میجر جنرل فیصل نصیر کی نیکٹا سربراہی: ایک نئی دہشت گردی کی لڑائی کی شروعات
پاکستان کی وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد میجر جنرل فیصل نصیر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ تعیناتی تین سال کے لیے کی گئی ہے اور میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے پہلے فوجی سربراہ بن گئے ہیں۔ نیکٹا کی اہمیت نیکٹا کی بنیاد سنہ

پاکستان کی وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد میجر جنرل فیصل نصیر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ تعیناتی تین سال کے لیے کی گئی ہے اور میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے پہلے فوجی سربراہ بن گئے ہیں۔
نیکٹا کی اہمیت
نیکٹا کی بنیاد سنہ 2008 میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف قومی حکمت عملی مرتب کرنے، ایکشن پلان تیار کرنے، مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانے، اور وفاقی حکومت کو پیش رفت سے آگاہ کرنے کے لیے رکھی گئی تھی۔
میجر جنرل فیصل نصیر کی پچھلی ذمہ داریاں
میجر جنرل فیصل نصیر اس سے قبل انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے انٹرنل ونگ کے سربراہ رہے ہیں۔ ان کی یہ تعیناتی وفاقی حکومت کی منظوری سے کی گئی ہے اور یہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔
- نیکٹا کے قیام کے بعد سے اس ادارے کی سربراہی مجموعی طور پر پولیس سروس کے افسران کے پاس رہی ہے۔
- پولیس سروس آف پاکستان سے ریٹائر ہونے والے خواجہ خالد فاروق سنہ 2011 سے سنہ 2013 کے درمیان نیکٹا کے سربراہ رہ چکے ہیں۔
میجر جنرل فیصل نصیر کی تعیناتی سے قبل وہ جس پوزیشن پر تھے، وہ بہت اہم ذمہ داری تھی، جبکہ دوسری جانب نیکٹا کا کوئی خاص اثر دکھائی نہیں دیتا – خواجہ خالد فاروق
بی بی سی نیوز اُردو سے بات کرتے ہوئے خواجہ خالد فاروق نے بتایا کہ میجر جنرل فیصل نصیر کی یہ تعیناتی نیکٹا کے لیے ایک نئی شروعات ہو سکتی ہے۔
مزید برآں، وطن نیوز کی رپورٹ کے مطابق، میجر جنرل فیصل نصیر کی تعیناتی کے بعد نیکٹا کی کارکردگی میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔
