LIVE
اہم خبر
عالمی سیمیکمڈکٹر الائنس نے نیکسٹ جنریشن ریسرچ لیبارٹریز کے لیے ریکارڈ فنڈنگ کا اعلان کر دیا۔ • مرکزی بینک نے سود کے رہنما خطوط کو ایڈجسٹ کیا، جس سے مالیاتی انڈیکس اوپر گئے۔ • کاپ 30 کے منتظمین نے گرین انیشیٹو کے نفاذ کے لیے حتمی شیڈول کی تصدیق کر دی۔ • دو طرفہ سفارتی صف بندیوں نے وسطی ایشیائی راہداریوں میں ٹرانزٹ معاہدوں کو مضبوط کیا۔ • کوانٹم کمپیوٹنگ پائلٹ پروجیکٹس نے معیاری درجہ حرارت پر مستحکم فیز ہم آہنگی حاصل کی۔ • عالمی سیمیکمڈکٹر الائنس نے نیکسٹ جنریشن ریسرچ لیبارٹریز کے لیے ریکارڈ فنڈنگ کا اعلان کر دیا۔ • مرکزی بینک نے سود کے رہنما خطوط کو ایڈجسٹ کیا، جس سے مالیاتی انڈیکس اوپر گئے۔ • کاپ 30 کے منتظمین نے گرین انیشیٹو کے نفاذ کے لیے حتمی شیڈول کی تصدیق کر دی۔ • دو طرفہ سفارتی صف بندیوں نے وسطی ایشیائی راہداریوں میں ٹرانزٹ معاہدوں کو مضبوط کیا۔ • کوانٹم کمپیوٹنگ پائلٹ پروجیکٹس نے معیاری درجہ حرارت پر مستحکم فیز ہم آہنگی حاصل کی۔ •
ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک

”ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک“ Edition 1

”ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک“ (ایک طویل سفر کی مختصر روداد) امانت علی چوہدری القمر آن لائنwww.alqamaronline.com جملہ حقوق بحقِ مصنف محفوظ ہیں تفصیل نام / تفصیلات مصنف: امانت علی چوہدری اشاعت اول: جنوری ۲۰۰۷ء طباعت: القمر آن لائن (www.alqamaronline.com) ڈیزائن/لے آؤٹ: وقاص ربانی پبلشرز: وطن نیوز پبلیکیشنز ٹائپوگرافی: نصر ملک، امانت علی چوہدری، صفدر

News Deskشائع شدہ 6 ستمبر، 20263 منٹ مطالعہ
”ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک“ Edition 1
خصوصی کوریج: ”ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک“ Edition 1 / وطن نیوز آرکائیو
Share this story

”ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک“

(ایک طویل سفر کی مختصر روداد)

امانت علی چوہدری

القمر آن لائنwww.alqamaronline.com


جملہ حقوق بحقِ مصنف محفوظ ہیں

تفصیلنام / تفصیلات
مصنف:امانت علی چوہدری
اشاعت اول:جنوری ۲۰۰۷ء
طباعت:القمر آن لائن (www.alqamaronline.com)
ڈیزائن/لے آؤٹ:وقاص ربانی
پبلشرز:وطن نیوز پبلیکیشنز
ٹائپوگرافی:نصر ملک، امانت علی چوہدری، صفدر ھمدانی
قیمت:۳۰۰ روپے، ۱۰۰ کرونر، ۱۰ ڈالر، ۵ پاؤنڈ، ۱۰ یورو

کتاب ملنے کے رابطہ نمبر:

  • پاکستان: +923006220146
  • برطانیہ: +447796515479
  • ڈنمارک: +4523844984
  • اسلام آباد: +923215176702

1

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

انتساب

پروردگارِ لوح و قلم کے نام

جس نے مجھے

حرف و لفظ کی نعمت عطا کی!

2

فہرست

نمبرابوابمضمونصفحہ
۱پہلی بات(امانت علی چوہدری)۷
۲میرے ساباتی(روبینہ قفش)۱۱
۳موہن جو دڑو کا شمع(نصر ملک، کوپن ہیگن)۱۴
۴امانت کی امانت داری(صفدر ھمدانی، لندن)۱۸
۵پہلا بابزندگی کا سفر۲۲
۶تعلیم۲۳
۷ملازمت۲۵
۸ازدواجی زندگی کا آغاز۴۲
۹دوسرا بابسفرِ یورپ (ڈنمارک) کی روداد۴۷
۱۰جرمنی میں قیام۹۲
۱۱تیسرا بابڈنمارک میں آمد۹۵
۱۲تحریک منہاج القرآن میں شمولیت۱۱۵
۱۳چوتھا بابحج اور عمرہ کی سعادت۱۲۵
۱۴آخری بات۱۲۱

( ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)

7

۷

پہلی بات

(امانت علی چودھری)

قارئین کرام یوں تو ”وطن نیوز انٹرنیشنل“ کے حوالے سے میرا آپ سے ایک طویل عرصے سے رابطہ ہے لیکن ایک تخلیق کار اور سفرنامے کے خالق کی حیثیت میں آپ سے پہلی بار براہِ راست ہم کلام ہو رہا ہوں۔

بات کو آگے بڑھانے سے پہلے میں اپنے پروردگار کا شکر گزار ہوں کہ جس کا کرمِ خاص ہر ہر قدم پر میرے ساتھ رہا ہے اور جس نے مجھ جیسے ایک زمین کی کوکھ سے محبت کرنے والے عام سے شخص کو صرف حرف اور لفظ کی پہچان ہی نہیں عطا کی بلکہ ان الفاظ اور حروف کو ملا کر فقرے اور سطور لکھنے کا ہنر بھی دیا ہے۔

میں ایسے بہت سے کم افراد میں سے ہوں جو اپنے ملک سے کوسوں دور اپنے وطنِ ثانی میں زندگی کے گرم سرد حالات کا مقابلہ کرنے کے باوجود اپنے خیالات کو صفحات پر منتقل کرنے اور اپنے افکار کو دوسروں تک پہنچانے کی نعمت سے مالا مال ہے۔

میں اس کے لیئے تمام جہانوں کے پروردگار کا جس قدر بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے۔

آغازِ کلام میں ہی اپنی اہلیہ اور اپنے تمام بچوں سمیت اپنے تمام اہلِ خانہ کا ممنون ہوں کہ جنہوں نے اس قلم کاری اور ادبی سفر میں میری نہ صرف حوصلہ افزائی کی ہے بلکہ میری مصروفیات پر کبھی بھی اعتراض نہ کر کے مجھے ایسے میدان میں آگے بڑھنے کا موقع دیا ہے جو کبھی بھی نہ تو میرا اور نہ ہی میرے تمام خاندان میں کسی کا شعبہ یا میدان تھا۔

مجھے اس اعتراف میں کسی طرح کی کوئی شرمندگی نہیں کہ میرا تمام خاندان مٹی کا سینہ چیر کر اور سخت سے سخت موسم میں زمین کے سینے پر ہل چلا کر فصلیں کاشت کرنے والا اور اسی زمین سے اپنا رزق حاصل کرنے والے لوگوں کا زمیندارانہ خاندان رہا ہے جس کا براہِ راست تحریر کی دنیا سے کبھی کوئی تعلق نہیں تھا۔

(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)

8

۸

میں شاید اس تمام خاندان کا پہلا اور واحد فرد ہوں، جس نے عُمر کے اس پائید حصے میں آکر قلم کی حُرمت کا درس سیکھا اور پھر اسی قلم کو اپنے اظہار کا ایسا وسیلہ بنایا کہ اب یہی قلم میرا سب سے بڑا سہارا ہے، جس کے ذریعے میں ہر وہ بات کہہ اور لکھ سکتا ہوں جسے سچ اور حق سمجھتا ہوں۔

اور سب سے بڑا سچ اور حق یہی ہے کہ میں اور میرے جیسے لاکھوں لوگوں نے اپنی جنم بھومی کو جب چھوڑا تھا تو انکا مستقل طور پر ہجرت کی صلیب اٹھائے پھرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ہم سب بہتر مستقبل کے لیے اپنے اپنے گھروں کو عارضی طور پر چھوڑ کے نکلے تھے لیکن پھر حالات اور اقتصادیات کی زنجیر نے پاؤں کچھ اس طرح جکڑ لیئے کہ طاقتِ بسیار کے باوجود ہم نے انہی غیر ممالک کو اپنا وطنِ ثانی تسلیم کر لیا اور پھر اب تک یہاں ہماری تین نسلیں پروان چڑھ چکی ہیں۔

میں اپنے آپ کو اس حوالے سے بھی نہایت خوش قسمت تصور کرتا ہوں کہ یہاں ڈنمارک میں رہنے کے باوجود میں نے اپنے بچوں کو دینی اور دنیاوی بہترین تعلیم سے آراستہ کرنے کے علاوہ انہیں اپنی ثقافت اور روایات کا ایسا درس دیا ہے جسے وہ اب اپنی اولادوں میں بھی منتقل کر رہے ہیں۔ میرے ذاتی خیال میں اس سارے عمل میں مجھ اور میری اہلیہ سے زیادہ اس بات کا کریڈٹ میرے بچوں کو جاتا ہے جنہوں نے اس نام نہاد ترقی کے منفی پہلوؤں کو اپنے آپ میں سمونے کی بجائے اسکے مثبت پہلوؤں سے فائدہ اٹھایا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ اپنے بزرگوں کی دینی، مذہبی اور سماجی روایات کو خیر باد نہیں کہا ہے۔

مجھے اس بات کا نہایت کھلے دل سے اعتراف ہے کہ میں قطعی طور پر کوئی ادیب یا ایسا کمرشل قلم کار نہیں جسے اپنی تحریروں کی فروخت کا زعم ہو۔ میرے لیے تو صرف یہ بات ہی قلبی تسکین کا باعث ہے کہ میری لکھی ہوئی کچی پکی تحریروں کو میرے پڑھنے والے نہایت غور سے پڑھتے ہیں اور پھر ان بے شمار قارئین میں سے جب کوئی ایک بھی فرد مجھ سے اپنے اطمینان کا اظہار کرتا ہے تو مجھے اپنے قلم کاری کے شجرِ سایہ دار پر لگے ہوئے پھلوں کی خوشبو مسرور کر دیتی ہے۔

یہ تو میرے جیسا انسان خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ مفادات کی اس دنیا میں قلم کی عزت رکھنا کس قدر مشکل کام ہے اور میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اس قلم کو نہ تو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا ہے اور نہ ہی اپنے بڑے سے بڑے ذاتی مخالف کی پگڑی اچھالنے کے لیے۔ میرے نزدیک انسان کا احترام سب سے بڑی عبادت ہے اور متعدد گوشوں سے وقتاً فوقتاً مخالفت کے باوجود میں نے کبھی بھی سچ کو نہیں چھپایا بلکہ ہر برائی کو اپنے تئیں اس لیے

(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)

9

۹

طشت از بام کیا ہے کہ جہاد کی تمام اقسام میں یہی اہم ترین اور اعلیٰ ترین جہاد ہے کہ جس کا درس دینِ اسلام نے دیا ہے۔

میرے اس قلمی سفر میں جن دوستوں نے ہمیشہ میری رہنمائی کی ہے ان میں سرفہرست نام معروف ادیب، شاعر، نقاد، صحافی اور براڈ کاسٹر نصر ملک کا ہے کہ جو اردو دنیا میں بالعموم اور ڈنمارک کے ساتھ ساتھ یورپ کے ادبی حلقوں میں جانا پہچانا نام ہے۔ نصر ملک اپنی طرز کا ایک الگ سا انسان ہے جس کے ساتھ دوستی کے رشتے کو قائم رکھنا ایک ایسا امتحان ہے کہ اس سے گزر جانے والے بعض میدانوں میں تو سخت سے سخت امتحان میں سے بھی گزر جاتے ہیں۔

اسکے قلم کی طرح اسکے اخبار کی زبان بھی کسی حاکمِ وقت کی بے جا تعریف کی روادار نہیں اور وہ شاہوں کے قصیدے لکھنے والا نہیں بلکہ دوستی، دوستوں اور مزدوروں کی عظمت کے ترانے لکھنے والا فرد ہے۔

مجھے خود ذاتی طور پر اس بات کا علم بھی ہے اور اعتراف بھی کہ نوے فیصد لوگ نصر ملک کے اندر جھانک کر نہیں دیکھ سکے کہ اس دھان پان جیسے انسان کے اندر کیسا روشن شہر آباد ہے۔ مجھے یہ فخر ہے کہ میری برسوں سے نصر ملک سے ایسی دوستی استوار ہے جو کسی بھی سازش یا مفاد کا شکار نہیں ہو سکی بلکہ ہر منفی لمحے نے ہمیں ایک دوسرے کو اور زیادہ سمجھنے کا موقع دیا ہے۔ اور سچ پوچھیں تو قلم کی حُرمت کا یہ درس میں نے عملی طور پر نصر ملک سے ہی حاصل کیا ہے۔

میری تحریر کی دنیا میں رہنمائی نصر ملک کی بلا مفاد دوستی کی مرہونِ منت ہے اور میں آج بھی اپنی لکھی ہوئی کوئی تحریر نصر ملک کو دکھانے میں اور اصلاح لینے میں خوشی محسوس کرتا ہوں کہ علم نہ تو کسی کی میراث ہے اور نہ ہی کوئی علم کے بحرِ بیکراں میں اپنے کامل ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔

یہ بات تو نصر ملک کی تھی لیکن شاید میرے پروردگار نے دوستی اور اصلاحِ تحریر کے لیے میری قسمت میں ایسے ہی سخت سے سخت اصول پسند اور قلم کی عزت و حرمت کے پاسدار لوگ لکھے ہیں کہ جن کے ساتھ رہنا اور انکی دوستی کا دم بھرنا جیسے تلوار کی دھار پر چلنا ہے کہ ایسے لوگ سچ کی صلیب پر اپنے عزیز ترین دوست کو بھی لٹکانے سے دریغ نہیں کرتے اور انکی اول تنقید کا نشانہ انکے اہلِ خانہ، احباب اور دوست ہی ہوتے ہیں۔

میں ابھی نصر ملک کے امتحان سے گزر رہا تھا کہ انہی نصر ملک نے اب سے چند سال پہلے میری ملاقات بی بی سی اردو سروس کے براڈ کاسٹر اور متعدد کتابوں کے مصنف صفدر ھمدانی سے

(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)

10

۱۰

کروائی جو اوپر بیان کردہ اوصاف میں نصر ملک سے بھی چند قدم آگے ہیں لیکن میں یہ بات پوری ایمانداری سے کہہ سکتا ہوں کہ صائب مشورہ دینے اور اصلاحِ تحریر کے معاملے میں صفدر ھمدانی کسی طرح بھی کنجوسی سے کام نہیں لیتے بلکہ پروردگار کی عطا کردہ قلم کاری کی نعمت میں سے دوسروں کا حصہ نکالنے میں نہایت عدل سے کام لیتے ہیں۔

اب اگر میں نے انکے بارے میں اور بہت کچھ لکھنا بھی چاہا تو ہو سکتا ہے کہ بہت سے دوست یہ کہہ کر میرے صادق جذبے کو جھٹلا دیں کہ میں اپنے دوست اور محسن کی تعریف بلکہ بے جا تعریف کر رہا ہوں۔ میرے نزدیک تو فارسی کا یہ مقولہ ہی کافی ہے کہ پھول کی خوشبو کی سند عطار سے نہیں بلکہ خود پھول سے ہی مل جاتی ہے۔

میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں مجھے اپنی اس پہلی تصنیف ”ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک“ لکھنے کی ترغیب انہی صفدر ھمدانی نے دی اور اسے تکمیل تک پہنچانے میں جہاں میرے عزمِ صمیم کا دخل ہے تو وہاں نصر ملک اور صفدر ھمدانی کی ہر ہر قدم پر رہنمائی اور عملی مدد بھی شامل ہے۔

میں نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ میں ایک مکمل کتاب بھی لکھ سکتا ہوں اور پھر یہ کتاب شائع ہو کر میرے قارئین کے ہاتھوں میں بھی پہنچ سکتی ہے۔

لیکن یہ میرے پروردگار کی عنایتِ خاص اور ایسے دوستوں کی محبت اور حوصلہ افزائی ہے کہ آج میں بھی ’صاحبِ تصنیف‘ افراد کی فہرست میں شامل ہو گیا ہوں۔

میں بات کو مزید طول دینے کی بجائے اب آپ اور اس کتاب کے درمیان سے ہٹتا ہوں اور ایک بار پھر اپنے تمام دوستوں، احباب، اہلِ خانہ اور ان خاموش قارئین کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنکا حوصلہ ”وطن نیوز“ کی اشاعت میں میرا مددگار رہا ہے اور اب وہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد مجھے اپنی بے لاگ اور مستند رائے سے نوازیں گے۔

اللہ تعالیٰ آپ سب پر اپنی رحمتوں کا نزول برابر جاری رکھے اور ہم سب ایک دوسرے کے لیے آسانیاں فراہم کرنے والے افراد میں شامل ہوں۔ (آمین)

امانت علی چوہدری

کوپن ہیگن۔۔۔ ڈنمارک

جنوری۔۔۔۔ ۲۰۰۷ء

(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)

11

۱۱

میرے ابا جی

روبینہ افضل

میں تقریباً اسوقت سات سال کی تھی جب میں پہلی مرتبہ اپنے والدین کے ساتھ یہاں ڈنمارک آئی تھی۔ میرے والد یہاں چند سال پہلے ہی آ چکے تھے لیکن بعد ازاں جب انہوں نے اپنے گھر والوں کو ڈنمارک لانے کا فیصلہ کیا تو ہم سب بھی یہاں آ گئے۔

اس کتاب میں یوں تو آپ کو میرے والد کی زندگی کے متعدد ایسے گوشے ملیں گے جو صرف آپ کے لیے ہی نہیں بلکہ ہم اہلِ خانہ کے لیے بھی انکشاف ہیں لیکن ایک بات بڑی واضح انداز میں نظر آئے گی کہ یہاں ڈینش معاشرے میں ایک پاکستانی کنبے کا منتقل ہونا، اپنی شناخت کو قائم رکھنا اور اپنی روایات کے ساتھ ساتھ تعلیم کے میدان میں اپنی صلاحیت اور اہلیت کو پروان چڑھانا کیا معنی رکھتا ہے۔

میں نے اس کتاب کو تو مکمل طور پر نہیں پڑھا کیونکہ طباعت کے مراحل سے گزرنے سے پہلے ہی ”ابا جی“ نے اسے لکھتے ہوئے اکثر اسکے کچھ نکات پر وقتاً فوقتاً میرے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہے اور اپنی سوچ سے بھی آگاہ کرتے رہے ہیں، اور اسی تناظر میں مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو

(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)

12

۱۲

رہی ہے کہ انہوں نے زندگی بھر ہم سب بہن بھائیوں کو سچ بولنے کا جو درس دیا تھا یہ کتاب اسی کا ایک ثبوت ہے۔

انہوں نے نہ تو لکھتے ہوئے کوئی ملمع کاری کی اور نہ ہی کسی بات کو چھپایا بلکہ جو کچھ جس طرح ہوا اسے اسی طرح لکھ دیا۔ میں اب خود ایک الگ خاندان کے طور پر ایک کامیاب ماں اور بیوی دونوں کردار بخوبی نبھاہ رہی ہوں تو اس تجربے کی روشنی میں جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمارے والدین نے اور خاص طور پر ”ابا جی“ نے یہاں ڈنمارک کے معاشرے میں رہتے ہوئے ہمیں جس طرح اپنے دین، مذہب اور روایات پر کاربند رہنے کا درس دیا اور خاص طور پر تعلیم کے حصول کے معاملے میں بیٹی اور بیٹے کے فرق کو قطعی طور پر نظر انداز کرتے ہوئے جس طرح ہم سب بہن بھائیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی یہ سب احساس اب مجھ میں ایک الگ طرح کا فخر پیدا کرتا ہے۔

ہمارا گھر جب سے میں نے ہوش سنبھالا جیسے محبت کرنے والوں کا ایک مثالی گھرانہ رہا ہے اور ہم سب بہن بھائیوں کی کامیابی کے پیچھے متعدد عناصر کے ساتھ جو سب سے زیادہ مضبوط عنصر ہے وہ وہ گھر کا خوش باش ماحول، والدین کی آپس کی ہم آہنگ زندگی، بچوں کے ساتھ انکی شفقت اور محبت اور انکی تعلیم و تربیت پر مسلسل توجہ ہے۔

میں اب بھی اکثر اپنے ”ابا جی“ کے ساتھ پاکستانی اور ڈینش معاشرے کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کرتی رہتی ہوں اور جب سے میں نے ہوش سنبھالا گھر میں سب سے بڑی بیٹی ہونے کے ناطے میں اپنے والد سے اس موضوع اور دیگر متعدد موضوعات پر بات چیت کرتی رہی ہوں اور اسی تجربے کی روشنی میں مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہوتی ہے کہ میرے ”ابا جی“ کسی طرح بھی دقیانوسی خیالات کے حامل نہیں اور ہم سب بہن بھائی یہاں رہتے ہوئے جو پاکستانی اور ڈینش معاشرے کو ایک ساتھ لے کر چلے ہیں تو اسمیں بھی سب سے زیادہ کردار میرے والد کی تعلیم و تربیت کا ہی ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ کبھی محبت میں ہمارے ساتھ بچہ بن جاتے اور کبھی بڑے بن کر ان دونوں معاشروں کے فرق اور انکی خوبیوں کے بارے میں آگاہ کرتے۔ نہ انہوں نے کسی بھی موضوع کو لگے بندھے اور دقیانوسی طریقے سے نہ کبھی سُنا اور نہ ہی کبھی پرکھا بلکہ کسی بھی موضوع پر اپنی رائے دیتے ہوئے صرف اسکے ترقی کے پہلوؤں کو ہی مدنظر رکھا اور بہت مدلل انداز میں یہ بھی

(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)

13

۱۳

بتا دیا کہ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے ہمارے لیئے کیا غلط ہے اور کیا درست۔ یعنی ایک حد کی نشان دہی کر دی۔

انہوں نے اپنی بات منوانے کے لیے صرف اپنی عمر، تجربے یا والد ہونے کے حق کو کبھی استعمال نہیں کیا بلکہ بات کو دلیل سے بتایا اور ہمیں اس کو اپنانے یا رد کرنے کا پورا اختیار دیا۔

چند ماہ قبل جب ”ابا جی“ نے مجھے یہ بتایا کہ وہ اپنی زندگی کے سفر کی روداد لکھ رہے ہیں جو شائع بھی ہو گی تو پہلے تو سچی بات کہ مجھے اس لیئے یقین نہیں آیا کہ ہمارے تو سارے خاندان میں ایسا کوئی لکھاری ہوا ہی نہیں جسے عام زبان میں ادیب کہا جاتا ہے۔ لیکن اگلے ہی لمحے مجھے اس لیے انکی بات پر یقین کرنا پڑا کہ انہوں نے آج تک جس کام کا بیڑا اٹھایا اسے پورا کر کے ہی دم لیا۔

میں ایک بیٹی کے طور نہیں بلکہ اردو کی ایک طالبعلم اور ایک لائبریری کی سربراہ کے طور پر سانس لیتی کتابوں کے درمیان اپنی زندگی کا ایک غالب حصہ گزارنے والی کی حیثیت سے یہ کہہ رہی ہوں کہ ”ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک“ کی یہ خود نوشت صرف ایک سفر کی داستان ہی نہیں بلکہ ہماری زندگیوں کی گواہی ہے کیونکہ اس سفر کا آغاز جس ماحول سے ہوتا ہے اسکا صحیح نقشہ پیش کر کے ہی قاری کو داستانِ سفر کی وجہءِ عمل سے روشناس کیا جا سکتا ہے۔

یہ صرف ہماری زندگیوں کی ہی تاریخ نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی بھی تاریخ ہے کہ ان آنے والی زندگیوں کا ڈنمارک میں بیج کس طرح بویا گیا۔ مستقبل کی اس کہانی کا یہ پہلا آغاز ہے۔

مجھے اپنے ”ابا جی“ کی اس پہلی تصنیف پر ذاتی طور پر بھی خوشی ہے اور میں گھر میں سب سے بڑی اولاد ہونے کے ناطے اپنے کنبے کے تمام افراد کی طرف سے انہیں دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں۔

اللہ تعالیٰ انکا سایہ ہمارے سروں پر ہمیشہ سلامت رکھے (آمین)

روبینہ افضل

ویسٹربرو۔ لائبریری سربراہ

کوپن ہیگن

(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)