LIVE
اہم خبر
غزہ کی جنگی صورتحال: فلسطینی بیماری، مایوسی اور تباہی کے عالم میںدنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات 2026: سوئٹزرلینڈ سے دبئی تکاستنبول میں صفر فضلہ فورم 2026: کاپ31 سے قبل موسمیاتی اقدام کا عالمی عزمعالمی یومِ سبزی خواری 2026: پائیدار طرزِ زندگی کی طرف بڑھتا ہوا رجحانبھارت کی غیر فوسل توانائی کی صلاحیت 300 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئیماحول دوست نوجوان: کاپ31 یوتھ کلائمٹ آئیڈیاتھون ترکیہ کے سات شہروں میںڈارک سائیڈ آف دی بوم: بنگلہ دیش کی رپورٹنگ کو سوپا 2026 ماحولیاتی صحافت اعزازیورپی موسمیاتی معاہدے کے سفیر: نئے ماحولیاتی سفیر بننے کی درخواستیں 31 اکتوبر تککاپ31: وعدوں سے عمل کی طرف، انطالیہ میں تیاریاں زوروں پرکاپ31: برقی کاری مرکز نگاہ، فوسل ایندھن کے خاتمے پر تعطل برقراربخارسٹ میں پانچواں کلائمٹ چینج سمٹ: 14 اکتوبر کو 1000 سے زائد شرکاپرامس مابیلو: کوئلے کے دھوئیں سے لڑنے والی ماحول کی ہیروکلیئر میں موسمیاتی ایکشن ہفتے کی واپسی: 12 سے 18 اکتوبر تک آگاہی مہمدانانیر مبین کی گلوکاری میں باقاعدہ ڈیبیو، پہلا میوزک ٹریک ’ٹچ‘ ریلیزبلوچستان کی زیتون شجر کاری مہم: 32 لاکھ پودوں کے ساتھ ملک میں سب سے آگےدنیا کی بہترین ماحول دوست سیاحتی منزلیں 2026 — فطرت کے دل میں سفرڈیپ سیک کم از کم 12 ارب ڈالر کی فنڈنگ کے قریب، ٹین سینٹ اور سی اے ٹی ایل سب سے بڑے سرمایہ کارچینی کے برآمدی ٹینڈر کو کوئی بولی نہ ملی، 107 ہزار ٹن اسٹاک فروخت نہ ہو سکاچینی کمپنی چیلنج فیشن کا پاکستان میں بڑا ٹیکسٹائل منصوبہ: 25 ہزار سے زائد نوکریاں اور 40 کروڑ ڈالر برآمدات کا ہدفہیری کین کی ریکارڈ برابر کرنے والی 125ویں کیپ: انگلستان کی چیک جمہوریہ پر 3-0 سے فتحغزہ کی جنگی صورتحال: فلسطینی بیماری، مایوسی اور تباہی کے عالم میںدنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات 2026: سوئٹزرلینڈ سے دبئی تکاستنبول میں صفر فضلہ فورم 2026: کاپ31 سے قبل موسمیاتی اقدام کا عالمی عزمعالمی یومِ سبزی خواری 2026: پائیدار طرزِ زندگی کی طرف بڑھتا ہوا رجحانبھارت کی غیر فوسل توانائی کی صلاحیت 300 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئیماحول دوست نوجوان: کاپ31 یوتھ کلائمٹ آئیڈیاتھون ترکیہ کے سات شہروں میںڈارک سائیڈ آف دی بوم: بنگلہ دیش کی رپورٹنگ کو سوپا 2026 ماحولیاتی صحافت اعزازیورپی موسمیاتی معاہدے کے سفیر: نئے ماحولیاتی سفیر بننے کی درخواستیں 31 اکتوبر تککاپ31: وعدوں سے عمل کی طرف، انطالیہ میں تیاریاں زوروں پرکاپ31: برقی کاری مرکز نگاہ، فوسل ایندھن کے خاتمے پر تعطل برقراربخارسٹ میں پانچواں کلائمٹ چینج سمٹ: 14 اکتوبر کو 1000 سے زائد شرکاپرامس مابیلو: کوئلے کے دھوئیں سے لڑنے والی ماحول کی ہیروکلیئر میں موسمیاتی ایکشن ہفتے کی واپسی: 12 سے 18 اکتوبر تک آگاہی مہمدانانیر مبین کی گلوکاری میں باقاعدہ ڈیبیو، پہلا میوزک ٹریک ’ٹچ‘ ریلیزبلوچستان کی زیتون شجر کاری مہم: 32 لاکھ پودوں کے ساتھ ملک میں سب سے آگےدنیا کی بہترین ماحول دوست سیاحتی منزلیں 2026 — فطرت کے دل میں سفرڈیپ سیک کم از کم 12 ارب ڈالر کی فنڈنگ کے قریب، ٹین سینٹ اور سی اے ٹی ایل سب سے بڑے سرمایہ کارچینی کے برآمدی ٹینڈر کو کوئی بولی نہ ملی، 107 ہزار ٹن اسٹاک فروخت نہ ہو سکاچینی کمپنی چیلنج فیشن کا پاکستان میں بڑا ٹیکسٹائل منصوبہ: 25 ہزار سے زائد نوکریاں اور 40 کروڑ ڈالر برآمدات کا ہدفہیری کین کی ریکارڈ برابر کرنے والی 125ویں کیپ: انگلستان کی چیک جمہوریہ پر 3-0 سے فتح
صاف توانائی

بھارت کی غیر فوسل توانائی کی صلاحیت 300 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی

Usman javed
بھارت کی غیر فوسل توانائی کی صلاحیت 300 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی
Share this story

بھارت نے صاف توانائی کے میدان میں تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے؛ نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کے اعلان کے مطابق ملک کی غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت 31 جولائی 2026 تک 300.50 گیگاواٹ تک پہنچ گئی، جو 2030 تک 500 گیگاواٹ کے قومی ہدف کا 60 فیصد سے زائد ہے۔

اہم نکات

  • بھارت کی غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی کی صلاحیت 300.50 گیگاواٹ ہو گئی ہے جو کل نصب شدہ صلاحیت کا 54 فیصد سے زائد ہے۔
  • شمسی توانائی 164.59 گیگاواٹ کے ساتھ سب سے آگے ہے، اس کے بعد ہوا سے بجلی 58.14 گیگاواٹ اور پن بجلی 57.24 گیگاواٹ ہے۔
  • مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 55.29 گیگاواٹ نئی غیر فوسل صلاحیت شامل ہوئی، جس میں 44.6 گیگاواٹ شمسی اور 6 گیگاواٹ ہوا کی توانائی تھی۔
  • 2014 میں محض 2.8 گیگاواٹ سے بڑھ کر شمسی صلاحیت آج تقریباً 165 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔
  • ماہرین کے مطابق گرڈ اور ترسیلی نظام کی سست توسیع بڑھتی ہوئی بجلی ضائع ہونے (کٹیلمنٹ) کا سبب بن رہی ہے، جو اگلا بڑا چیلنج ہے۔

300 گیگاواٹ کی تفصیل: کون سا ذریعہ کہاں کھڑا ہے

وزارت کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق غیر فوسل ذرائع کی مجموعی صلاحیت میں شمسی توانائی نے سب سے بڑا کردار ادا کیا۔ صاف توانائی کی مزید خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں شمسی اور ہوا کی توانائی اس وقت سب سے تیزی سے بڑھنے والے ذرائع ہیں۔

توانائی کا ذریعہ نصب شدہ صلاحیت (گیگاواٹ)
شمسی توانائی 164.59
ہوا سے بجلی 58.14
پن بجلی 57.24
حیاتیاتی ایندھن سے بجلی 11.75
ایٹمی بجلی 8.78

شمسی توانائی کی قیادت اور ریکارڈ اضافہ

شمسی توانائی اس کامیابی کی اصل انجن رہی ہے۔ 2014 میں صرف 2.8 گیگاواٹ سے شروع ہو کر آج یہ تقریباً 165 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ہوا کی توانائی اسی عرصے میں 21 گیگاواٹ سے بڑھ کر 58 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی۔ مالی سال 2025-26 میں شامل کی گئی 55.29 گیگاواٹ صلاحیت ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے۔

بھادلہ سولر پارک میں صاف توانائی کے لیے قطاروں میں لگے شمسی پینل
راجستھان کے بھادلہ سولر پارک کی فضائی تصویر؛ ایسے بڑے منصوبوں نے بھارت کو 300 گیگاواٹ کے سنگِ میل تک پہنچایا۔

حکومتی پالیسیوں نے اس رفتار کو سہارا دیا ہے۔ اعلیٰ کارکردگی والے مقامی سولر ماڈیولز کے لیے پیداواری حوصلہ افزائی کی اسکیم کے تحت ملک میں سولر آلات کی تیاری کی صلاحیت 2014 میں 2.3 گیگاواٹ سے بڑھ کر اب 200 گیگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی طرح گرین ہائیڈروجن مشن کے ذریعے صنعت کو کاربن سے پاک کرنے اور بھارت کو گرین ہائیڈروجن کی پیداوار و برآمد کا عالمی مرکز بنانے پر بھی کام جاری ہے۔

چیلنج: گرڈ بجلی کی رفتار سے پیچھے

اس کامیابی کے ساتھ ایک سنگین چیلنج بھی سامنے آیا ہے۔ وزارت کے سیکرٹری سنتوش سارنگی کے مطابق بجلی کے گرڈ کی توسیع قابلِ تجدید تنصیبات کی تیزی سے پیچھے رہ گئی ہے، جس کے باعث پیدا ہونے والی صاف بجلی کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو رہا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے اب سولر ڈویلپر اپنے منصوبوں کے ساتھ بیٹری اسٹوریج بھی لگانے لگے ہیں تاکہ گرڈ کی عدم دستیابی کے دوران بجلی محفوظ کی جا سکے۔

راجستھان میں صاف توانائی کے لیے گھومتی ہوئی ہوا کی ٹربائنز
راجستھان میں ہوا کی ٹربائنز؛ ہوا سے بجلی 58 گیگاواٹ کے ساتھ بھارت کی صاف توانائی کی ٹوکری میں دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔

2030 کا ہدف اور عالمی تناظر

نئی اور قابلِ تجدید توانائی کے وزیر پرالہاد جوشی نے ایک صنعتی تقریب میں کہا کہ بھارت 2030 تک 500 گیگاواٹ غیر فوسل صلاحیت کے ہدف کو پورا کرنے کی راہ پر مضبوطی سے گامزن ہے۔ اس سنگِ میل کو نومبر میں نئی دہلی میں ہونے والی بھارت قابلِ تجدید توانائی کانفرنس سے قبل جے پور میں منعقدہ علاقائی روڈ شو میں بھی اجاگر کیا گیا، جہاں وزارت کے جوائنٹ سیکرٹری راجیش کلہری نے کہا کہ وسائل سے مالا مال ریاستیں اس قومی مشن میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔

قابلِ تجدید بجلی کی پیداوار بھی تیزی سے بڑھی ہے؛ 2014-15 میں 190.96 ارب یونٹ سے بڑھ کر 2025-26 میں 477.79 ارب یونٹ تک پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گرڈ کی توسیع اسی رفتار سے جاری رہی تو بھارت عالمی صاف توانائی کی دوڑ میں مزید آگے نکل سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

نتیجہ

300 گیگاواٹ کا سنگِ میل ثابت کرتا ہے کہ بھارت کی صاف توانائی کی منتقلی محض موسمیاتی وعدہ نہیں بلکہ صنعتی مسابقت، توانائی کی خودمختاری اور معاشی مضبوطی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ اب اگلا امتحان گرڈ کی جدید کاری، بیٹری اسٹوریج کی توسیع اور 2030 کے 500 گیگاواٹ ہدف کی جانب مسلسل رفتار برقرار رکھنا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

غزہ کی جنگی صورتحال: فلسطینی بیماری، مایوسی اور تباہی کے عالم میںدنیا

غزہ کی جنگی صورتحال: فلسطینی بیماری، مایوسی اور تباہی کے عالم میں

غزہ: 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں اور اس کے بعد اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ کی صورتحال تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ فلسطینی باشندے پانی، خوراک، صحت کی سہولیات اور روزگار کے شدید بحران کا شکار ہیں، جبکہ مسلسل موت اور تباہی کا خوف انہیں گھیرے ہوئے ہے۔ روزمرہ کی مشکلات فلسطینی باشندے

مزید پڑھیں
دنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات 2026: سوئٹزرلینڈ سے دبئی تکسفر

دنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات 2026: سوئٹزرلینڈ سے دبئی تک

دنیا کے بہترین سیاحتی مقامات 2026 میں سیاحوں کو پہاڑوں، سمندروں، تاریخی شہروں اور جدید میٹروپولز کا ایسا امتزاج پیش کر رہے ہیں جو ہر ذوق کے مسافر کے لیے کچھ نہ کچھ رکھتا ہے۔ اس مضمون میں ہم یورپ، امریکا، ایشیا، خوبصورت جزائر، آذربائیجان، ازبکستان، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی ان منزلوں کا انتخاب پیش

مزید پڑھیں
استنبول میں صفر فضلہ فورم 2026: کاپ31 سے قبل موسمیاتی اقدام کا عالمی عزمصفر فضلہ مہم

استنبول میں صفر فضلہ فورم 2026: کاپ31 سے قبل موسمیاتی اقدام کا عالمی عزم

صفر فضلہ اب محض کچرا انتظام کا نعرہ نہیں بلکہ عالمی موسمیاتی پالیسی کا ایک عملی ستون بن چکا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت جون 2026 میں استنبول میں منعقد ہونے والا صفر فضلہ فورم تھا، جہاں 183 ممالک کے 120 سے زائد وزرا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فضلہ پیدا ہونے سے پہلے روکنا موسمیاتی اقدام کی مؤثر ترین شکلوں

مزید پڑھیں
عالمی یومِ سبزی خواری 2026: پائیدار طرزِ زندگی کی طرف بڑھتا ہوا رجحانپائیدار طرزِ زندگی

عالمی یومِ سبزی خواری 2026: پائیدار طرزِ زندگی کی طرف بڑھتا ہوا رجحان

ہر سال یکم اکتوبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ سبزی خواری منایا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ ہی اکتوبر کا مہینہ سبزی خواری کے بارے میں آگاہی کے مہینے کے طور پر شروع ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پائیدار طرزِ زندگی کی طرف سب سے آسان اور مؤثر قدم ہماری اپنی پلیٹ سے شروع ہوتا ہے، کیونکہ ہماری خوراک کے انتخاب کا بر

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

استنبول میں صفر فضلہ فورم 2026: کاپ31 سے قبل موسمیاتی اقدام کا عالمی عزم
نمایاں خبر

استنبول میں صفر فضلہ فورم 2026: کاپ31 سے قبل موسمیاتی اقدام کا عالمی عزم

صفر فضلہ اب محض کچرا انتظام کا نعرہ نہیں بلکہ عالمی موسمیاتی پالیسی کا ایک عملی ستون بن چکا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت جون 2026 میں استنبول میں منعقد ہونے والا صفر فضلہ فورم تھا، جہاں 183 ممالک کے 120 سے زائد وزرا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فضلہ پیدا ہونے سے پہلے روکنا موسمیاتی اقدام کی مؤثر ترین شکلوں

مکمل خبر پڑھیں
2026 ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام: دس تحقیقات شارٹ لسٹ، ماحولیاتی رپورٹنگ بھی شامل
گرین جرنلزم

2026 ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام: دس تحقیقات شارٹ لسٹ، ماحولیاتی رپورٹنگ بھی شامل

یورپی پارلیمنٹ نے 2026 کے ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام کے لیے دس تحقیقات شارٹ لسٹ کر لی ہیں، جن میں ڈیٹا سینٹرز کے ماحولیاتی نقصانات اور گرین انویسٹمنٹ فنڈز کی تحقیقات شامل ہیں۔ فاتح کا اعلان 21 اکتوبر کو سٹراسبرگ میں ہوگا۔

مکمل خبر پڑھیں
2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ: روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی ‘بلٹ آن سینڈ’ کو شاندار ماحولیاتی صحافت کا اعزاز
گرین جرنلزم

2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ: روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی ‘بلٹ آن سینڈ’ کو شاندار ماحولیاتی صحافت کا اعزاز

ڈبلیو یو ایف ٹی کی روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی بلٹ آن سینڈ سیریز کو شاندار ماحولیاتی صحافت پر 2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ مشترکہ طور پر دیا گیا، اعلان 2 اکتوبر کو ہوا۔

مکمل خبر پڑھیں
جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز
گرین جرنلزم

جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز

ایک نیا بین الاقوامی سیارہ صحافت ایوارڈ صحافیوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ آب و ہوا کی کوریج کے کم سے کم موضوعات میں سے ایک پر رپورٹ کریں: آبادیاتی تبدیلی سیارہ کی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے — اور اس کے برعکس۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اداروں کی میزبانی میں منعقد

مکمل خبر پڑھیں
WUFT کی رپورٹر روز شنابیل نے 2026 کا والڈو پروفٹ ماحولیاتی صحافت ایوارڈ جیت لیا
گرین جرنلزم

WUFT کی رپورٹر روز شنابیل نے 2026 کا والڈو پروفٹ ماحولیاتی صحافت ایوارڈ جیت لیا

WUFT کی رپورٹر روز شنابیل کو 2026 کے والڈو پروفٹ ایوارڈ برائے نمایاں ماحولیاتی صحافت کا وصول کنندہ قرار دیا گیا — دیہی کوریج کے لیے جس نے ججوں کے مطابق نمایاں ناانصافیوں کو بے نقاب کیا۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔