پمز ہسپتال میں آتشزدگی: نرس رضیہ نورین کی بے مثال ہمت
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں رات سے صبح تک کئی گھنٹوں کی شفٹ کے بعد نرس رضیہ نورین تھک چکی تھیں اور اپنا کام مکمل کر کے گھر جانے کی تیاری کر رہی تھیں۔ اسی دوران چھ بج کر 38 منٹ پر بچوں کی نرسری میں آگ بھڑک اٹھی جو

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں رات سے صبح تک کئی گھنٹوں کی شفٹ کے بعد نرس رضیہ نورین تھک چکی تھیں اور اپنا کام مکمل کر کے گھر جانے کی تیاری کر رہی تھیں۔ اسی دوران چھ بج کر 38 منٹ پر بچوں کی نرسری میں آگ بھڑک اٹھی جو انتہائی قلیل وقت میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کا سبب بنی۔
نرس رضیہ نورین کی جان بچانے کی کوشش
اس نرسری میں 15 نومولود بچے تھے، یعنی صرف ایک بچے کی جان بچائی جا سکی تھی۔ ہسپتال کی نرسری کے باہر لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیو میں رضیہ نورین کو آگ لگنے کے بعد اس ایک بچے کو گود میں اُٹھائے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
نرس رضیہ نورین کا بیان
نرس رضیہ نورین نے بتایا ہے کہ یہ نومولود بچے ان کے اپنے بچوں کی طرح تھے جن سے انھیں بہت لگاؤ تھا۔ مگر انھیں اب بھی یہ دکھ ہے کہ وہ باقی بچوں کی جانیں نہیں بچا سکیں۔
- پاکستانی حکومت نے اس واقعے کی انکوائری کے بعد جہاں ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر (ای ڈی) عمران سکندر سمیت آٹھ افراد کو معطل کیا ہے
- نرس رضیہ نورین کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام اور سول ایوارڈ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ’اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک بچے کی زندگی بچانے‘ والی پمز ہسپتال کی نرس رضیہ نورین کے لیے ’ستارہ خدمت‘ اور ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔
مزید خبریں وطن نیوز پر۔
