اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے بحری امور، محمد جنید انور چوہدری نے پاکستانی برآمدات کے لیے عالمی مارکیٹ تک رسائی آسان بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا ہے جو شپنگ کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے، نقل و حمل کے اخراجات میں کمی اور پاکستانی مصنوعات کی عالمی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے ممکنہ انتظامات کا جائزہ لے گا۔
یہ اعلان وفاقی وزیر نے اسلام آباد میں برآمد کنندگان کے تین رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا، جنہوں نے انہیں خطے میں تبدیل ہوتے ہوئے شپنگ روٹس سے پیدا ہونے والی مشکلات سے آگاہ کیا۔ اس وفد میں اسٹائل ٹیکسٹائل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) بھی شامل تھے۔

فیکٹا: اہم نکات
- وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے پاکستانی برآمدات کے لیے عالمی مارکیٹوں تک رسائی بہتر بنانے کا اعلان کیا
- ورکنگ گروپ میں وزارت بحری امور، وزارت تجارت، برآمد کنندگان، شپنگ لائنز اور فریٹ فارورڈرز شامل ہوں گے
- جولائی تا اگست FY27 میں پاکستانی برآمدات 4 فیصد بڑھ کر 5.44 ارب ڈالر ہو گئیں
- ٹیکسٹائل برآمدات 5.55 فیصد بڑھ کر 3.379 ارب ڈالر؛ سمندری مصنوعات کی برآمدات ریکارڈ 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں
- خدمات کی برآمدات 28.8 فیصد بڑھ کر 1.81 ارب ڈالر؛ ترسیلات زر 14.7 فیصد بڑھ کر 7.29 ارب ڈالر
- اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21.39 ارب ڈالر (18 ستمبر) تک پہنچ گئے
برآمد کنندگان کے وفد سے ملاقات
وفاقی وزیر نے اسلام آباد میں برآمد کنندگان کے تین رکنی وفد سے ملاقات کی، جس میں اسٹائل ٹیکسٹائل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) بھی شامل تھے۔ وفد نے وزیر کو ان مشکلات سے آگاہ کیا جو برآمد کنندگان کو خطے میں تبدیل ہوتے ہوئے شپنگ روٹس کی وجہ سے درپیش ہیں، جس سے ترسیل کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور برآمدات کی مسابقت متاثر ہو رہی ہے۔
ملاقات میں برآمد کنندگان نے زور دیا کہ عالمی منڈیوں تک قابل بھروسہ اور سستی رسائی کے بغیر پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ممکن نہیں۔
ورکنگ گروپ کا خاکہ اور اہداف
اعلان کردہ ورکنگ گروپ وزارت بحری امور، وزارت تجارت، برآمد کنندگان، شپنگ لائنز اور فریٹ فارورڈرز کے نمائندوں پر مشتمل ہوگا۔ اس گروپ کا بنیادی مقصد پاکستانی برآمدات کے لیے عالمی مارکیٹوں تک رسائی کو بہتر بنانا، شپنگ کنیکٹیویٹی کو مضبوط کرنا اور نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرنا ہے۔
یہ اقدام علاقائی حریفوں کے مقابلے میں پاکستانی برآمد کنندگان کو درپیش مشکلات کے پیش نظر کیا گیا ہے، تاکہ برآمد کنندگان کو نئے مواقع فراہم کیے جا سکیں اور ملک کی معاشی ترقی کو نئی رفتار مل سکے۔
برآمدات میں بہتری کے اعداد و شمار
ورکنگ گروپ کی تشکیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستانی برآمدات پہلے ہی مثبت رجحان دکھا رہی ہیں۔ جولائی تا اگست FY27 کے دوران اشیاء کی برآمدات 4 فیصد بڑھ کر 5.44 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ خدمات کی برآمدات 28.8 فیصد بڑھ کر 1.81 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
| اشاریہ | قیمت | تبدیلی |
|---|---|---|
| اشیاء کی برآمدات (جولائی–اگست FY27) | 5.44 ارب ڈالر | +4% |
| ٹیکسٹائل برآمدات | 3.379 ارب ڈالر | +5.55% |
| خدمات کی برآمدات | 1.81 ارب ڈالر | +28.8% |
| ترسیلات زر | 7.29 ارب ڈالر | +14.7% |
| کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ | 543 ملین ڈالر | گذشتہ سال 853 ملین ڈالر تھا |

ٹیکسٹائل اور سمندری مصنوعات کی ریکارڈ کارکردگی
ٹیکسٹائل، جو پاکستانی برآمدات کا سب سے بڑا شعبہ ہے، نے نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ کاٹن یارن کی برآمدات 34.8 فیصد بڑھ کر 160.7 ملین ڈالر، ریڈی میڈ گارمنٹس 13.59 فیصد بڑھ کر 827 ملین ڈالر اور نٹ ویئر 4.79 فیصد بڑھ کر 1.004 ارب ڈالر ہو گئیں۔
سمندری مصنوعات کی برآمدات نے بھی تاریخی ریکارڈ قائم کیا اور FY26 میں پہلی بار 500 ملین ڈالر سے تجاوز کر کے 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں — FY24 میں 406 ملین ڈالر سے نمایاں بہتری۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی اور زرمبادلہ ذخائر
برآمدات میں بہتری اور ترسیلات زر میں اضافے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 543 ملین ڈالر رہ گیا، جو گذشتہ سال کے اسی عرصے میں 853 ملین ڈالر تھا۔ ستمبر میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کے اجرا سے اسٹیٹ بینک کے مائع ذخائر 18 ستمبر کو 21.39 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ روپے کی قدر 29 ستمبر کو 277.1 روپے فی ڈالر رہی — گذشتہ سال کے 281.4 روپے فی ڈالر سے بہتر۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق واٹن نیوز کے بزنس سیکشن میں برآمدی شعبے کی مزید خبریں اور ورلڈ سیکشن میں عالمی معیشت کی رپورٹس دیکھی جا سکتی ہیں۔ برآمدات کے اعداد و شمار کے مستند ذرائع میں Xinhua اور Mettis Global شامل ہیں۔
کنٹینر جہازوں کے حصول پر غور
وفاقی وزیر نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اگر برآمد کنندگان مطلوبہ حجم کے کارگو کی دستیابی کی ضمانت دے سکتے ہیں، تو کنٹینر جہازوں کو لیز پر لینے یا خریدنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف بڑے برآمد کنندگان کو فائدہ ہوگا بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بھی عالمی منڈیوں تک پہنچنے کے نئے مواقع فراہم ہوں گے۔
ورکنگ گروپ کی سفارشات پر عمل درآمد سے پاکستان کی معاشی ترقی کو نئی رفتار ملے گی۔
نتیجہ
عالمی مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ورکنگ گروپ کی تشکیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستانی برآمدات میں پہلے ہی بہتری کا رجحان ہے۔ اگر شپنگ کنیکٹیویٹی اور اخراجات میں کمی پر عمل درآمد ہو گیا تو یہ اقدام برآمدات کی بڑھوتری کو مزید تیز کر سکتا ہے۔




















