جرمنی میں شمسی بجلی کی خالص پیداوار نے نئی سالانہ بلند ترین سطح حاصل کر لی ہے اور ستمبر ختم ہونے سے پہلے ہی گزشتہ پورے سال کی پیداوار سے آگے نکل گئی۔ بی ایس ڈبلیو سولر نے فراؤن ہوفر آئی ایس ای کے حوالے سے بتایا کہ 27 ستمبر تک پیداوار 90.2 ٹیرا واٹ آور تک پہنچ گئی، جبکہ پورے 2025 میں یہ 90 ٹیرا واٹ آور تھی۔ 90.2 ٹیرا واٹ آور کا یہ عدد بی ایس ڈبلیو سولر کی فراؤن ہوفر آئی ایس ای سے منسوب صنعت کا عدد ہے، سرکاری حکومتی اعداد و شمار نہیں۔
بی ایس ڈبلیو سولر نے اضافے کی وجہ تنصیب شدہ صلاحیت میں مسلسل توسیع اور غیر معمولی طور پر زیادہ دھوپ کو قرار دیا۔ ادارے کے مینیجنگ ڈائریکٹر کارستن کورنیگ نے کہا کہ یہ ایسی خبر ہے جس پر جرمنی فخر کر سکتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق یہ جشن منانے کا سبب ہے، بیٹھ جانے اور مطمئن ہو جانے کا نہیں۔
یہ ریکارڈ بجلی کے نظام پر دباؤ بھی نمایاں کر رہا ہے۔ اضافی رسد کے زیادہ گھنٹے تھوک منڈی میں منفی قیمتوں اور بجلی کی کٹوتی کا باعث بن رہے ہیں، یعنی ایسے وقت میں قابل تجدید پیداوار کم کرنا پڑتی ہے جب گرڈ اسے جذب نہیں کر پاتا۔
جرمنی کا اتحاد ان قواعد پر غور کر رہا ہے جن سے گنجان علاقوں میں نئے شمسی اور ہوا سے بجلی کے منصوبوں کے لیے مراعات کم ہو سکتی ہیں، جبکہ چھتوں پر لگے چھوٹے شمسی نظاموں کی معاونت بھی گھٹ سکتی ہے۔ وزیر معیشت کاترینا رائخے کا مؤقف ہے کہ بجلی کی کٹوتی کی صورت میں مالی خطرہ منصوبہ سازوں کو اٹھانا چاہیے اور چھوٹے پینل اب مارکیٹ میں بالغ ہو چکے ہیں۔
محققین اور صنعتی گروہوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ اصلاحات سرمایہ کاری کی رفتار روک سکتی ہیں۔ جرمنی کا ہدف 2030 تک شمسی صلاحیت 215 گیگا واٹ تک پہنچانا ہے، جو اس وقت تقریباً 130 گیگا واٹ ہے۔ کورنیگ کے مطابق یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے سرمایہ کاری آسان بنانا ہوگی، نئی رکاوٹیں کھڑی نہیں کرنی ہوں گی۔
اس لیے ریکارڈ کے ساتھ ایک پالیسی انتخاب بھی سامنے آتا ہے: پیداوار بڑھاتے ہوئے گرڈ کو بہتر بنایا جائے اور اضافی بجلی سنبھالی جائے، یا ترقی کے اگلے مرحلے کو مشکل بنا دیا جائے۔ بی ایس ڈبلیو سولر کے نزدیک کامیاب سال کا پیغام نظام کی تیاری تیز کرنا ہے، نئے منصوبوں کی شرائط کمزور کرنا نہیں۔












