ارجنٹائن کے ساحل کے قریب بحر اوقیانوس کی گہرائیوں میں سائنسدانوں نے حیاتیات کی نئی سمندری مخلوقات کی ایک حیران کن دنیا دریافت کی ہے۔ بیونس آئرس کی مائیمونیڈس یونیورسٹی میں ہونے والی اوشن مردم شماری ورکشاپ کے دوران ماہرین نے مار ڈیل پلاٹا زیر آب وادی سے حاصل کردہ نمونوں میں ستاون نئی سمندری مخلوقات اور پانچ نئی جنسوں کی نشاندہی کی۔ ان میں سینگوں والا ایک سمندری کھیرا بھی شامل ہے جسے محققین نے “لوکی” کا نام دیا ہے۔
اہم نکات
- مار ڈیل پلاٹا زیر آب وادی میں ستاون نئی سمندری مخلوقات اور پانچ نئی جنسیں دریافت ہوئیں۔
- نمونے گزشتہ سال شمٹ اوشن انسٹیٹیوٹ کی مہم میں روبوٹک آبدوز سباسٹیئن کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے۔
- دریافتوں میں بیس نئے کوپی پوڈز، بائیس ایکائنوڈرمز اور چودہ نائیڈیرینز شامل ہیں۔
- “لوکی” نامی سمندری کھیرا دو ہزار پانچ سو ستتر میٹر کی گہرائی میں پایا گیا۔
- فروری اور مارچ 2027 میں ایک اور مہم ایک مختلف زیر آب وادی کی کھوج کرے گی۔

نئی سمندری مخلوقات کی دریافت کیسے ہوئی؟
گزشتہ سال محققین نے ارجنٹائن کے ساحل کے قریب ساڑھے تین ہزار میٹر سے زیادہ گہری مار ڈیل پلاٹا وادی میں دور سے چلنے والی روبوٹک آبدوز سباسٹیئن کے ذریعے مختلف جانوروں کے نمونے حاصل کیے تھے۔ اس سال لاطینی امریکہ اور یورپ کے درجنوں سائنسدانوں نے بیونس آئرس میں دو ہفتوں پر محیط ایک ورکشاپ میں ان نمونوں کا مطالعہ کیا اور جدید بین الاقوامی تعاون و تحقیقاتی تکنیکوں کی مدد سے ان کی تیزی سے شناخت کی۔
اوشن مردم شماری کی سربراہ سائنس ڈاکٹر مشیل ٹیلر کے مطابق صرف دو ہفتوں میں ستاون نئی مخلوقات اور پانچ نئی جنسوں کی دریافت باہمی درجہ بندی کی رفتار اور طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ تمام دریافتوں کو اوشن مردم شماری کے کھلے پلیٹ فارم نووا میں درج کر دیا گیا ہے تاکہ دنیا بھر کے سائنسدان اس ڈیٹا سے فائدہ اٹھا سکیں۔
| مخلوقات کا گروہ | نئی نسلوں کی تعداد |
|---|---|
| کوپی پوڈز (ننھے قشریات) | بیس |
| ایکائنوڈرمز (سمندری کھیرے وغیرہ) | بائیس |
| نائیڈیرینز (مرجان وغیرہ) | چودہ |
| دیگر | ایک |
“لوکی” — سینگوں والا سمندری کھیرا
دریافتوں میں سب سے نمایاں “لوکی” ہے، جو پینی اگون نسل کا ایک شفاف سمندری کھیرا ہے۔ دو ہزار پانچ سو ستتر میٹر کی گہرائی میں پائے جانے والے اس جانور کے جسم پر سینگ نما ابھار ہیں، جن کی وجہ سے محققین نے اسے نورس دیومالا کے مشہور کردار کے نام سے موسوم کیا۔ یہ ورکشاپ میں شناخت کیے گئے دس نئے سمندری کھیروں میں سے ایک ہے۔
شمٹ اوشن انسٹیٹیوٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر جیوتیکا ورمانی کے مطابق یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ جب عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور مہارت بین الاقوامی سائنسی تعاون سے ملتی ہے تو کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ماحولیات کی مزید خبریں یہاں پڑھیں۔
اگلا مرحلہ کیا ہے؟
سائنسدان جلد ہی مزید کھوج کے لیے روانہ ہوں گے۔ فروری اور مارچ 2027 میں شمٹ اوشن انسٹیٹیوٹ کے ساتھ ایک نئی مہم ایک مختلف زیر آب وادی کی تحقیق کرے گی، جہاں مقامی مخلوقات کی زیادہ تعداد کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گہرا سمندر زمین کے کم ترین سمجھے جانے والے ماحولیاتی نظاموں میں سے ایک ہے، اور ہر نئی مہم ہماری سمجھ میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔
نتیجہ
مار ڈیل پلاٹا وادی کی دریافت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ سمندر کی گہرائیوں میں زندگی کی ایک پوری دنیا آباد ہے جسے ہم ابھی تک پوری طرح نہیں جانتے۔ ان ستاون نئی مخلوقات کا تحفظ سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔























