نیویارک — عالمی رہنماؤں نے جمعرات 24 ستمبر کو اتفاقِ رائے سے سمندری سطح میں اضافے سے متعلق اقوامِ متحدہ کا پہلا اعلامیہ منظور کر لیا۔ یہ ایک سیاسی دستاویز ہے جو اس اصول کی حمایت کرتی ہے کہ بڑھتے سمندروں کے باعث زمین کھونے والے ممالک کی ریاستی حیثیت برقرار سمجھی جائے اور ان کے سمندری زون مستحکم رہیں۔
یہ اعلامیہ جنرل اسمبلی کے سالانہ عام مباحثے کے موقع پر منعقدہ ایک روزہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں منظور ہوا۔ اقوامِ متحدہ کی اجلاسوں سے متعلق رپورٹنگ کے مطابق مندوبین نے مسودہ “اسے باقاعدہ منظوری کے لیے اسمبلی کو بھیجنے کے ارادے سے” منظور کیا۔ واضح رہے کہ یہ ایک سیاسی اعلامیہ ہے، کوئی لازمی معاہدہ نہیں، اور یہ بذاتِ خود کوئی نیا فنڈ قائم نہیں کرتا۔
اعلامیے میں کیا کہا گیا ہے
اقوامِ متحدہ کی خبر رساں سروس (یو این نیوز) کے مطابق یہ متن چار شعبوں کا احاطہ کرتا ہے:
- سائنس اور ڈیٹا: بہتر مشاہدہ، ڈیٹا کا باہمی تبادلہ اور قبل از وقت خبردار کرنے کے مضبوط نظام۔
- مالی وسائل اور لچک: زیادہ قابلِ پیش گوئی اور آسانی سے دستیاب فنڈنگ، خاص طور پر چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک اور کم ترین ترقی یافتہ ممالک کے لیے۔
- روزگار اور ثقافت: ساحلی روزگار اور ثقافتی ورثے کا تحفظ، اور متاثرہ افراد کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا۔
- بین الاقوامی قانون: اس مفروضے کی حمایت کہ ریاستی حیثیت برقرار رہے گی، اور سمندری سطح میں اضافے سے ہونے والی جغرافیائی تبدیلیوں کے باوجود اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کے تحت قائم سمندری زون برقرار رکھے جا سکیں گے۔
رکن ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ جنرل اسمبلی کے 84ویں اجلاس کے اختتام سے پہلے اس معاملے پر ایک اور اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا جائے گا۔
ریکارڈ اضافہ
اجلاس کے افتتاح پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا کہ 2024 میں عالمی سمندری سطح تقریباً چھ ملی میٹر بلند ہوئی، جو اب تک ریکارڈ کیا گیا سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے۔ ان کا کہنا تھا: “بلند ہوتے سمندر مستقبل کو ڈبو رہے ہیں۔” انہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کے اندازوں کا حوالہ دیا کہ بہترین صورتِ حال میں بھی 2100 تک سمندر کی سطح نصف میٹر تک بلند ہونے کا امکان ہے۔ یو این نیوز کے مطابق دنیا میں تقریباً 77 کروڑ افراد ہائی ٹائیڈ کی سطح سے پانچ میٹر سے کم بلندی پر رہتے ہیں۔
گوتیرش نے تین محاذوں پر اقدامات پر زور دیا: اخراج میں کمی، کمیونٹیز کا تحفظ اور قانونی خلا پُر کرنا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اخراج کو فوری طور پر اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ کر رکنا ہوگا اور 2035 تک اس میں 60 فیصد کمی لانا ہوگی، جبکہ موافقت (ایڈاپٹیشن) کے لیے مالی وسائل تین گنا کرنا ہوں گے۔ ان کے بقول: “جی 20 کو قیادت کرنی چاہیے، اور ترکیہ میں ہونے والی کوپ 31 کو نتائج دینے ہوں گے۔”
جزائر کے لیے قانونی یقین دہانی
تووالو اور مارشل جزائر جیسے نشیبی ممالک کے لیے اس متن کا مرکزی نکتہ اس کی قانونی زبان ہے۔ چھوٹے جزیرہ نما ممالک کے اتحاد (اے او ایس آئی ایس) کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے پلاؤ کے صدر سورانگل وِپس جونیئر نے کہا: “جن ریاستوں کی پہچان ہی ان کے گرد پھیلے سمندر سے ہے، ان کے لیے سمندری سطح میں اضافے کے اثرات زندگی بدل دینے والے ہوں گے۔” تووالو کے وزیرِ اعظم فیلیٹی تیو نے اعلامیے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اپنے ملک کے مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔
مذاکرات میں شریک سہولت کار ملک کابو ویردے کے وزیرِ اعظم فرانسسکو کاروالیو نے کہا کہ اتفاقِ رائے سے منظوری اس بات کا ثبوت ہے کہ کثیرالجہتی نظام اب بھی کام کر رہا ہے۔ کیریبین کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے جمیکا نے مستحکم سمندری زونز اور ریاستی تسلسل کو تسلیم کیے جانے کا خیرمقدم کیا اور اسے خودمختاری، سلامتی اور روزگار کے تحفظ کی ضمانت قرار دیا۔
امریکی جریدے گرسٹ کے مطابق امریکا نے اس متن کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ گرسٹ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ریاستی حیثیت سے متعلق زبان گزشتہ برس عالمی عدالتِ انصاف کی موسمیاتی مشاورتی رائے سے ہم آہنگ ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ کسی ریاست کے کسی بنیادی جزو کے ختم ہو جانے سے “لازمی طور پر اس کی ریاستی حیثیت ختم نہیں ہوتی۔”
‘یہ منزل نہیں’
کئی مقررین نے کہا کہ اب اس متن کو مالی وسائل اور عملی اقدامات میں بدلنا ہوگا۔ مائیکرونیشیا کی وفاقی ریاستوں کے نائب صدر آرین پالک نے کہا: “یہ اعلامیہ نہایت اہم ہے، لیکن یہ اس ادارے کا آخری کام نہیں ہونا چاہیے۔” مالدیپ کے نائب صدر حسین محمد لطیف نے سمندری سطح میں اضافے کی نگرانی کے لیے ایک نظام قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: “جس چیز کی پیمائش نہ ہو سکے، اس سے نمٹا بھی نہیں جا سکتا۔”
اجلاس میں نئے وعدے محدود رہے۔ یورپی کمشنر کوسٹاس کادیس نے یورپی کمیشن اور کینیڈا کے شروع کردہ اوشن آئی انٹرنیشنل الائنس کا حوالہ دیا، جس کے لیے سمندری مشاہدے کی مد میں 25 کروڑ ڈالر کے وعدے حاصل ہو چکے ہیں۔ برطانیہ نے گلوبل انوائرنمنٹ فیسلٹی کی نویں ری پلینشمنٹ کے لیے 33 کروڑ پاؤنڈ کے وعدے اور اپنی اس پالیسی کو اجاگر کیا جس کے تحت وہ کسی ریاست کی زمین جزوی یا مکمل طور پر سمندر برد ہونے کی صورت میں بھی اس کی ریاستی حیثیت کو تسلیم کرتا ہے۔
جیسا کہ گرسٹ نے نشاندہی کی، یہ اعلامیہ بذاتِ خود کمزور ممالک کو دستیاب مالی وسائل میں اضافہ نہیں کرے گا۔ گوتیرش پہلے ہی اگلے قدم کو انطالیہ میں ہونے والی کوپ 31 سے جوڑ چکے ہیں، جو 9 سے 20 نومبر تک جاری رہے گی۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا یہ اعلامیہ قانونی طور پر لازمی ہے؟
نہیں۔ یہ ایک سیاسی اعلامیہ ہے جسے اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اتفاقِ رائے سے منظور کیا گیا اور باقاعدہ منظوری کے لیے جنرل اسمبلی کو بھیجا گیا۔ یہ بذاتِ خود نہ کوئی نئی معاہداتی ذمہ داری عائد کرتا ہے اور نہ کوئی نیا فنڈ قائم کرتا ہے۔
یہاں “ریاستی حیثیت کے تسلسل” سے کیا مراد ہے؟
متن یہ فرض کرتا ہے کہ کوئی ملک ریاست کی حیثیت برقرار رکھے گا، اور اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کے تحت قائم اپنے سمندری زون بھی برقرار رکھ سکے گا، چاہے بڑھتے سمندر اس کی زمین کو سکیڑ دیں یا مکمل طور پر ڈبو دیں۔
آگے کیا ہوگا؟
متن باقاعدہ منظوری کے لیے جنرل اسمبلی میں جائے گا، اور رکن ممالک نے اسمبلی کے 84ویں اجلاس کے اختتام سے پہلے ایک اور اعلیٰ سطحی اجلاس پر اتفاق کیا ہے۔ انطالیہ میں کوپ 31 (9 تا 20 نومبر) اگلا بڑا موسمیاتی امتحان ہوگا۔
ذرائع
- یو این نیوز، 24 ستمبر 2026: https://news.un.org/en/story/2026/09/1168430
- اقوامِ متحدہ اجلاسوں کی رپورٹنگ SEA/2254، 24 ستمبر 2026: https://press.un.org/en/2026/sea2254.doc.htm
- گرسٹ (جیک بٹل)، 24 ستمبر 2026: https://grist.org/international/united-nations-sea-level-rise-declaration-islands/

















