امریکی جمہوریت کا تابوت

ٹرمپ نے آکر امریکا کے چہرے سے جہاں بہت سے نقاب الٹے ہیں، ان میں سے ایک نقاب امریکا کا سب سے بڑی اور قدیم جمہوریت ہونے کا علمبردار ہونا ہے۔ اب جاتے جاتے ٹرمپ نے اس سسٹم کو بالکل ہی ننگا کردیا ہے۔ ٹرمپ نے حامیوں نے عین ان لمحات میں، جب کہ کانگریس انتخابی معاملات کے آخری مراحل میں تھی، انہوں نے ٹرمپ کے ٹویٹ کے بعد اس عمارت پر دھاوا بول دیا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ان مظاہروں میں کئی افراد ہلاک اور درجنوں گرفتار ہوچکے ہیں۔ ٹرمپ کا ٹویٹر اور فیس بک اکاؤنٹ تشدد کی دعوت دینے کے باعث فریز ہے اور کانگریس نے جوبائیڈن کی جیت کی توثیق کردی ہے۔ تاہم ان تمام حالات کی وجہ سے امریکا کا دنیا بھر میں مذاق اڑایا جارہا ہے۔

امریکا کےلیے سب سے مقدم اس کا آئین ہی رہا ہے۔ امریکی تاریخ میں آج تک ایسا نہیں ہوا، جو کہ اب ٹرمپ کی قیادت میں ہوا ہے۔ اس وقت دیکھا جائے تو سب ہی ٹرمپ کو سمجھا رہے ہیں کہ موجودہ سسٹم کو چلنے دیا جائے، اس کو نہ خراب کیا جائے، حتیٰ کہ موجودہ نائب صدر نے بھی موجودہ حالات کی مذمت کی ہے، اس کو تاریک ترین دن قرار دیا ہے اور انہوں نے سیاسی عمل کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ خود بھی وہ اس حوالے سے کام کر رہے ہیں۔

یہاں ایک سوال اہم ہے کہ دنیا کی محفوظ ترین عمارت میں اس بڑی تعداد میں مظاہرین داخل کیسے ہوگئے؟ یہ کبھی نہیں ہوا کہ سبکدوش ہونے والے صدر نے اپنے حامیوں کو مظاہروں پر ابھارا ہو۔
ان معاملات میں بنیادی طور پر کچھ باتیں سیکھنے کی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں حکمرانی ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس میں غیر سنجیدگی اور مسخرہ پن نہیں ہوسکتا۔ ناتجربہ کار اور نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں اتنے بڑے عہدوں کا ہونا بذات خود تباہی ہے۔ وہ خودپرستی اور خودستائشی کے چکر میں سسٹم کو ستیاناس کردے گا۔ سیلف سینٹرڈ انسان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ یہ وہی امریکا تھا جو کبھی جمہوریت کا چیمپئن تھا، آج اسی کے دارالحکومت میں سسٹم کا جنازہ نکال دیا گیا۔ وہی امریکا جو کبھی جمہوریت کے لیکچرز دیتا تھا، جو جمہوریت کی آڑ میں حکومتیں تک تبدیل کردیتا تھا، وہ امریکا اب خود جمہوریت کی ردا کو بچانے میں مصروف ہے۔ آپ کسی بھی سنجیدہ امریکی کو ان مظاہروں کی تصویریں دکھائیے جس میں لوگ عمارت میں گھوم رہے ہیں، ایوان کی کرسیوں پر قابض ہیں، تو وہ شرمندہ ہوجائے گا۔ امریکی جمہوریت کا چہرہ کسی اور سیاسی لیڈر نہیں بلکہ صدر امریکا کے ہاتھوں تباہ ہوا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی اپنی طاقت ہے اور یہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ طاقت کسی غیر سنجیدہ اور خودعرض انسان کے ہاتھوں میں نہیں ہونی چاہیے۔ ٹرمپ نے کیا کیا؟ اس نے مین اسٹریم میڈیا پر کوئی بیان نہیں دیا، اس نے ٹویٹ کیا تھا۔ اس ٹویٹ میں اس نے اپنے حامیوں کو مظاہروں پر اکسایا تھا۔ اور پھر جو ہوا وہ پوری دنیا نے دیکھا۔ اگرچہ فیس بک اور ٹویٹر نے ٹرمپ کے اکاؤنٹس کو فریز کردیا ہے لیکن جو نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا ہے۔ اب امریکا وضاحتیں دیتا تھک جائے گا لیکن اس کو جمہوریت کے حوالے سے یہ طعنہ اگلے کئی سال تک سننا پڑے گا۔

تیسری بات یہ ہے کہ سیاست کے سینے میں دل تو نہیں ہوتا لیکن سیاست غیر سنجیدہ چیز بھی نہیں ہے۔ سیاسی سسٹم کمزور ہو یا طاقتور، ہر دو صورتوں میں اس کا بہاؤ جاری رہنا چاہیے۔ جب بھی کسی سیاسی سسٹم کو روکا جاتا ہے، اس کا رخ موڑا جاتا ہے تو حالات قابو سے باہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ سیاست میں ذاتی انا نہیں ہونی چاہیے۔ سسٹم کو تنازعات کے ساتھ بھی نہیں چلایا جاسکتا۔ سیاسی سسٹم میں واپسی کے دروازے کھلے رکھنے ہوتے ہیں۔ یہاں پر کوئی بھی بات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہیں جانی چاہیے۔ ٹرمپ کی تمام تر سیاست غیر سنجیدگی اور خودغرضی کے ساتھ دوسروں پر، اپوزیشن پر الزام تراشی اور ان کو گندا کرنے پر مرتکز تھی۔ اس طرز سیاست نے امریکی سسٹم میں نفرت انگیز بیج بو دیے ہیں۔ تقسیم کا زہر کبھی بھی آسانی سے نہیں نکلتا ہے۔ 20 جنوری کو ٹرمپ چلا جائے گا لیکن امریکی سسٹم میں اس کے اثرات باقی رہیں گے۔ جوبائیڈن کےلیے حکومت کرنا آسان نہیں ہوگا۔

لہٰذا سیکھنے کی بات یہ ہے کہ جب آپ متنفر انداز سے، تضحیک و تذلیل کو پروموٹ کرتے ہوئے، سیاسی تقسیم کی بنیاد رکھتے ہیں تو بنیادی طور پر آپ معاشرتی تقسیم کی بنیاد رکھتے ہیں۔ سیاست میں نفرت نہیں ہوتی۔ اگر درج بالا طریق سے حکومت چلائی جائے گی تو اس کا انجام وہی ہوگا جو امریکا میں ہوا ہے۔ پرتشدد مظاہرے، سسٹم درہم برہم، ہلاکتیں اور گرفتاریاں، عالمی سطح پر مذاق جو بنے گا وہ الگ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں