بنگلہ دیش چین کے جدید ترین لڑاکا طیارے کیوں خرید رہا ہے؟
بنگلہ دیش نے چین سے جو پہلا لڑاکا طیارہ خریدا تھا اس کا سرکاری نام ایف-6 تھا۔ بنگلہ دیش نے 1977 میں چین سے یہ لڑاکا طیارے خریدے تھے۔ ڈھاکہ میں وجے سمرنی سے ضیا اُدیان کی طرف جاتے ہوئے سڑک کے موڑ پر جو درمیانے سائز کا لڑاکا طیارہ نظر آتا ہے، وہ اسی

بنگلہ دیش نے چین سے جو پہلا لڑاکا طیارہ خریدا تھا اس کا سرکاری نام ایف-6 تھا۔ بنگلہ دیش نے 1977 میں چین سے یہ لڑاکا طیارے خریدے تھے۔ ڈھاکہ میں وجے سمرنی سے ضیا اُدیان کی طرف جاتے ہوئے سڑک کے موڑ پر جو درمیانے سائز کا لڑاکا طیارہ نظر آتا ہے، وہ اسی قسم کا طیارہ ہے۔
جے-10 سی ای کے ممکنہ اثرات
حالیہ انڈیا-پاکستان کشیدگی کے دوران یہی طیارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا تھا، جب پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ جے-10 سی ای طیاروں کی مدد سے انڈیا کے جدید رفال جنگی طیاروں کو مار گرایا گیا۔
بنگلہ دیش کی فضائیہ کی جدیدکاری
تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا فضائیہ کی جدیدکاری صرف نئے لڑاکا طیارے خرید لینے سے ممکن ہو جاتی ہے؟ جدید فضائی قوت کا انحصار صرف جنگی طیاروں پر نہیں ہوتا بلکہ مؤثر فضائی دفاعی نظام، پائلٹوں کی تربیت، طیاروں کی دیکھ بھال، جدید اسلحے، تکنیکی معاونت اور مضبوط بنیادی ڈھانچے پر بھی ہوتا ہے۔
بنگلہ دیش کی فضائیہ کی جدیدکاری کے منصوبے کے تحت نئے جنگی طیاروں کے حصول کی بات کرتا ہے تو جے-10 سی ای کی ممکنہ خریداری کو غیرمعمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
جے-10 سی ای کے بارے میں مزید معلومات کے لیے وطن نیوز کا دورہ کریں۔
جے-10 سی ای کا حصول بنگلہ دیش کی فضائیہ کی جدیدکاری کے لیے ایک اہم قدم ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے بنگلہ دیش کو اپنی فضائیہ کی تمام شعبہ جات میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
- جے-10 سی ای کی خریداری کے لیے بات چیت اور تیاری کا عمل کافی حد تک آگے بڑھ چکا ہے۔
- جے-10 سی ای کا حصول بنگلہ دیش کی فضائیہ کی جدیدکاری کے لیے ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔
- بنگلہ دیش کو اپنی فضائیہ کی تمام شعبہ جات میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
