یوگنڈا کی موسمیاتی کارکن وینیسا ناکاتے کا کہنا ہے کہ افریقہ ایسے موسمیاتی بحران کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے جو اس نے پیدا نہیں کیا۔ یہ بات 28 ستمبر کو شائع ہونے والے الجزیرہ کے پروگرام ٹاک ٹو الجزیرہ کے تعارف میں کہی گئی ہے۔
ناکاتے یونیسیف کی خیرسگالی سفیر ہیں۔ پروگرام کے تعارف کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ پیش رفت سست رہی ہے اور افریقہ کو اکثر بحران سے متعلق مباحث سے باہر رکھا جاتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ بڑے آلودگی پھیلانے والوں کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ ان کا مؤقف موسمیاتی اقدام کی ذمہ داری کو ایک ایسے براعظم کے تجربے کے ساتھ جوڑتا ہے جو ایسے مسئلے کی قیمت ادا کر رہا ہے جسے اس نے پیدا نہیں کیا۔
تعارف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ناکاتے کبھی کبھی ناامیدی محسوس کرتی ہیں۔ اس کے باوجود نچلی سطح کے اقدامات ان کے لیے حوصلے کا باعث ہیں اور انہیں پیش رفت کی امید دیتے ہیں۔
پروگرام ان کے پیغام کو ایک زیادہ جامع موسمیاتی بحث کی اپیل کے طور پر پیش کرتا ہے: افریقہ کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، بڑے پیمانے پر آلودگی کے ذمہ داروں کو اپنے کردار کا جواب دینا چاہیے اور مقامی اقدامات کو امید کے وسیلے کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔
تعارف میں یہ نکات الگ الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ناکاتے کے بیان کردہ مسئلے میں سست پیش رفت اور مباحث سے اخراج شامل ہیں، جبکہ وہ جس جواب کی طرف اشارہ کرتی ہیں اس میں احتساب اور نچلی سطح کا کام شامل ہے۔ ناامیدی اور حوصلے کا یہ امتزاج پروگرام میں موسمیاتی سیاست کی ایک مشکل مگر مکمل طور پر بے امید نہ ہونے والی تصویر پیش کرتا ہے۔
یوں ان کا بیان ردعمل کی رفتار اور دائرہ کار پر تنقید کو نچلی سطح پر ہونے والے کام کے اعتراف کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس رپورٹ کے ساتھ نمایاں تصویر جنوبی افریقہ کا لائسنس یافتہ قدرتی منظر ہے، وینیسا ناکاتے کی تصویر نہیں۔ اسے افریقی ماحولیاتی پس منظر کی عکاسی کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور یہ کارکن کی تصویر کے طور پر پیش نہیں کی جا رہی۔












