عورتوں کے حقوق یا کچھ اور…

حالیہ عالمی یوم خواتین کے موقع پر عورت مارچ کے نام پر اسلام اور قانون کی جس انداز میں دھجیاں اڑائی گئیں اس نے ہمیں قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔

عورت مارچ کے ذریعے پوری دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اسلام ایک ایسا مذہب ھے جس میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں، وہ مرد کی ملکیت ہے، مرد جیسے چاہے اس کے ساتھ سلوک کر سکتا ہے۔ عورت اس کی باندی ہے، غلام ہے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی عورت کے حقوق کا جو استحصال ہو رہا ہے اس کا تعلق اسلام اور قانون سے کم، جاہلانہ رسم و رواج سے زیادہ ہے۔ اس کے علاؤہ تعلیم کی کمی، حقوق نسواں سے لاعلمی بھی عورت کے حقوق ملنے میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔

عورت مارچ کے ذریعے پوری دنیا پر یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستانی عورت گھریلو ذمے داریوں، لباس سے حتی کہ نکاح جسے مقدس بندھن سے بھی آزاد ی چاہتی ہے جبکہ عورت کے تمام بنیادی حقوق جسے حقوق وراثت، تعلیم جیسے معاملات کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ہزاروں معصوم عورتیں غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔ مگر ان کے مجرم سرعام گھومتے رہتے ہیں۔

ونی ، جہیز ، سکول و کالج اور کام کی جگہوں پر ہراسگی جیسے جرائم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی جاتی جبکہ میرا جسم میری مرضی، چادر اور چار دیواری، کھانا خود گرم کر لو، موزہ خود ڈھونڈ لو، میں آ وارہ میں بدچلن جیسے نعرے لگا کر عورت کی بے حرمتی کی گئی۔ اتنے اہم دن کا فائدہ اٹھانے کے بجائے ضائع کر دیا گیا۔

پاکستان میں بہت کم ایسی منظم سماجی تنظیمیں ہیں جو خواتین کے حقوق کی صحیح طور پر علمبردار ہیں اور جو خواتین کے حقوق کیلئے عملی طور متحرک ہیں۔ پاکستانی عورت کی پسماندگی اور مظلومیت میں احساس کمتری، سماج کا خوف، تعلیم کی کمی اور اپنے حقوق سے لاعلمی کا بڑا ہاتھ ہے۔

پاکستانی عورت اپنے حقوق کو غصب ہوتا تو دیکھتی ہے مگر اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتی جس کی وجہ اسلام اور قانون سے ناواقفیت ہے۔ اگر پاکستان میں سماجی تنظیمیں اپنا صحیح کردار ادا کریں تو خواتین کے حقوق کے حصول میں جو رکاوٹیں ہیں ان کو ختم کیا جانا ناممکن نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں