بھارت نے صاف توانائی کے میدان میں تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے؛ نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کے اعلان کے مطابق ملک کی غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت 31 جولائی 2026 تک 300.50 گیگاواٹ تک پہنچ گئی، جو 2030 تک 500 گیگاواٹ کے قومی ہدف کا 60 فیصد سے زائد ہے۔
اہم نکات
- بھارت کی غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی کی صلاحیت 300.50 گیگاواٹ ہو گئی ہے جو کل نصب شدہ صلاحیت کا 54 فیصد سے زائد ہے۔
- شمسی توانائی 164.59 گیگاواٹ کے ساتھ سب سے آگے ہے، اس کے بعد ہوا سے بجلی 58.14 گیگاواٹ اور پن بجلی 57.24 گیگاواٹ ہے۔
- مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 55.29 گیگاواٹ نئی غیر فوسل صلاحیت شامل ہوئی، جس میں 44.6 گیگاواٹ شمسی اور 6 گیگاواٹ ہوا کی توانائی تھی۔
- 2014 میں محض 2.8 گیگاواٹ سے بڑھ کر شمسی صلاحیت آج تقریباً 165 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔
- ماہرین کے مطابق گرڈ اور ترسیلی نظام کی سست توسیع بڑھتی ہوئی بجلی ضائع ہونے (کٹیلمنٹ) کا سبب بن رہی ہے، جو اگلا بڑا چیلنج ہے۔
300 گیگاواٹ کی تفصیل: کون سا ذریعہ کہاں کھڑا ہے
وزارت کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق غیر فوسل ذرائع کی مجموعی صلاحیت میں شمسی توانائی نے سب سے بڑا کردار ادا کیا۔ صاف توانائی کی مزید خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں شمسی اور ہوا کی توانائی اس وقت سب سے تیزی سے بڑھنے والے ذرائع ہیں۔
| توانائی کا ذریعہ | نصب شدہ صلاحیت (گیگاواٹ) |
|---|---|
| شمسی توانائی | 164.59 |
| ہوا سے بجلی | 58.14 |
| پن بجلی | 57.24 |
| حیاتیاتی ایندھن سے بجلی | 11.75 |
| ایٹمی بجلی | 8.78 |
شمسی توانائی کی قیادت اور ریکارڈ اضافہ
شمسی توانائی اس کامیابی کی اصل انجن رہی ہے۔ 2014 میں صرف 2.8 گیگاواٹ سے شروع ہو کر آج یہ تقریباً 165 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ہوا کی توانائی اسی عرصے میں 21 گیگاواٹ سے بڑھ کر 58 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی۔ مالی سال 2025-26 میں شامل کی گئی 55.29 گیگاواٹ صلاحیت ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے۔

حکومتی پالیسیوں نے اس رفتار کو سہارا دیا ہے۔ اعلیٰ کارکردگی والے مقامی سولر ماڈیولز کے لیے پیداواری حوصلہ افزائی کی اسکیم کے تحت ملک میں سولر آلات کی تیاری کی صلاحیت 2014 میں 2.3 گیگاواٹ سے بڑھ کر اب 200 گیگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی طرح گرین ہائیڈروجن مشن کے ذریعے صنعت کو کاربن سے پاک کرنے اور بھارت کو گرین ہائیڈروجن کی پیداوار و برآمد کا عالمی مرکز بنانے پر بھی کام جاری ہے۔
چیلنج: گرڈ بجلی کی رفتار سے پیچھے
اس کامیابی کے ساتھ ایک سنگین چیلنج بھی سامنے آیا ہے۔ وزارت کے سیکرٹری سنتوش سارنگی کے مطابق بجلی کے گرڈ کی توسیع قابلِ تجدید تنصیبات کی تیزی سے پیچھے رہ گئی ہے، جس کے باعث پیدا ہونے والی صاف بجلی کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو رہا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے اب سولر ڈویلپر اپنے منصوبوں کے ساتھ بیٹری اسٹوریج بھی لگانے لگے ہیں تاکہ گرڈ کی عدم دستیابی کے دوران بجلی محفوظ کی جا سکے۔

2030 کا ہدف اور عالمی تناظر
نئی اور قابلِ تجدید توانائی کے وزیر پرالہاد جوشی نے ایک صنعتی تقریب میں کہا کہ بھارت 2030 تک 500 گیگاواٹ غیر فوسل صلاحیت کے ہدف کو پورا کرنے کی راہ پر مضبوطی سے گامزن ہے۔ اس سنگِ میل کو نومبر میں نئی دہلی میں ہونے والی بھارت قابلِ تجدید توانائی کانفرنس سے قبل جے پور میں منعقدہ علاقائی روڈ شو میں بھی اجاگر کیا گیا، جہاں وزارت کے جوائنٹ سیکرٹری راجیش کلہری نے کہا کہ وسائل سے مالا مال ریاستیں اس قومی مشن میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
قابلِ تجدید بجلی کی پیداوار بھی تیزی سے بڑھی ہے؛ 2014-15 میں 190.96 ارب یونٹ سے بڑھ کر 2025-26 میں 477.79 ارب یونٹ تک پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گرڈ کی توسیع اسی رفتار سے جاری رہی تو بھارت عالمی صاف توانائی کی دوڑ میں مزید آگے نکل سکتا ہے۔
متعلقہ مضامین
- آسٹریلیا کا بحرالکاہل کے لیے 73 لاکھ ڈالر کی قابلِ تجدید توانائی سرمایہ کاری کا اعلان
- یورپی یونین کا تین سرحد پار قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کو خصوصی درجہ
نتیجہ
300 گیگاواٹ کا سنگِ میل ثابت کرتا ہے کہ بھارت کی صاف توانائی کی منتقلی محض موسمیاتی وعدہ نہیں بلکہ صنعتی مسابقت، توانائی کی خودمختاری اور معاشی مضبوطی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ اب اگلا امتحان گرڈ کی جدید کاری، بیٹری اسٹوریج کی توسیع اور 2030 کے 500 گیگاواٹ ہدف کی جانب مسلسل رفتار برقرار رکھنا ہے۔






















