کوپ 31 کی صدارت نے جمعرات، 24 ستمبر 2026 کو نیویارک کلائمیٹ ویک کے موقع پر مالیات سے متعلق دو اقدامات کی تفصیلات پیش کیں۔ صدارت کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ممالک اور شہروں کو موسمیاتی منصوبوں کو ایسے عملی منصوبوں میں ڈھالنے میں مدد دینا ہے جن کے لیے سرمایہ حاصل کیا جا سکے۔
یہ دونوں اقدامات صدارت کے “ایکشن ایجنڈا” کا حصہ ہیں، جو رضاکارانہ اقدامات پر مشتمل ایک الگ سلسلہ ہے اور اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی (UNFCCC) کے تحت فریق ممالک کے درمیان ہونے والے باضابطہ مذاکرات کے متوازی مگر ان سے علیحدہ چلتا ہے۔ یہ مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے فیصلے نہیں ہیں۔ کوپ 31 کانفرنس 9 سے 20 نومبر 2026 تک ترکیہ کے انطالیہ ایکسپو سینٹر میں منعقد ہو گی، جبکہ مذاکرات کی صدارت آسٹریلیا کے پاس ہے۔
برج کے پانچ پائلٹ ممالک
صدارت کے مطابق ایتھوپیا، فجی، انڈونیشیا، پاکستان اور ازبکستان وہ پہلے ممالک ہوں گے جو “کلائمیٹ امپلیمنٹیشن برج” یعنی برج (BRIDGE) منصوبے کو آزمائیں گے۔ اقوامِ متحدہ کا ترقیاتی پروگرام (UNDP) اس منصوبے پر عمل درآمد میں شراکت دار ہے۔
صدارت برج کو ایک ایسی معاونت قرار دیتی ہے جس کی سمت خود ممالک طے کرتے ہیں، تاکہ قومی موسمیاتی اور ترقیاتی ترجیحات کو ایسے منصوبوں کے مجموعے میں بدلا جا سکے جو سرمایہ کاروں کے لیے پُرکشش ہوں۔ صدارت کے بقول اس کا مقصد اہداف کو مالی وسائل سے جوڑنا، عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرنا اور ممالک کو موجودہ بین الاقوامی معاونت سے بہتر فائدہ اٹھانے کے قابل بنانا ہے۔
صدارت نے بتایا کہ پائلٹ ممالک سے ملنے والی آرا کی بنیاد پر اس منصوبے کو وسعت دی جائے گی۔ اس کے مطابق ترقی پذیر ممالک، بالخصوص چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک (SIDS) اور کم ترین ترقی یافتہ ممالک (LDCs)، نے اس میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ منصوبے کے لیے کسی مالی حجم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
شہروں کی لچک کے لیے نئی سہولت
اسی روز ایک الگ تقریب میں صدارت نے “سسٹین ایبل اربن ریزیلینس فنانسنگ فیسلٹی” یعنی سرف (SURFF) کا آغاز کیا اور اسے سربراہی کانفرنس کا ایک اہم نتیجہ قرار دیا۔ یہ سہولت ترکیہ کے ادارے البینک (ILBANK) نے یو این ہیبی ٹیٹ اور عالمی بینک کے اشتراک سے تیار کی ہے۔
صدارت کے مطابق اس کا مقصد ان مالی خلا کو پُر کرنا ہے جن کا سامنا ممالک کو شہری سطح پر اپنے قومی موسمیاتی منصوبوں (NDCs) اور قومی موافقت منصوبوں (NAPs) پر عمل درآمد کے دوران ہوتا ہے، اور اس کی توجہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک پر ہے۔ صدارت کا کہنا ہے کہ سرف ممالک اور شہروں کو اپنے وعدوں کو سرمایہ کاری کے پروگراموں اور قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں میں تبدیل کرنے اور سرکاری و نجی سرمایہ متحرک کرنے میں مدد دے گی۔
یہ سہولت تین ستونوں پر کھڑی ہے:
- **ریزیلینٹ سٹیز کنٹری پلیٹ فارم:** ممالک کی قیادت میں چلنے والے پلیٹ فارم، جو شہری لچک کی ترجیحات کو منصوبہ سازی، مالیات اور عمل درآمد میں معاونت سے جوڑیں گے۔
- **ریزیلینٹ سٹیز سینٹر آف ایکسیلینس:** عملی تجربات سے حاصل اسباق کو ایسے آلات کی شکل دینا جنہیں دوسرے ممالک بھی اپنا سکیں۔
- **انٹرنیشنل ریزیلینٹ سٹیز ڈائیلاگ:** رکن ممالک اور شراکت داروں کا فورم، جہاں مالی وسائل کے حصول کے تجربات کا تبادلہ کیا جائے گا۔
مالیات، گمشدہ کڑی
ترکیہ کے وزیرِ ماحولیات، شہری ترقی و موسمیاتی تبدیلی اور کوپ 31 کے نامزد صدر مراد کوروم نے مالیات کو فیصلہ کن عنصر قرار دیا۔ دونوں اقدامات کے آغاز سے قبل جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ “مالیات کے بغیر موسمیاتی عزائم ایسے ہی ہیں جیسے بیٹری کے بغیر برقی گاڑی، جو کہیں نہیں جا سکتی۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات اس لیے ترتیب دیے گئے ہیں کہ منصوبوں کو قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں میں بدل کر انہیں مالی وسائل سے جوڑا جا سکے۔
یہ اعلانات اسی کلائمیٹ ویک کے دوران نیویارک میں صدارت کے ایکشن ایجنڈا کے آغاز کے بعد سامنے آئے ہیں۔ پری کوپ اجلاس 5 سے 8 اکتوبر 2026 تک فجی میں ہو گا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا برج اور سرف کوپ 31 کے باضابطہ مذاکرات کا حصہ ہیں؟
نہیں۔ یہ صدارت کے ایکشن ایجنڈا کے تحت رضاکارانہ اقدامات ہیں۔ UNFCCC کے باضابطہ فیصلے فریق ممالک مذاکرات کے ذریعے طے کرتے ہیں۔
برج منصوبے کے پائلٹ ممالک کون سے ہیں؟
صدارت کے مطابق ایتھوپیا، فجی، انڈونیشیا، پاکستان اور ازبکستان۔
سرف کس نے تیار کی ہے؟
البینک (ILBANK) نے یو این ہیبی ٹیٹ اور عالمی بینک کے اشتراک سے۔ صدارت نے اس کا آغاز 24 ستمبر 2026 کو کیا۔
ذرائع
- کوپ 31 صدارت، “COP31 Presidency elevates finance and city action in implementation-focused agenda” (24 ستمبر 2026): https://cop31.tr/news-detail/cop31-presidency-elevates-finance-and-city-action

















