بیجنگ: جنوری سے اگست 2026 کے دوران پاکستان چین برآمدات میں 40.5 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ چائنا کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں برآمدات کی مالیت 1.698 بلین ڈالر سے بڑھ کر 2.386 بلین ڈالر تک پہنچ گئی، جو تقریباً 688 ملین ڈالر کے اضافی تجارتی حجم کے برابر ہے۔ گوانگزو میں تعینات پاکستان کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ قونصلر محمد عمران نے اس نمو کو دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔
اہم نکات
- جنوری تا اگست 2026 میں چین کو پاکستانی برآمدات 2.386 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں — 40.5 فیصد اضافہ۔
- 2025 کے اسی عرصے (1.698 بلین ڈالر) کے مقابلے میں تقریباً 688 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔
- ریفائنڈ کاپر کی برآمدات میں 68.51 فیصد اور کاپر اینوڈز میں 44.14 فیصد اضافہ۔
- تل کے بیج 86.90 فیصد اور مچھلی کا آٹا 146.95 فیصد بڑھا؛ ٹوٹے چاول کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ۔
- زی جیانگ سرفہرست منزل (746.44 ملین ڈالر)، اس کے بعد بیجنگ (361.67 ملین ڈالر) اور گوانگ ڈونگ (286.07 ملین ڈالر)۔
- ذرائع: چائنا کسٹمز (GACC) کے اعداد و شمار؛ محمد عمران، ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ قونصلر، گوانگزو۔
پاکستان چین برآمدات: اضافے کے محرکات
محمد عمران کے مطابق اس تیز رفتار نمو کی بڑی وجہ چینی صنعتی شعبے کی جانب سے پاکستانی ریفائنڈ دھاتوں کی مسلسل مانگ ہے۔ ریفائنڈ کاپر (غیر ڈھالا ہوا) کی برآمدات میں 68.51 فیصد اور غیر ڈھالے ہوئے کاپر اینوڈز کی برآمدات میں 44.14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
زرعی اجناس نے بھی مضبوط کارکردگی دکھائی — تل کے بیج کی برآمدات 86.90 فیصد اور مچھلی کے آٹے کی برآمدات 146.95 فیصد بڑھیں، جبکہ چاول بالخصوص ٹوٹے چاول کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ ٹیکسٹائل کے شعبے میں کپاس کے سوت کی برآمدات نے بھی مجموعی نمو میں حصہ ڈالا۔

صوبائی کارکردگی: زی جیانگ سرفہرست
چائنا کسٹمز کے مطابق صوبائی سطح پر زی جیانگ 746.44 ملین ڈالر کی برآمدات کے ساتھ سرفہرست رہا، جس میں 222.47 ملین ڈالر کی نمو ہوئی۔ بیجنگ 361.67 ملین ڈالر (54.96 فیصد اضافہ) کے ساتھ دوسرے اور گوانگ ڈونگ 286.07 ملین ڈالر (18.19 فیصد اضافہ) کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔
| علاقہ | برآمدات (جنوری تا اگست 2026) | سالانہ تبدیلی |
|---|---|---|
| زی جیانگ | 746.44 ملین ڈالر | 222.47 ملین ڈالر اضافہ |
| بیجنگ | 361.67 ملین ڈالر | 54.96 فیصد اضافہ |
| گوانگ ڈونگ | 286.07 ملین ڈالر | 18.19 فیصد اضافہ |
| کل (چین) | 2.386 بلین ڈالر | 40.5 فیصد اضافہ |
اس سے قبل جنوری تا جولائی 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق برآمدات 2.136 بلین ڈالر تک پہنچ چکی تھیں، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 45.91 فیصد زیادہ تھیں — یعنی اگست میں بھی نمو کا تسلسل برقرار رہا۔
گوانگ ڈونگ: جنوبی چین کا تجارتی مرکز
محمد عمران نے بتایا کہ جنوبی چین میں گوانگ ڈونگ دو طرفہ تجارت کا ایک اہم مرکز ہے؛ یہاں پاکستانی برآمدات 2025 کے 242.04 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2026 میں 286.07 ملین ڈالر ہو گئیں۔ ان میں کاپر اینوڈز (62.81 ملین ڈالر) اور کپاس کا سوت (86.88 ملین ڈالر) شامل ہیں، جبکہ ٹوٹے چاول کی برآمدات میں 35 ملین ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کی زرعی انجمنوں کے دوروں اور گوانگ ڈونگ سمیت چین کے دیگر حصوں میں چاول، کپاس، تل کے بیج اور دیگر زرعی مصنوعات پر مرکوز کاروباری مشنوں نے ساحلی علاقوں میں نئے خریدار متعارف کرائے، جنہوں نے ابتدائی رابطوں کو 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں حقیقی شپمنٹس میں تبدیل کیا۔

مستقبل کی حکمت عملی اور CPFTA
محمد عمران نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی چین، خاص طور پر گوانگ ڈونگ کا جدید مینوفیکچرنگ اور فوڈ پروسیسنگ سیکٹر، پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان چین-پاکستان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (CPFTA فیز-II) کے تحت ٹیرف چھوٹ سے مؤثر طریقے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور چینی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق معیار کو بہتر بنا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ براہ راست بزنس ٹو بزنس روابط کو بڑھانا اور اعلیٰ قیمت والی زرعی، سمندری اور پروسیس شدہ مصنوعات میں تنوع لانا گوانگ ڈونگ-ہانگ کانگ-مکاؤ گریٹر بے ایریا میں پاکستان کے تجارتی اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرے گا۔
نتیجہ
چین کو پاکستانی برآمدات میں 40.5 فیصد کا اضافہ دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کا ایک واضح ثبوت ہے۔ ریفائنڈ دھاتوں، زرعی اجناس اور ٹیکسٹائل کی مضبوط کارکردگی اس نمو کی بنیاد ہے، جبکہ زی جیانگ، بیجنگ اور گوانگ ڈونگ جیسے مراکز پاکستانی مصنوعات کے لیے چینی مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس خبر کی مزید تفصیل وطن نیوز کے مرکزی پلیٹ فارم پر پڑھیں، اور پاکستان کی معیشت و تجارت سے متعلق مزید خبریں پاکستان کیٹیگری میں دستیاب ہیں۔

























