ملکہ ترنم نور جہاں: وہ آواز جو 1965ء کی جنگ میں قوم کی طاقت بنی
6 ستمبر 1965ء کی تاریک رات جیسے ہی پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر جنگ کی آوازیں گونجیں، ملک بھر میں سفر کرنے والی ایک اور آواز ایک عورت کی طاقتور اور جذباتی آواز تھی جس نے موسیقی کو حوصلے اور ترغیب کا ذریعہ بنا دیا۔ وہ ملکہ ترنم میڈم نور جہاں تھیں۔ ان کے پاس

6 ستمبر 1965ء کی تاریک رات جیسے ہی پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر جنگ کی آوازیں گونجیں، ملک بھر میں سفر کرنے والی ایک اور آواز ایک عورت کی طاقتور اور جذباتی آواز تھی جس نے موسیقی کو حوصلے اور ترغیب کا ذریعہ بنا دیا۔ وہ ملکہ ترنم میڈم نور جہاں تھیں۔ ان کے پاس کوئی رائفل نہیں تھی، انہوں نے کوئی فوجی وردی نہیں پہنی تھی اور وہ کسی میدانِ جنگ میں نہیں کھڑی تھیں۔
نور جہاں کی آواز: جنگ کی سب سے یادگار آوازوں میں سے ایک
پھر بھی ایک مائیکروفون اور عمیق ترین جذبات کو بیدار کرنے کی صلاحیت رکھنے والی آواز سے لیس نور جہاں 1965ء کی جنگ کی سب سے یادگار آوازوں میں سے ایک بن گئیں۔ ان کے قومی نغمے شہروں اور دیہاتوں میں ریڈیو سیٹوں کے ذریعے پہنچے، میس ہالوں اور خندقوں میں موجود سپاہیوں تک پہنچے اور جنگی محاذ کے علاقوں سے خبروں کا بے صبری سے انتظار کیا جاتا تھا۔
نور جہاں کی موسیقی: حوصلے اور ترغیب کا ذریعہ
نور جہاں کی موسیقی نے نہ صرف فوجیوں بلکہ پورے ملک کو حوصلے اور ترغیب دی۔ ان کے گانے جیسے کہ ‘ای مرے پیارے وطن’ اور ‘زندگی کیا ہے’ نے لوگوں کو اپنے وطن سے محبت اور لگن کا احساس دلایا۔
- نور جہاں کی آواز نے جنگ کے دوران فوجیوں اور عوام کو حوصلے دیے۔
- ان کے قومی نغمے نے ملک کو متحد کیا اور لوگوں کو اپنے وطن سے محبت کا احساس دلایا۔
- نور جہاں کی موسیقی آج بھی لوگوں کے دلوں میں बसی ہوئی ہے اور وہ ہمیشہ کے لیے ملکہ ترنم کے نام سے یاد کی جائیں گی۔
نور جہاں کی آواز ایک ایسا تحفہ تھا جو ہمیشہ کے لیے ہمارے دلوں میں बसا رہے گا۔ ان کی موسیقی نے نہ صرف جنگ کے دوران بلکہ ہمیشہ ہمارے حوصلے اور ترغیب کا ذریعہ بنی ہے۔
اگر آپ کو مزید معلومات چاہیے تو وطن نیوز کی ویب سائٹ پر جائیں۔
