افغان طالبان حکومت اور سعودی کمپنی کے درمیان تیل اور گیس کی تلاش کا معاہدہ
افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ معدنیات و پیٹرولیم نے پیر کے روز کابل میں ’ڈیلٹا انٹرنیشنل‘ نامی سعودی کمپنی کے ساتھ تیل اور گیس تلاش کرنے اور اسے نکالنے کا معاہدہ کیا ہے۔ معاہدے کی تفصیلات طالبان کے وزیرِ معدنیات و پٹرولیم ہدایت اللہ بدری اور ڈیلٹا انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو شاہر التقی نے

افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ معدنیات و پیٹرولیم نے پیر کے روز کابل میں ’ڈیلٹا انٹرنیشنل‘ نامی سعودی کمپنی کے ساتھ تیل اور گیس تلاش کرنے اور اسے نکالنے کا معاہدہ کیا ہے۔
معاہدے کی تفصیلات
طالبان کے وزیرِ معدنیات و پٹرولیم ہدایت اللہ بدری اور ڈیلٹا انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو شاہر التقی نے اس دستاویز پر دستخط کیے۔ جبکہ طالبان حکومت کے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر اور افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق نمائندے زلمے خلیل زاد معاہدے کی تقریب میں موجود تھے۔
سرمایہ کاری کا منصوبہ
معاہدے کے تحت سعودی کمپنی کشک۔تیرپل کے علاقے میں تیل اور گیس تلاش کر کے اسے نکالے گی۔ طالبان کی وزارتِ معدنیات و پٹرولیم کے مطابق کشک۔تیرپل کا علاقہ تقریباً 22 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور ہرات اور بادغیس صوبوں میں واقع ہے۔
- ڈیلٹا انٹرنیشنل ابتدائی مرحلے میں گیس کے سات بلاکس کی تلاش اور نکالنے کے عمل کے لیے 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔
- اس علاقے میں تلاش کی مدت آٹھ سال جبکہ معاہدے کی مدت 25 سال مقرر کی گئی ہے۔
معاشی اثرات
امید کی جا رہی ہے کہ یہاں سے تیل کی اور گیس نکلنے کی صورت میں افغانستان کو درکار پیٹرولیم مصنوعات کی ضرورت پوری ہو سکے گی اور منصوبے پر کام کے آغاز سے بے روزگار افغانوں کی بڑی تعداد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
زلمے خلیل زاد نے اس معاہدے پر دستخط کو سرمایہ کاری کے حصول کے لیے افغانستان کی آمادگی کی علامت قرار دیا اور کہا کہ یہ ملک اپنے قدرتی وسائل، بالخصوص گیس کو نکالنے اور اس کی ’افغانستان سے باہر ترسیل اور برآمد کے لیے قابلِ ذکر اور بہت بڑی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔‘
تفصیلی معلومات کے لیے وطن نیوز کا ربط ملاحظہ فرمائیں۔
