اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ رواں مالی سال میں پاکستان کی معاشی شرح نمو چار فیصد رہنے کا امکان ہے۔ منگل کے روز کراچی میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے زیر اہتمام “ایس ڈی جیز انویسٹمنٹ فیئر 2026” سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے بنیادی شرائط موجود ہیں جنہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
اہم نکات
- رواں مالی سال میں معاشی شرح نمو چار فیصد رہنے کا امکان — وزیر خزانہ
- آئی ایم ایف کی پیش گوئی: حقیقی جی ڈی پی میں 3.5 سے 4 فیصد نمو
- اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 21.4 ارب ڈالر — ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح
- بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری میں ترک کمپنیوں کی دلچسپی
- حکومت کا ہدف: بوم اور بسٹ کے چکر سے بچتے ہوئے ذمہ دارانہ معاشی نمو
معاشی شرح نمو کا چار فیصد ہدف
وزیر خزانہ نے یاد دلایا کہ تقریباً تین برس قبل معیشت سکڑ رہی تھی، لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے اور رواں مالی سال میں چار فیصد معاشی شرح نمو کی توقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نمو کی طرف بڑھنا چاہتی ہے، تاہم یہ نمو ذمہ دارانہ ہونی چاہیے تاکہ ماضی کی طرح تیزی اور مندی کے چکروں سے بچا جا سکے۔

آئی ایم ایف کی توقعات اور معاشی استحکام
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی نمو تقریباً 3.5 سے چار فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ فنڈ کے مطابق آٹوموبائل، تعمیرات اور ملبوسات سمیت مختلف شعبوں میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ بحالی کو پائیدار بنانے کے لیے معاشی استحکام، بیرونی مسابقت اور نجی شعبے کے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے والی اصلاحات اہم ہوں گی۔
زرمبادلہ ذخائر کی تاریخی بلندی
بیرونی محاذ پر وزیر خزانہ نے بتایا کہ چند ہفتے قبل زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے جو ملک کی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ ان کے مطابق اب ذخائر سے تقریباً تین ماہ کی درآمدات کا احاطہ ہو سکتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مرکزی بینک کے ذخائر 11 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں 3.061 ارب ڈالر بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر ہو گئے تھے — جون 2025 کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ۔ اس بڑھوتری میں 3 ارب ڈالر کے بین الاقوامی یورو بانڈ کی فروخت سے حاصل رقم اہم رہی۔
اسی ہفتے ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 3.075 ارب ڈالر بڑھ کر 26.8 ارب ڈالر ہو گئے تھے، جب کہ درآمدات کا احاطہ 3.03 ماہ تک پہنچ گیا جو اگست 2020 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

نجکاری میں ترک دلچسپی
نجکاری کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ ترک کمپنیوں نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جو بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت ہے۔
حکومت کے مطابق ماضی میں تیز نمو کے ادوار کے بعد بیرونی مالی دباؤ، کرنسی کی عدم استحکام اور ادائیگیوں کے توازن کی مشکلات پیدا ہوئیں۔ اب حکومت معاشی استحکام برقرار رکھتے ہوئے نجی سرمایہ کاری اور معاشی توسیع کے لیے گنجائش پیدا کرنا چاہتی ہے۔
اہم معاشی اشاریے
| اشاریہ | تفصیل |
|---|---|
| متوقع معاشی شرح نمو (رواں مالی سال) | 4 فیصد |
| آئی ایم ایف کی نمو کی پیش گوئی | 3.5 سے 4 فیصد |
| اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر | 21.4 ارب ڈالر (ریکارڈ) |
| مجموعی مائع ذخائر | 26.8 ارب ڈالر |
| درآمدات کا احاطہ | 3.03 ماہ (اگست 2020 کے بعد بلند ترین) |
نتیجہ
وزیر خزانہ کے اعلانات معیشت کی بحالی کی تصویر پیش کرتے ہیں — نمو کا ہدف، ریکارڈ ذخائر اور نجکاری میں بیرونی دلچسپی۔ تاہم اصل امتحان یہ ہوگا کہ حکومت ذمہ دارانہ نمو کے وعدے پر قائم رہتے ہوئے مہنگائی اور توانائی کے چیلنجز سے کیسے نمٹتی ہے۔ وطن نیوز پر معیشت کی مزید خبریں پڑھیں۔




























