فلائی دبئی طیارہ حملہ نے بدھ کے روز ہوائی سفر کی تاریخ کا ایک خوفناک لمحہ رقم کر دیا، جب دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز FZ1073 کے عمانی شریک پائلٹ نے مبینہ طور پر کپتان پر چاقو سے حملہ کر کے جہاز گرانے کی کوشش کی۔ کپتان سمت ماچھڑ کی بہادری اور مسافروں کی بروقت مداخلت سے جہاز کو سعودی عرب کے تبوک ہوائی اڈے پر بحفاظت اتار لیا گیا اور ایک بڑی تباہی ٹل گئی۔ عالمی خبریں واطن نیوز اردو پر پڑھیں۔
اہم حقائق
- پرواز: فلائی دبئی FZ1073، بوئنگ 737 میکس 8 — دبئی سے تل ابیب
- واقعہ: بدھ، 30 ستمبر 2026 — عمانی شریک پائلٹ نے کپتان پر چاقو سے وار کر کے جہاز گرانے کی کوشش کی
- کپتان: بھارتی نژاد کپتان سمت ماچھڑ — زخمی ہونے کے باوجود مزاحمت کی اور کوک پٹ کا دروازہ کھولا
- تیز نزول: طیارہ تقریباً ایک منٹ میں 33,000 فٹ سے 17,000 فٹ پر گر آیا
- لینڈنگ: سعودی عرب کے شہر تبوک میں پرنس سلطان بن عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ
- مسافر: تقریباً 170 مسافر سوار تھے — زیادہ تر اسرائیلی شہری؛ مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو کیا
- حملہ آور: عمانی شریک پائلٹ — شناخت ظاہر نہیں کی گئی، فلائی دبئی میں تقریباً نو ماہ سے ملازم تھا؛ سعودی حکام نے حراست میں لے لیا
- محرک: ابھی تک نامعلوم — اسرائیلی حکام ممکنہ دہشت گردانہ حملے سمیت تمام امکانات کی جانچ کر رہے ہیں

کوک پٹ میں کیا ہوا؟
مقامی وقت کے مطابق صبح 8:44 بجے، دبئی سے روانگی کے تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد، کوک پٹ سے ہنگامی کال موصول ہوئی۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق دونوں پائلٹس کے درمیان جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب شریک پائلٹ نے کپتان کو چاقو مار کر جہاز گرانے کی کوشش کی۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے مطابق طیارہ اچانک تقریباً 14,000 فٹ گر گیا اور اس کی ہنگامی سگنل نشر کی گئی۔
اس دوران اسرائیل نے ممکنہ ہائی جیکنگ کے خدشے کے پیش نظر لڑاکا طیارے فضا میں بھیجے۔ ایک مسافر اور عملے کے ایک رکن نے کوک پٹ میں گھس کر حملہ آور کو قابو کیا، جس کے بعد عملے نے طیارے کا کنٹرول سنبھالا۔ طیارہ اردن کی سرحد کے قریب چکر لگاتا ہوا تقریباً ایک گھنٹے بعد تبوک میں بحفاظت اتر گیا۔
زخمی کپتان سمت ماچھڑ: “حقیقی ہیرو”
کپتان سمت ماچھڑ، جنہیں اسرائیلی وزیر اعظم نے “حقیقی ہیرو” قرار دیا، چاقو کے وار سے شدید زخمی ہوئے مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ نیتن یاہو کے مطابق انہوں نے حملہ آور کا مقابلہ کیا، کوک پٹ کا دروازہ کھولا اور مسافروں و عملے کو حملہ آور پر قابو پانے کا موقع دیا۔ “انہوں نے 174 افراد کی جانیں بچائیں، جن میں اسرائیلی شہری اور دیگر ممالک کے باشندے شامل تھے،” نیتن یاہو نے کہا۔

بھارتی مشن کے مطابق کپتان کی حالت مستحکم ہے اور وہ تبوک میں اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ مداخلت کرنے والے مسافروں کو بھی نیتن یاہو نے “کئی جانیں بچانے اور ایک بڑی تباہی ٹالنے” کا کریڈٹ دیا۔
تبوک میں لینڈنگ اور تحقیقات
تبوک کے پرنس سلطان بن عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے کی انتظامیہ کے مطابق دونوں پائلٹس زخمی تھے اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ سعودی حکام نے شریک پائلٹ کو حراست میں لے لیا ہے، جس کی شناخت ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی۔ اسرائیلی، سعودی اور اماراتی سیکیورٹی اداروں کے درمیان رابطے جاری ہیں اور تحقیقات کو “انتہائی سنگین سیکیورٹی واقعہ” قرار دیا گیا ہے۔
فلائی دبئی نے تصدیق کی کہ “فلائٹ ڈیک میں جھگڑا ہوا” اور متبادل طیارہ تبوک بھیج کر مسافروں کو تل ابیب پہنچایا گیا۔ مسافروں کو لے کر جانے والا طیارہ بدھ کی شام اسرائیل میں اترا، جہاں ہوائی اڈے پر تالیوں سے استقبال کیا گیا۔
عالمی ردعمل اور محرک کی تلاش
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اسے “دہشت گردانہ حملے کی کوشش” قرار دیا، جبکہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک واضح نہیں کہ شریک پائلٹ جہاز کو ہائی جیک کرنا چاہتا تھا، سیدھا گرانا چاہتا تھا، یا 11 ستمبر طرز کا حملہ کرنا چاہتا تھا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ حملے کے پیچھے کون ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے کسی بھی امکان کو مسترد نہیں کیا۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ شریک پائلٹ “شاید دہشت گرد یا پاگل شخص” تھا اور انہوں نے نیتن یاہو سے اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی۔ نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے بھی بات کی، جنہوں نے تحقیقات میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور کو اس کے ساتھی انتہائی مذہبی قرار دیتے ہیں، مگر اس کی حتمی تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہوگی۔
نتیجہ
فلائی دبئی طیارہ حملہ ہوائی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے، مگر کپتان سمت ماچھڑ کی بہادری اور مسافروں کی فوری کارروائی نے 174 جانیں بچا لیں۔ محرک کی حتمی تصدیق سعودی تحقیقات مکمل ہونے پر ہی سامنے آئے گی۔ واطن نیوز اردو پر دنیا کی مزید اہم خبریں پڑھیں۔




















