جہان نعت مصطفٰیﷺ

جہان نعت مصطفٰیﷺ
عارف محمود کسانہ
بارگاہ رسالت مآبﷺ میں نعت کی صورت میں ہدیہ عقیدت پیش کرنا بہت بڑی سعادت ہے۔ خود رب کریم نے انسانیت کے نام اپنے اخری پیغام میں افضل البشر نبی اکرم ﷺکے بارے میں فرمایا کہ ہم نے آپ کا ذکر بلند کردیا ہے۔ جس ہستی کی تعریف و توصیف میں باری تعالیٰ کے الفاظ ہوں ان کی شان میں کوئی انسان اور کیا کہہ سکتا ہے۔حقیقت یہ کہ آپ کی شان بیان کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں رسول اکرمﷺ کا ذکر ان کی صفات اوراوصاف جس خوبصورت انداز میں کیا ہے اس کی طرف حکیم الامت علامہ اقبال نے یوں کیا ہے کہ
نگاہ ِ عشق ومستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآن وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طہٰ
نعت لکھنا سب سے مشکل کام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اکرم کی ذات کے بارے میں الفاظ کے چناﺅ میںبہت زیادہ احتیاط لازم ہے جس کے بارے میں قرآن حکیم کی تعلیمات موجود ہیں۔ نثر میں بہت سہولت ہوتی ہے کہ لکھنے والے والے الفاظ کے وسیع سمندر سے الفاظ استعمال کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی لیکن شاعری کی ضروریات ایسی ہوتی ہیں کی بحر، ردیف قافہ اور وزن کا خیال رکھنا پڑتا ہے اور پھر ان الفاظ کا چناﺅ جو شان رسالت کے مطابق ہوں۔ نعت لکھنے میں ایک اور بڑی احتیاط وہ ہے جو عظیم نعت گو شاہ احمد رضا خان بریلویؒ نے بیان کی ہے کہ اگر کوئی حضور اکرم ؓکی شان کو بڑھا کر الوہیت کے درجہ پر لے جائے تو شرک کا ارتکاب کرے گا اور اگر کمی کرتا ہے تو مقام رسالت کے منافی ہے اس لئے ان کے نزدیک نعت رسول اکرم کہنا تلوار پر چلنے کے مترادف ہے۔
رسول اکرمﷺ مجسم قرآن تھے اور اس کی وضاحت کرتے ہوئے ام المومنین حضرت عائشہ ؓنے فرمایا کہ آ پ کا خلق قرآن حکیم تھا۔ رسول اکرم ﷺسے محبت ایمان کا تقاضا ہے اور ایک یاک مومن کا بنیادی وصف ہے۔ جب عاشق رسول قرآن حکیم کا مطالعہ کرتے ہیں تو انہیں یہ بھی نعت رسول مقبول کی صورت نظر آتا ہے۔ صاحب سیف الملوک میاں محمد بخش فرماتے ہیں کہ
زیراں , زبراں , شداں , مداں , شان نبی وچ آیاں
عاماں لوکاں خبر نہ کوئی , خاصاں رمزاں پائیاں
اس حقیقت کے باوجود جب بھی کوئی مدح خوان رسول اکرم کی شان میں نعت لکھتا ہے وہ دراصل اپنی عقیدت کا اظہار کرتا ہے۔
نعت گوئی کی تاریخ پر نگاہ دوڑائیں تو سلسلہ بعث نبوی سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں سب سے پہلے جس شخصیت نے اظہار بیاں کیا وہ رسول اکرم ﷺ کے چچا جناب ابوطالب تھے۔ ابن ہشام نے سیر ت النبی میں ایک قصیدہ کے سات اشعار نقل کیے ہیں جس میں جناب ابوطالب نے پرجوش اشعار میں نبی کریمﷺکی مدح کی اور اپنے خاندان بنوہاشم کی خصوصیات کاتذکرہ کیا۔ نعت گوئی کی روایت عہدصحابہ سے موجودہ عہد تک مسلسل قائم ہے ۔ حضرت حسّان بن ثابتؓ بار گاہ رسالت کے مشہور نعت خواں تھے اور شاعررسول کے خطاب سے سرفراز ہوئے۔ انہوں نے اپنی ایک نعت میں بہت ہی خوبصورت انداز میں اپنا نذرانہ عقیدت پیش کیاجن کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ
آپ ﷺسے زیادہ خوب رو میری آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھا اور نا ہی آپ سے زیادہ صاحب جمال کو عورتوں نے کبھی جنا ہے۔ آپ ہر طرح کے عیوب ونقائص سے پاک پیدا کیے گئے ہیں گویا کہ آپﷺ اپنی حسب خواہش پیدا ہوئے ہیں ۔ حضرت حسان بن ثابت کے علاوہ حضرت کعب بن زہیر بن ابی سلمیٰ، حضرت عبداللہ ابن رواحہ، حضرت اسود بن سریع ، حضرت عامر بن اکوع، حضرت عباس بن عبد المطلب، حضرت عبداللہ بن وائل، حضرت عائشہ ، حضرت فاطمہ ، حضرت سفیان بن حارث ©(رضوان اللہ اجمعین)نے بھی بارگاہ رسالت میں نعت کی صورت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔
اردو زبان میں نعت گوئی کا اآغازسولھویں صدی میں ہواجب اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعرسلطان محمد قلی قطب شاہ نے نعتیہ اشعار لکھے۔ ان کے کلیات میں عیدمیلاد النبیﷺپر چھ، بعثت نبی پر پانچ، شب معراج پر ایک نظم اور پانچ نعتیہ غزلیں اور نعتیہ رباعیاں ملتی ہیں۔بابائے اردو مولوی عبدالحق کی کتاب اردو کی ابتدائی نشوونما میں صوفیائے کرام کا حصہ“ کے مطابق خواجہ بندہ نواز گیسو (م ۸۲۵ ھ) کے اشعار کو اردو نعت کا پہلا نمونہ قرار دیا۔اردو میں یہ روایت قائم ہوگئی کہ جب کوئی شاعر اس صنف میں طبع آزمائی کرتا ، تو ابتدا نعت رسول مقبول سے ہی کرتا ہے۔ اٹھارویں صدی میں ولی دکنی کا نعتیہ کلام اردو نعت کے ارتقائی سفر میں ایک نئی منزل کی جانب پیش قدمی ہے۔اردو کے تمام شعراءنے بارگاہ رسالت میں نعت لکھنے کی سعادت حاصل کی۔ غالب کے مقام مرتبہ سے کون آگاہ نہیں اور اکثریت کے نزدیک وہ اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔
علامہ اقبال نے نعت کے حوالے سے جو مضامین پیش کیے اس سے نعت گوئی کے نئے افق روشن ہوئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکیم الامت نے جو سمجھا قرآن سے سمجھا اور جو کچھ کہا قرآن کی روشنی میں کہا۔ فرماتے ہیں
چشمِ اقوام یہ نظّارہ ابد تک دیکھے
رفعتِ شانِ رفعنالک ذکرک دیکھے
جواب شکوہ کا یہ خوبصورت بند ملاحظہ ہو
ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنّم بھی نہ ہو
چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسّم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مَے بھی نہ ہو خُم بھی نہ ہو
بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا اِستادہ اسی نام سے ہے
نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
بارگاہ رسالت میں صرف مسلم شعرا ہی نہیں بلکہ بہت سے غیرمسلم شعرا نے بھی اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے ۔ بہت سے غیر مسلم شعراءنے یاگار نعتیں تخلیق کی ہیں۔ جگن ناتھ آزاد نے کیا خوب کہا ہے
سلام اس ذات اقدس پر سلام اس فخر دوراں پر
ہزاروں جس کے احسانات ہیں دنیائے انساں پر
پنڈت ہری چند اخترؔ کی نعت کے یہ اشعار تو بہت مقبول ہوئے
کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کردیا
کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کردیا
آدمیت کا غرض ساماں مہیا کردیا
اک عرب نے آدمی کا بول بالا کردیا

اپنا تبصرہ بھیجیں