خالد شیخ محمد: 9/11 کے مبینہ منصوبہ ساز کے خلاف 2028 میں مقدمہ کی سماعت
خالد شیخ محمد، جنھیں امریکی حکومت 9/11 کے اہم منصوبہ سازوں میں سے ایک سمجھتی ہے، کے خلاف ان حملوں کے 27 سال بعد جون 2028 میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ بدھ کے روز ایک امریکی فوجی جج نے خالد شیخ محمد سمیت چار ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت 5 جون 2028 سے شروع

خالد شیخ محمد، جنھیں امریکی حکومت 9/11 کے اہم منصوبہ سازوں میں سے ایک سمجھتی ہے، کے خلاف ان حملوں کے 27 سال بعد جون 2028 میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ بدھ کے روز ایک امریکی فوجی جج نے خالد شیخ محمد سمیت چار ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت 5 جون 2028 سے شروع کرنے کا حکم دیا۔
خالد شیخ محمد کون ہیں؟
خالد شیخ محمد نے اس سے قبل امریکی حکام کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت جرم قبول کرنے کے بدلے میں وہ سزائے موت سے بچ جاتے لیکن امریکہ کی ایک وفاقی اپیل عدالت نے گزشتہ موسم گرما میں اس معاہدے کو منسوخ کر دیا تھا۔ ستمبر 2006 سے خالد گونتانامو میں قید ہیں۔
9/11 کا منصوبہ کیسے بنا؟
12 ستمبر 2024 کو شائع ہونے والی وطن نیوز کی ایک تحریر کے مطابق القاعدہ کے فوجی کمانڈر محمد عاطف نے سنہ 1996 کے اواخر میں افغانستان کے پہاڑی سلسلے میں تورا بورا کے مقام پر ایک ایسی ملاقات کا انتظام کیا جو 21ویں صدی کے آغاز پر دنیا کو بدل کر رکھ دینے والی تھی۔ یہ ملاقات امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ’افغان جہاد‘ کا حصہ بننے والے خالد شیخ محمد اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے درمیان ہونی تھی۔
- خالد شیخ محمد نے اس میٹنگ میں امریکی طیاروں کو ہائی جیک کر کے انھیں امریکہ کی بلند و بالا عمارتوں سے ٹکرانے کا منصوبہ اسامہ بن لادن کے سامنے رکھا تھا۔
- 1996 میں اسامہ بن لادن کے سامنے یہ منصوبے پیش کرنے والے خالد شیخ محمد صرف نو برس پہلے تک ایک امریکی یونیورسٹی میں میکینیکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
خالد شیخ محمد ایک ایسے ملک کے خلاف دہشت گردی کا منصوبہ بنانے میں مگن ہو گئے جہاں وہ زیر تعلیم تھے۔
