چین اور ایران کے تعلقات میں دراڑ: بشکیک میں مختصر ملاقات کے سوالات
یکم ستمبر کو بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی مختصر ملاقات نے ایرانی میڈیا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کی آئندہ

یکم ستمبر کو بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی مختصر ملاقات نے ایرانی میڈیا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کی آئندہ سمت کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مختصر ملاقات اور تعلقات میں سست روی
بعض مبصرین کے نزدیک یہ مختصر ملاقات ایران اور چین کے تعلقات میں سست روی کی علامت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکہ کے نئے معاشی دباؤ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر عائد پابندیوں میں نرمی سے تہران کے انکار نے توانائی کی عالمی منڈیوں اور اس اہم آبی گزرگاہ کے تحفظ سے متعلق چین کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ چین کی معیشت بڑی حد تک محفوظ توانائی سپلائی پر انحصار کرتی ہے۔
چین اور ایران کے اقتصادی تعلقات
اگرچہ چین اب بھی ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار اور تہران کا ایک اہم اقتصادی شراکت دار ہے، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اس تزویراتی شراکت داری کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔ بڑھتے ہوئے معاشی اور جغرافیائی سیاسی خطرات دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے ایک اہم آزمائش بنتے جا رہے ہیں۔
- چین اور ایران کے تعلقات میں دراڑ کی علامات
- مختصر ملاقات اور تعلقات میں سست روی
- چین اور ایران کے اقتصادی تعلقات میں چیلنجز
اصلاح پسند سابق رکنِ پارلیمان حشمت اللہ فلاحت پیشہ نے شی جن پنگ کے رویے کو واشنگٹن کے لیے ایک پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں جس تعلق کو بعض افراد نے ’تزویراتی دوستی‘ کہا، وہ چین کے لیے ’ایک عام اور قلیل مدتی تعلق‘ سے زیادہ کچھ نہیں۔
حکومتی مؤقف کے حامی مبصر مصطفیٰ نجفی نے ایران اور چین کے تعلقات میں اپنے بقول انحراف کی بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور سیاسی تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
مزید برآں، وطن نیوز کے مطابق، ایران اور چین کے تعلقات میں دراڑ کی علامات واضح ہو رہی ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کی آئندہ سمت کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
