صحافی بلال غوری کی گرفتاری: عدالت نے تین دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا
اسلام آباد کی ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے صحافی بلال غوری کا تین دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے۔ فیصلے کی تفصیلات پاکستان میں صحافی بلال غوری کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد کی ایک عدالت نے ان کے خلاف مقدمے کی سماعت کی۔ نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کی جانب سے صحافی

اسلام آباد کی ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے صحافی بلال غوری کا تین دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے۔
فیصلے کی تفصیلات
پاکستان میں صحافی بلال غوری کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد کی ایک عدالت نے ان کے خلاف مقدمے کی سماعت کی۔ نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کی جانب سے صحافی بلال غوری کو دس روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی تھی لیکن عدالت نے تین دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے۔
کورٹ میں پیشی
عدالت میں بلال غوری کے وکیل عمران شفیق نے کہا کہ ’وی لاگ میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے کہ جو غلط ہو۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’این سی سی آئی اے بتا دے کہ جھوٹی معلومات بلال غوری کے ویلاگ میں کہاں ہیں۔‘
- صحافی بلال غوری کو اسلام آباد میں شب نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے گرفتار کرتے ہوئے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
- عدالت نے تین دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے۔
- بلال غوری نے کہا کہ ’میں نے فیصل نصیر کے خلاف نہیں، نیکٹا کے بارے میں بات کی‘
میں نے یہی کہا کہ جو فیلڈ مارشل کہیں گے وہ وہی کریں گے۔
اسلام آباد کی عدالت میں بلال غوری کی پیشی کے دوران وہاں موجود صحافیوں اور وکلاء نے ان کے حق میں اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ یہ معاملہ پاکستان میں صحافتی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ وطن نیوز کے مطابق صحافی بلال غوری کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں صحافیوں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے ان کی رہائی کے لیے مطالبے کیے جا رہے ہیں۔
