑے طاقت کے ساتھ کر رہا ہے۔جس کا ثبوت پاکستان سے فوراً قرضے کی واپسی کے مطالبہ کی شکل میں ظاہر ہوا ۔ایران کے ساتھ امریکہ کی دشمنی سرد جنگ کے فریق روس کے ساتھ اپنی سابقہ دشمنی پر مبنی ہے کیونکہ روس کے ساتھ ایران کے تعلقات کافی مضبوط ہیں ۔بدقسمتی سے ایران اور سعودی عرب اس صہیونی صلیبی مکر کو سمجھنے سے بالکل قاصر دکھائی دے رہے ہیں ۔بیشتر مسلم ممالک میں اسرائیل کی منظوری گریٹر اسرائیل کے قیام کا پہلا قدم ہوگا جو آگے چل کر نہایت خوفناک جنگ میں تبدیل ہونے کا قوی امکان رکھتا ہے اور اسی کے ساتھ دجالِ اکبر کے ظہور کے لئے سازگار حالات پیدIsraelا ہونگے ۔انشاء اللہ دجال اکبر کے موضوع پر آئندہ بات کریں گے۔

وہی مسلم عربی ممالک جن کے لئے کبھی اسرائیل ناجائز ریاست کے طور پر ناقابلِ قبول تھا آج امریکہ کی ایماء پر اسرائیل کو فلسطینیوں کی قیمت پر قبول کر رہے ہیں ۔اسرائیل کا فلسطین اور دیگر عربی ممالک کے ساتھ تعلقات کی استواری کے لئے ہمیشہ سے امریکہ مستعد رہا ہے۔1979کا کیمپ ڈیورڈ ایکارڈ ہو یا 1993کا اوسلو معاہدہ ہو یا 1994میں اسرائیل اور جارڈن معاہدہ ، امریکہ نے اہم رول ادا کیا ہے۔امریکہ کی اس اسرائیل نواز حکمت عملی کی پشت پر مضبوط یہودی لابی کام کر رہی ہے جس نے ہر دور میں امریکی حکومت کو اپنے شکنجے میں کس کے رکھا ہے۔برطانیہ سے صہیونی خفیہ تنظیموں نے کام لینے کے بعد 1950 سے امریکہ کی طرف رخ کرکے بے تہاشا مدد حاصل کی ۔اگر یہ کہا جائے کہ اسرائیل نے امریکہ کو اپنی لونڈی کے طور پر استعمال کیا بیجا نہ ہوگا۔اسرائیل نے اپنے وجود کو تسلیم کروانے کے لئے ہر نوع کی فنکاری و مکاری استعمال کی ہے جو آج رنگ لارہی ہے گرچہ بجھتے چراغ کے ٹمٹمانے کی مترادف ہی سہی لیکن فی الحال اس سے سوکھے شجر کو جو آگ لگی گی اس سے پیدا ہونے والے نقصان سے کس کو انکار۔اسرائیل کو اپنے قبول عام کے لئے جہاں دولت کی ضرورت پڑی اپنے مقابل کو رام کرنے کے لئے دولت کے انبار لگا دئے، جہاں طاقت کی ضرورت پڑی طاقت کا استعمال کرکے اپنے مخالف کو کچل دیا، جہاں عورت استعمال کرنے کی ضرورت محسوس کی اپنے مخالف کو عیاش بنا دیا اور جہاں عیاری کی ضرورت پڑی وہاں اپنے مخالف کو محض ایک بازیچہ اطفال بنا کے رکھا ۔اسرائیل نے اپنے آپ کو مستحکم کرنے کے لئے کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔اسرائیل کے قیام سے پہلے ہزار سال سے یہودی ایک ریاست کی بنا ڈالنے کی تیاری کر رہے تھے اور جب ایک ریاست کو 1948وجود میں لایا گیا تب سے گریٹر اسرائیل کے قیام کی تیاری میں اپنا تن من دھن تج دیا۔

عرب اسرائیل تعلقات آج جس موڑ پہ پہنچ چکے ہیں اس کی پیچھے باضابطہ ایک خفیہ تاریخ ہے ۔اس خفیہ تاریخ کے صفحات پہ ہر جگہ عرب اور اسرائیل کی آپسی قربت کے واقعات کا ذکر ملتا ہے۔عرب ممالک کا آپسی تفرقہ اور خطے میں اپنی اپنی چودھراہٹ کو قائم کرنے کی کشمکش نے انہیں اپنے مشترکہ دشمن سے ساز باز کرنے کا موئثر جواز فراہم کیا۔عرب امارات 1990سے اسرائیل کے ساتھ اپنے خفیہ تعلقات بحال کیے ہوئے تھا۔سوڈان کا اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات کا سلسلہ 1950میں امہ پارٹی کا حصولِ حریت کے ضمن میں اسرائیل کی امداد کا مطلوب ہونے سے شروع ہوتا ہے۔اس کے بعد سوڈان کے وزیراعظم نے 1957میں پیرس میں اسرائیلی وزیراعظم سے خفیہ ملاقات کی۔1980میں سوڈانی صدر غفار نیمیری نے اسرائیلی حکام سے ایتھوپیائی یہودیوں کی اسرائیل منتقلی کے حوالے سے گفتگو کی اسی طرح سے فلسطین میں یہودی استعماریوں کے ناجائز قبضے کو آسان بنانے کا رول ادا کیا۔2016 میں اسی آفریکی ملک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا اعلان اس شرط کے ساتھ کیا تھا کہ امریکہ سوڈان پر عائد کردہ پابندیاں ہٹا لے۔فلسطین میں اسرائیل کے قیام میں عرب دنیا کے کچھ سنگین غلطیاں ہیں جن کا خمیازہ ایک تو قیام اسرائیل اور اب اعترافِ اسرائیل کی شکل میں برآمد ہو رہا ہے۔اس ضمن میں عراق کے سابق بادشاہ امیر فیصل ابن الحسین نے ورلڈ ذائنسٹ آرگنائزیشن کے صدر چیم ویزمین کے ساتھ 1919میں ایک معاہدہ پر اتفاق کر لیا جس کے تحت فیصل نے فلسطین میں قیام اسرائیل کی اجازت دے کر خود کو پورے شام میں ایک عظیم عرب کی سلطنت کا بادشاہ بننے کے لئے مدد کا مطالبہ کیا۔ فیصل کا یہ خودغرضانہ خواب کبھی پورا نہ ہوسکا لیکن فلسطین کی پیٹھ میں اسرائیلی خنجر گھونپنے کا جو کام کر گیا اس سے چھٹکارا حاصل ہونے کا امکان کہیں دور تک نظر نہیں آتا۔اردن کے امیر عبداللہ نے اردن اور فلسطین کا بادشاہ بننے کے لالچ میں صہیونی قوتوں کے ساتھ ساز باز کرکے انہیں اسرائیل قائم کرنے میں مدد کی۔امیر عبداللہ کے پوتے اردن کے شاہ حسین نے سن 1960میں پہلی بار یروشلم میں اپنے فوجی سربراہان اور اسرائیلی عہدیداران کے مابین خفیہ ملاقات کا انتظام کیا اور بعد ازاں1963میں اس نے خود اسرائیلی حکام اور صہیونی تنظیم کے مرکزی ارکان سے لندن میں دورانِ علاج خفیہ ملاقاتوں کا آغاز کیا۔اسرائیلی مصنف آوی شیلم نے اپنی کتاب میں 42خفیہ ملاقاتوں کا ذکر باضابطہ وقت اور جائے ملاقات کے ساتھ کیا ہے۔ایوی شالیم نے اپنے حالیہ مضمون میں مراکش اور اسرائیل کے باہمی خفیہ روابط کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ موساد نے 1960کے بعد مراکش سے خفیہ معاہدے طے کر کے وہاں پر بسنے والے یہودیوں کی اسرائیل منتقلی کو آسان بنانے میں کلیدی رول ادا کیا ہے ۔اسرائیل کی پیدائش کے حوالے سے اس حقیقت سے سب واقف ہیں کہ پوری دنیا سے یہودیوں کو جمع کر کے فلسطین میں بسایا گیا تھا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔مراکش اور اسرائیل کے ان خفیہ تعلقات کی حقیقت آج مراکش کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں ثابت ہوئی کیونکہ اپنی سابقہ اور خفیہ قربت سے مراکش مجبور ہوا

اپنا تبصرہ بھیجیں