سوئیڈن میں طالب علم کیسے جا سکتے ہیں

وطن نیوز
سوئیڈن اور فن لینڈ دونوں ممالک میں پاکستان طالب علم کیا کہتے ہیں کہ ان دونوں ممالک کی آبادی 15ملین تقریبا ڈیڑھ کروڑ ہے جبکہ رقبہ پاکستان کے برابر ہے۔انسانی وسائل زیادہ نہیں ۔کچھ علاقوں میں غیر مناسب موسم رہتا ہے جہاں کافی عرصے تک سردیاں رہتی ہیں۔ سوئیڈن میں دوقدرتی ذرائع جنگلات اور آئرن بہت ہیں ،ان دونوں ممالک میں قدرتی ذرائع زیادہ نہیں اس کے باوجود ایجادات میں یورپ کے بڑے ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کا تعلق سوئیڈن سے ہے۔ایجوکیشن ،ٹیکنالوجی اور انڈسٹری کا آپس میں گہرا تعلق ہے،ہماری یونیورسٹیوں کو انڈسٹری کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے،

ہمارے طالب علم اداروں سے پڑھ کر نکلے ان میں صلاحیت ہو کہ معیشت کو سنبھالا دے سکیں۔سوئیڈن اور فن لینڈ ٹیکنالوجی اور آئی ٹی میں بہت آگے ہیں ،جس کی بنیادی وجہ ان کے تعلیمی اداروں کا ا نڈسٹری سے رابطہ ہے،تعلیم کا بنیادی مقصد معیشت کو مضبوط کرنا ہوتا ہے،سوئیڈن میں Sustainable Development or Reneveable Technology پر بہت کام کررہا ہے اور چاہتا ہے وہ دنیا کا پہلا ملک بنے جو Fossil Free Economy ہو ۔ Sustainable Energy کی ایجوکیشن کیلئے دونوں ممالک بہت مفید ہیں ۔ سوئیڈن اپنی خارجہ پالیسی کو Feminist Policyکہتا ہے۔یہ اس ملک اور کمپنی کے ساتھ تجارت بھی نہیں کرتا جس میں خواتین کی اکثریت نہ ہو،یہی وجہ ہے طالبات کو سوئیڈ ن میں بہت مواقع نظر آئیں گے۔سوئیڈن کے کچھ تعلیمی ادارے پاکستان کے ساتھ کام کررہے ہیں، تحقیقی کاموں کے حوالے سے یونیورسٹیوں کویورپ میں آزادی ہے۔کسی بھی ملک کے سفارت خانے قانونی مدد اور ماحول فراہم کرتا ہے لیکن تعلیمی میدان میں آگے نکلنا یا ریسرچ کرنا یونیورسٹیوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں سے رابطے کررہے ہیں ،

محمد علی جناح یونیورسٹی سے بھی بات کریں گے ۔دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان معاہدہ ہوسکتا ہے اس پر کام بھی کررہے ہیں ،ترکی میں یونیورسٹی ہے جو ٹیکنیکل او ر ووکیشنل ٹریننگ میں فن لینڈ کا بڑا ادارہ ہے ، جس کا پاکستان مین نیوٹیک کے ساتھ معاہد ہ ہوا ہے۔ پاکستان میں دیگر ایجوکیشن کی نسبت ٹیکنیکل ووکیشنل تعلیم بہت سو د مند ہے۔آگے بڑھنے کیلئے مقامی زبان سیکھنی چاہیے۔ پاکستانیوں میں بہت صلاحیت ہے ،یہی وجہ ہے پاکستانی ہر ملک میں کام کرتے نظر آئیں گے۔ سوئیڈن میں ایگری کلچر یونیورسٹی بھی بہت اچھی ہے،فن لینڈ دنیا کا وہ ملک ہے جہاں دودھ کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے، پاکستان اس فیلڈ میں بھی فن لینڈ کے ساتھ کام کرسکتاہے۔2012ء تک سوئیڈن میں ہائر ایجوکشن کیلئے کسی بھی ملک سے آنے والوں کیلئے کوئی فیس نہیں تھی اب ہوتی ہے۔اسکالر شپ کے ساتھ دیگر سہولتیں ہیں۔

زبان کا کوئی مسئلہ نہیں،ماسٹر اور پی ایچ ڈی انگریزی میں ہوتی ہیں۔خاص قسم کا کورس کرنا چاہیں یا زیادہ عرصے رہنا چاہیں تو سوئیڈش زبان آنی چاہیے ۔پاکستانی نوجوانوں میں جذبہ ہے جہاں بھی جا تے ہیں اپنا اور ملک کا نام روشن کر تے ہیں۔نوجوان آئیں اور پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے اپنے ملک کی خوبیوں کو پیش کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں