بیماری میں مبتلا ہوکر علاج کروانے سے بہتر ہے کہ مثبت سوچ اور طرزِ عمل اختیار کے ذریعے بیماری کو دور رکھا جائے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ) بیماری میں مبتلا ہوکر علاج کروانے سے بہتر ہے کہ مثبت سوچ اور طرزِ عمل اختیار کے ذریعے بیماری کو دور رکھا جائے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ) برسبین/پرتھ : ذہنی و جسمانی صحت سے متعلق اب تک کی سب سے بڑی تحقیق سے ایک بار پھر ثابت ہوا ہے کہ ذہنی صحت اچھی ہو تو نہ صرف جسمانی صحت اچھی رہتی ہے بلکہ زندگی بھی طویل ہوسکتی ہے۔ آسٹریلیا میں کی گئی اس تحقیق کےلیے ماضی میں ذہنی و جسمانی صحت سے متعلق 420 مطالعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا جن میں مجموعی طور پر 53 ہزار سے زیادہ افراد شریک ہوئے تھے۔ اس تحقیق سے جہاں اچھی ذہنی و جسمانی صحت میں تعلق ایک بار پھر ثابت ہوا، وہاں کئی ایسی اہم تدابیر کی نشاندہی بھی ہوئی جنہیں اختیار کرکے اچھی دماغی صحت کا حصول ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ اگرچہ ان تدابیر کی فہرست خاصی طویل ہے تاہم ان میں ’’مائنڈ فلنیس‘‘ اور ’’مثبت نفسیاتی تدابیر‘‘ (PPIs) سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ بنیادی طور پر ان دونوں اقسام کے طریقوں/ تدابیر سے دماغ اور اعصاب کو مضبوط بنایا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں کسی ناگہانی صورتِ حال کا سامنا ہونے پر وہ زیادہ متاثر نہ ہوں اور یوں نفسیاتی امراض سے بھی محفوظ رہا جاسکے۔ یہی چیز جسمانی صحت پر بھی اچھا اثر ڈالتی ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مثبت سوچ اور مثبت طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے بیماری کو خود سے دور رکھا جائے تو وہ بیماری میں مبتلا ہو کر نفسیاتی علاج معالجہ کروانے سے کہیں بہتر ہے۔ البتہ انہوں نے تجویز کیا ہے کہ ذہنی صحت بہتر بنانے کےلیے کسی ایک طریقے کو حرفِ آخر نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ لوگوں کو مختلف طریقے آزما کر اپنے لیے موزوں ترین اور مؤثر ترین تدابیر کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اس تحقیق کی تفصیلات آن لائن ریسرچ جرنل ’’نیچر ہیومین بیہیویئر‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

برسبین/پرتھ : ذہنی و جسمانی صحت سے متعلق اب تک کی سب سے بڑی تحقیق سے ایک بار پھر ثابت ہوا ہے کہ ذہنی صحت اچھی ہو تو نہ صرف جسمانی صحت اچھی رہتی ہے بلکہ زندگی بھی طویل ہوسکتی ہے۔

آسٹریلیا میں کی گئی اس تحقیق کےلیے ماضی میں ذہنی و جسمانی صحت سے متعلق 420 مطالعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا جن میں مجموعی طور پر 53 ہزار سے زیادہ افراد شریک ہوئے تھے۔

اس تحقیق سے جہاں اچھی ذہنی و جسمانی صحت میں تعلق ایک بار پھر ثابت ہوا، وہاں کئی ایسی اہم تدابیر کی نشاندہی بھی ہوئی جنہیں اختیار کرکے اچھی دماغی صحت کا حصول ممکن بنایا جاسکتا ہے۔
اگرچہ ان تدابیر کی فہرست خاصی طویل ہے تاہم ان میں ’’مائنڈ فلنیس‘‘ اور ’’مثبت نفسیاتی تدابیر‘‘ (PPIs) سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔

بنیادی طور پر ان دونوں اقسام کے طریقوں/ تدابیر سے دماغ اور اعصاب کو مضبوط بنایا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں کسی ناگہانی صورتِ حال کا سامنا ہونے پر وہ زیادہ متاثر نہ ہوں اور یوں نفسیاتی امراض سے بھی محفوظ رہا جاسکے۔ یہی چیز جسمانی صحت پر بھی اچھا اثر ڈالتی ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مثبت سوچ اور مثبت طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے بیماری کو خود سے دور رکھا جائے تو وہ بیماری میں مبتلا ہو کر نفسیاتی علاج معالجہ کروانے سے کہیں بہتر ہے۔

البتہ انہوں نے تجویز کیا ہے کہ ذہنی صحت بہتر بنانے کےلیے کسی ایک طریقے کو حرفِ آخر نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ لوگوں کو مختلف طریقے آزما کر اپنے لیے موزوں ترین اور مؤثر ترین تدابیر کا انتخاب کرنا چاہیے۔

اس تحقیق کی تفصیلات آن لائن ریسرچ جرنل ’’نیچر ہیومین بیہیویئر‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں