پولیس کی اندھا دھند فائرنگ: چکوال واقعے کی انکوائری رپورٹ میں کیا کھلا؟
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں ایک پولیس اہلکار کی فائرنگ سے 9 سالہ آسٹریلوی شہری ہانیہ احمد کی ہلاکت کے معاملے میں انکوائری رپورٹ میں پولیس اہلکار کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ اس واقعے میں ہانیہ کے والد اور بھائی بھی زخمی ہوئے تھے۔ سی سی ڈی اہلکار کا دعویٰ پولیس

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں ایک پولیس اہلکار کی فائرنگ سے 9 سالہ آسٹریلوی شہری ہانیہ احمد کی ہلاکت کے معاملے میں انکوائری رپورٹ میں پولیس اہلکار کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ اس واقعے میں ہانیہ کے والد اور بھائی بھی زخمی ہوئے تھے۔
سی سی ڈی اہلکار کا دعویٰ
پولیس کے مطابق اہلکار نے یہ سمجھتے ہوئے کہ ملزمان اس گاڑی میں فرار ہو رہے ہیں، ’غلطی سے‘ فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں نو سالہ بچی ہلاک اور اس کے والد اور بڑے بھائی زخمی ہو گئے۔
انکوائری رپورٹ کے اہم نکات
- انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم یعنی سی سی ڈی اہلکار نے اپنے انچارج کی اجازت کے بغیر اور اپنی ڈیوٹی سے ہٹ کر معصوم شہریوں پر جان سے مار دینے کی نیت سے اندھا دھند فائرنگ کی۔
- انکوائری رپورٹ کے مطابق ملزم کانسٹیبل نے اپنا یہ مؤقف دہرایا ہے کہ وہ دس اور گیارہ جون کی درمیانی رات سی سی ڈی تھانے کے احاطے میں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ وطن نیوز کی توجہ میں آیا ہے اور ہم اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
خاندان کی реакشن
ہانیہ احمد کے خاندان نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور پولیس اہلکار کے خلاف کارروائی کی مطالبہ کیا ہے۔
ہانیہ احمد کے والد عدیل احمد نے کہا کہ ہم پولیس اہلکار کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کو سزا دی جائے۔
