پاکستان میں ’’ففتھ جنریشن وار فیئر‘‘ کی حقیقت !

اکستان میں آج کل ’’ففتھ جنریشن وار فیئر‘‘ کی اصطلاح کا استعمال کافی عام ہو گیا ہے۔ مختلف مواقع پر دہرایا ہے کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار فیئر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔اس اصطلاح کو سمجھنے کے سادہ الفاظ میں یہ سمجھ لیں کہ اب جنگیں لڑنے کا اسٹائل بدل گیا۔

کسی زمانے میں فوجیں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتی تھیں، جس کی فوجی تعداد زیادہ ہوتی وہ جیت جاتا تھا۔ پھر ہتھیار اہم ہوئے، جدید ہتھیار، ٹیکنالوجی والے میدان مار لیتے۔ پھر معیشت زیادہ اہم ہوئی۔یہ سب اصطلاح کے مطابق فرسٹ جنریشن وار فیئر، سیکنڈ جنریشن وارفیئر ، تھرڈ جنریشن وار فیئر تھے۔ فورتھ جنریشن وار فیئر میں دہشت گردی کے ہتھیار کو برتا گیا۔ مختلف ممالک میں دہشت گرد تنظیمیںپیدا ہوئیں یا کی گئیں۔

بعض ماہرین کے خیال میں روس کو زچ کرنے کے لیے ان ڈائریکٹ طریقے سے چیچن مسلح مزاحمت کو بھی سپورٹ کیا گیا۔ یہاں پر چلتے چلتے سمجھ لیں کہ جنریشن سے مراد زیادہ جدید ، ایڈوانس معاملہ ہے۔ خیر عالمی قوتوں کو یہ محسوس ہوا کہ تھرڈجنریشن اور فورتھ جنریشن وار فیئر کے امتزاج کے باوجود بعض جگہوں پر کامیابی نہیں ہو رہی۔ یہ محسوس کیا گیا کہ کہیں کہیں پر خراب معیشت ، کم عسکری قوت کے باوجود مکمل شکست نہیں ہو پا رہی۔
وہاں قوم کا اتحاد اور یک جہتی رکاوٹ تھی،وطن پرستی اور ایک قوم ہونے کی وجہ سے مزاحمت جاری ہے۔ تب نیا فیز آیا، جسے ففتھ جنریشن وار فیئر کہا جا رہا ہے۔یہ نظریات کی جنگ ہے۔مختلف نظریاتی، مسلکی، فکری ایشو کھڑے کر کے کسی بھی قوم کو تقسیم کرنا۔ان کے مابین ایسی نفرتیں پیدا کر دینا، جس سے کوئی خاص مسلکی، لسانی، علاقائی گروہ یا آبادی اس قدر ناخوش، بیزار اور ناراض ہوجائے کہ ملکی سالمیت کی جنگ اس کے لیے اہم نہ رہے۔ مختلف جگہوں پر اس کے مختلف ماڈل آزمائے گئے۔

اس لیے زیادہ آسانی سوشل میڈیا اور سائبر میڈیا استعمال کیا جاتا ہے۔ نفرت انگیزتحریر، تقریر، ویڈیوکلپ ، زہریلا مواد شایع کرنے والی ویب سائٹس وغیرہ وغیرہ۔سوشل میڈیا سائٹس کے ذریعے یہ کام کرنا بہت آسان ہے کہ کسی بھی ملک میں بیٹھ کر بے شمار فیک اکاؤنٹ بن سکتے ہیں۔جنھیں بند کرانا بھی آسان نہیں۔کسی بھی من پسند تحریریا کلپ کو وائرل کیا جاسکتا ہے۔ یہ بھی آسانی ہے کہ کلوز گروپس بن سکتے ہیں۔ اپنے ہم خیال افراد اس گروپ میں شامل کر لیں، ہمارے ہاں ایک اور بھی رواج ہے کہ اگر کوئی شخص اس قسم کے خطرے سے خبردار کرنے لگے تو اس کی بات کو کانسپریسی تھیوری یعنی سازشی نظریہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے، نظرانداز کردیا جاتاہے یا حوصلہ شکنی کر دی جاتی ہے۔

تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ ’’بیمار‘‘ ذہن لوگ ہر معاملے میں سازش کی دیکھتے ہیں اور ان کا مقصد صرف سازشی تھیوریز گھڑنا ہے، ورنہ کیا عالمی قوتوں کو اور کوئی کام نہیں جو ہر وقت ہمارے خلاف سازشیں کرتے رہیں وغیر ہ وغیرہ۔ خاکسار یہ بات مگر عاجزانہ یقین سے کہہ سکتا ہے کہ اس کالم میں جو کچھ بیان کیا گیا، وہ کوئی سازشی تھیوری نہیں۔ ہمارے اردگرد پچھلے چند برسوں میں رونما ہونے والے واقعات کے بغور مشاہدے سے یہ نتائج اخذ کیے گئے۔ چند مختصر مثالیں دینا چاہوں گا۔ نائن الیون یعنی گیارہ ستمبر 2001 کو امریکا پر حملہ ہوتا ہے، خود امریکیوں کے دعوے کے مطابق یہ القاعدہ نے کیا اور طیارے ہائی جیک کرنے والے اس کے ایجنٹ تھے، افغانستان پر حملہ کر کے طالبان حکومت ختم کر دی جاتی ہے۔اسامہ بن لادن اور اس کا نائب فرار ہوجاتا ہے۔ایک لمحے کے لیے تمام امریکی دعوے درست مان لیں، تب بھی امریکا کو القاعدہ کا پیچھا کرنا چاہیے تھا تاکہ درپیش خطرہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔

اس کے بجائے عراق کو ہدف بنا لیا جاتا ہے۔ مغرب میں مقیم چند مشکوک عراقی نمودار ہو کر دنیا کو یہ کہانی سناتے ہیں کہ صدام حسین کے پاس تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔ امریکی جنرل کولن پاول اقوام متحدہ میں دھواں دھار تقریر کر کے اقوام عالم کو قائل کرتا ہے۔دنیا کے نامور اخبارات پروپیگنڈے کے لیے اپنے صفحات پیش کردیتے ہیں۔حتیٰ کہ ایک روز امریکی اپنے برطانوی اتحادی کے ساتھ عراق پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ عراق پر قبضہ ہوگیا، مگر ہتھیاروں کے نام پر ایک نلکی تک نہ ملی۔بعد میںجنرل کولن پاول اپنی کتاب میں شرمندگی ظاہر کرتا ہے کہ اس نے جعلی اور جھوٹی اطلاعات کی بنیاد پر تقریر کی۔ عراقیوں کو مگر اس سے کیا ملا؟ عراقی عوام ایک دوسرے سے نفرت کرنے والے مسلکی گروہوں میں بٹ گئی، کرد عراق کے ٹکڑے کرنے کے درپے ہیں۔ نائن الیون سے پہلے عراق بے پناہ معاشی پابندیوں کے باوجود مستحکم جب کہ آج کا عراق ایک تباہ حال ملک ہے۔

جب عراق جیسی کہانی مزید دہرانا ممکن نہیں رہتا، تب کتاب کا ایک نیا باب کھلتا ہے۔ عرب اسپرنگ کے نام پر ایک ایسی ’’عوامی بیداری ‘‘کی تحریک چلتی ہے کہ دنیا بھر میں تبدیلی کے خواہاں، آمریت مخالف لوگ پرجوش ہو کر اس کی حمایت میں لکھتے ہیں۔ ایک لہر آئی جس نے مصر، تیونس، یمن میںحکمران بدل دیے۔ مصر میں اخوان کی جیت سے پاکستانی اسلامسٹ بھی خوش ہوئے، وہ بے خبر تھے کہ اصل منصوبہ اخوانیوں کو ذبح کرنے کا ہے۔ہارر فلم ابھی شروع ہوئی تھی۔ لبیا میںفرانس کی جنگی قوت استعمال کر کے قذافی حکومت ختم کی گئی۔

کرنل قذافی قتل ہوئے ،مگر اس پرسکون اور نہایت خوشحال چھوٹے سے ملک میں سکون ہونے کے بجائے قبائلی اختلافات ایسے ابھرے کہ آج خانہ جنگی ہے۔یمن پر 37 سال حکومت کرنے والے ڈکٹیٹر کے ہٹنے پر ہم لوگ بھی خوش ہوئے، مگر اس وقت معلوم نہیں تھا کہ ہدف یمن میں خانہ جنگی اور سعودی عرب کے لیے حوثی قبائل کو خطرہ بنانا تھا۔شام نے تو ہر ایک کوبھونچکا کر دیا۔بچ نکلنے والے خوش نصیب ممالک میں وطن پرستی کا جذبہ طاقتور تھا یا پھرا سٹرکچر ایسا کہ ففتھ جنریشن وار فیئر عناصر سرائیت نہ کر سکے۔

ایران اپنی تمام تر معاشی تنگدستی کے باوجود صرف ایرانی نیشنل ازم کی وجہ سے بچ پایا۔ایران میں مذہبی حکومت بدلنے کے لیے ہر قسم کے جتن کیے گئے۔ اخبارات کے ریگولر قارئین کو یاد ہوگا کہ چند سال پہلے سوشل میڈیا کے ذریعے ایران میں بہت بڑی اپوزیشن تحریک چلائی گئی۔ لاکھوں لوگ تہران اور بڑے شہروں میں اکھٹے ہو جاتے۔ آج وہ کہاں ہیں؟ ایرانی صرف اس لیے تباہ ہونے سے بچ گئے کہ انھوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے لڑی جانے والی ففتھ جنریشن وارفیئر کے پیچھے امریکی ہاتھ دیکھ لیے۔

بہرکیف ففتھ جنریشن وار فیئر اصل میں جنگوں میں جدت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا نام ہے۔پوری دنیا میں سوشل میڈیا کو ففتھ جنریشن وار فیئر سے منسلک کیا جاتا ہے تاکہ غیر جمہوری قوتوں کو یہ جواز ملے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال کرنے والوں پر کڑی نظر رکھ سکیں اور ان کے خلاف قوانین بنا سکیں۔اورریسرچ کے مطابق پاکستان میں یہ ماڈل ابھی ارتقائی دور سے گزر رہا ہے اسے اگر چاہیں تو ابھی ہی سے کنٹرول کر سکتے ہیں، پاکستان میں اس کا آزادانہ استعمال تو جاری ہے مگر اس حوالے سے حکومت قانو ن سازی بھی کر رہی ہے جو اس قدر کامیاب نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہیے، حکومت پر ’’آزادی اظہار رائے ‘‘کو طاقت سے کنٹرول کرنے کا جو الزام ہے ، حکومت کا اُس سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا ہے۔

لہٰذاسوال یہ ہے کہ حکومت کو ترکی، ملائیشیا، چین اور ایران کی طرز پر سوشل میڈیا کو اس انداز میں ریاستی دائرہ کار میں لانا ہوگا کہ اس سے ملک دشمن قوتیں فائدہ نہ اُٹھا سکیں۔ فی الحال تو یہی دیکھا گیا ہے کہ اگر سوشل میڈیا پر کوئی متنازعہ ویڈیو شیئر کر دی جائے تو حکومت کے پاس بیرئیر لگانے کا کوئی راستہ نہیں ہے بلکہ حکومت پورے سوشل میڈیاکو بند کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتی ہے جس سے عالمی دباؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ لہٰذاایسے سوفٹ وئیر بنائے جائیں جو فلٹرڈ ویڈیو ، فلٹر ڈ پوسٹس کو آگے جانے دے۔ ویب چینلز کو باقاعدہ رجسٹرڈ کیا جائے، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی رجسٹریشن کا کوئی طریقہ نافذ کیا جائے جس سے مکمل نگرانی ہو ورنہ خدانخواستہ پاکستان میں بھی ففتھ جنریشن وار کہیں حقیقت بن کر نہ اُبھر آئے !

اپنا تبصرہ بھیجیں