صحافی بلال غوری کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ: عدالت میں کیا کہا گیا?
اسلام آباد کی ایک عدالت نے صحافی بلال غوری کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے۔ عدالت میں پیشی اور دلائل سوموار کو جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت میں بلال غوری کو پیش کیا گیا۔ ان کے وکیل عمران شفیق نے کہا کہ ’وی لاگ میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے کہ

اسلام آباد کی ایک عدالت نے صحافی بلال غوری کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے۔
عدالت میں پیشی اور دلائل
سوموار کو جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت میں بلال غوری کو پیش کیا گیا۔ ان کے وکیل عمران شفیق نے کہا کہ ’وی لاگ میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے کہ جو غلط ہو۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’این سی سی آئی اے بتا دے کہ جھوٹی معلومات بلال غوری کے ویلاگ میں کہاں ہیں۔‘
بلال غوری کا بیان
عدالت میں بلال غوری نے کہا کہ ’میں نے فیصل نصیر کے خلاف نہیں، نیکٹا کے بارے میں بات کی ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں نے یہی کہا کہ جو فیلڈ مارشل کہیں گے وہ وہی کریں گے۔‘
- بلال غوری کی گرفتاری کے حوالے سے وکیل حنظلہ حبیب نے کہا کہ ’پانچ ستمبر کو وی لاگ اپ لوڈ ہوا تاہم کوئی نوٹس دیے بنا ہی ان کے موکل کو گرفتار کر لیا گیا۔‘
عدلیہ تو آزاد ہے لیکن وہاں تو چین آف کمانڈ ہے۔ – بلال غوری
اس حوالے سے مزید معلومات کے لیے وطن نیوز کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔
