وطن نیوز انٹر نیشنل

’’کرکٹ پاکستان‘‘ پر ڈیل اسٹین کے انٹرویو نے بھارتیوں کو آگ بگولہ کردیا۔ آئی پی ایل میں دولت کو ترجیح دیے جانے کی حقیقت بیان کر کے آئینہ دکھانے پر بھارت کے لوگ جنوبی افریقی بولر کے پیچھے پڑ گئے۔ سلیم خالق کو دیا گیا یہ انٹرویو ٹویٹر پر ٹرینڈ کرتا رہا، بھارتی ٹی وی چینلز اور ویب سائٹس اس پر تبصرے کرتے رہے ، معروف کرکٹ ویب سائٹس نے بھی اسے استعمال کیا ۔ پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk پر پی ایس ایل کی خصوصی کوریج کا سلسلہ ابتدا سے ہی جاری ہے، چھٹے ایڈیشن سے قبل بائیو ببل کی خلاف ورزی سمیت کئی اہم خبریں اسی نے بریک کیں، ایونٹ میں شریک تمام 6 کپتانوں کے بعد دیگر کرکٹ اسٹارز کے انٹرویوز کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گزشتہ روز جنوبی افریقی اسٹار فاسٹ بولر ڈیل اسٹین کا سلیم خالق کو دیا ہوا انٹرویو ویب سائٹ پر نشر ہوا، اس میں ایک سوال پر انہوں نے کہا تھا کہ میں آئی پی ایل سے رخصت چاہتا تھا اسی لئے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ، دیگر لیگز میں کھیل کر آپ کو بطور پلیئر بہتر صلہ اور اطمینان ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی لیگ میں بڑے اسکواڈز اور بڑے نام ہوتے ہیں، سب سے زیادہ زور اس بات پر ہوتا ہے کہ کون کتنا پیسہ کما رہا ہے، اس صورتحال میں لوگ کرکٹ کو بھول جاتے ہیں، پی ایس ایل اور لنکن لیگ میں کرکٹ کو اہمیت دی جاتی ہے، مجھے پاکستان آئے چند روز ہی ہوئے ہیں، کمرے کے اندر اور باہر لوگ صرف کرکٹ کی بات کرتے ہیں، وہ جاننا چاہتے ہیں کہ میں کہاں اور کیسا کھیلا۔ ڈیل اسٹین نے بتایا کہ آئی پی ایل میں جاؤں تو وہاں کرکٹ کو بھلا کر پوچھا جاتا ہے کہ اس ایونٹ سے کتنی دولت کماؤ گے، تلخ بات دیانتداری سے کہہ رہا ہوں کہ میں اس رویہ سے دور رہتے ہوئے اچھی کرکٹ ، اچھی ٹیموں اور ٹورنامنٹس پر توجہ دینا چاہتا ہوں، میرے نزدیک یہ چیز قابل قدر ہے۔ ڈیل اسٹین کی جانب سے آئینہ دکھانے پر بھارتیوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی، ویڈیو فوراً سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، کئی بھارتی ٹی وی چینلز اور اخبارات نے ان کا یہ انٹرویو استعمال کیا، بھارتی اسٹین سے خاصے ناراض نظر آئے، چند گھنٹے میں لاکھوں افراد اس انٹرویو یا کلپ کو دیکھ چکے تھے، اہم کرکٹ ویب سائٹس نے بھی اسے شائع کیا، پاکستانی شائقین کی بڑی تعداد نے کرکٹ پاکستان کے اس انٹرویو کو سراہا۔

پاکستان

مزید پڑھیں

’’کرکٹ پاکستان‘‘ پر ڈیل اسٹین کے انٹرویو نے بھارتیوں کو آگ بگولہ کردیا۔ آئی پی ایل میں دولت کو ترجیح دیے جانے کی حقیقت بیان کر کے آئینہ دکھانے پر بھارت کے لوگ جنوبی افریقی بولر کے پیچھے پڑ گئے۔ سلیم خالق کو دیا گیا یہ انٹرویو ٹویٹر پر ٹرینڈ کرتا رہا، بھارتی ٹی وی چینلز اور ویب سائٹس اس پر تبصرے کرتے رہے ، معروف کرکٹ ویب سائٹس نے بھی اسے استعمال کیا ۔ پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk پر پی ایس ایل کی خصوصی کوریج کا سلسلہ ابتدا سے ہی جاری ہے، چھٹے ایڈیشن سے قبل بائیو ببل کی خلاف ورزی سمیت کئی اہم خبریں اسی نے بریک کیں، ایونٹ میں شریک تمام 6 کپتانوں کے بعد دیگر کرکٹ اسٹارز کے انٹرویوز کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گزشتہ روز جنوبی افریقی اسٹار فاسٹ بولر ڈیل اسٹین کا سلیم خالق کو دیا ہوا انٹرویو ویب سائٹ پر نشر ہوا، اس میں ایک سوال پر انہوں نے کہا تھا کہ میں آئی پی ایل سے رخصت چاہتا تھا اسی لئے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ، دیگر لیگز میں کھیل کر آپ کو بطور پلیئر بہتر صلہ اور اطمینان ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی لیگ میں بڑے اسکواڈز اور بڑے نام ہوتے ہیں، سب سے زیادہ زور اس بات پر ہوتا ہے کہ کون کتنا پیسہ کما رہا ہے، اس صورتحال میں لوگ کرکٹ کو بھول جاتے ہیں، پی ایس ایل اور لنکن لیگ میں کرکٹ کو اہمیت دی جاتی ہے، مجھے پاکستان آئے چند روز ہی ہوئے ہیں، کمرے کے اندر اور باہر لوگ صرف کرکٹ کی بات کرتے ہیں، وہ جاننا چاہتے ہیں کہ میں کہاں اور کیسا کھیلا۔ ڈیل اسٹین نے بتایا کہ آئی پی ایل میں جاؤں تو وہاں کرکٹ کو بھلا کر پوچھا جاتا ہے کہ اس ایونٹ سے کتنی دولت کماؤ گے، تلخ بات دیانتداری سے کہہ رہا ہوں کہ میں اس رویہ سے دور رہتے ہوئے اچھی کرکٹ ، اچھی ٹیموں اور ٹورنامنٹس پر توجہ دینا چاہتا ہوں، میرے نزدیک یہ چیز قابل قدر ہے۔ ڈیل اسٹین کی جانب سے آئینہ دکھانے پر بھارتیوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی، ویڈیو فوراً سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، کئی بھارتی ٹی وی چینلز اور اخبارات نے ان کا یہ انٹرویو استعمال کیا، بھارتی اسٹین سے خاصے ناراض نظر آئے، چند گھنٹے میں لاکھوں افراد اس انٹرویو یا کلپ کو دیکھ چکے تھے، اہم کرکٹ ویب سائٹس نے بھی اسے شائع کیا، پاکستانی شائقین کی بڑی تعداد نے کرکٹ پاکستان کے اس انٹرویو کو سراہا۔

: کپتان بابراعظم پرجنسی ہراسگی سمیت مختلف الزامات عائد کرنے والی حامیزہ مختارنے کہا کہ ملکی عزت کی خاطرمعزز جج نے کیس ایک ماہ کے لیے ملتوی کردیا ہے۔ قومی کرکٹ کے کپتان بابراعظم پرالزام لگانے والی حامیزہ مختارنے میڈیا مزید پڑھیں

0