کوپ 31 کے میزبانوں کو نومبر میں ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہونے والی موسمیاتی کانفرنس کے دوران فوسل ایندھن سے متعلق زبان ایجنڈے میں شامل کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دی ہندو نے 28 ستمبر کو یہ رپورٹ شائع کی۔
ترکیہ کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے اور وزیر ماحولیات مراد کورم کوپ 31 کے صدر ہیں۔ آسٹریلیا مذاکراتی عمل کی نگرانی کرے گا جبکہ توانائی اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر کرس بوون نائب صدر ہوں گے۔ اس مشترکہ انتظام میں دونوں ملکوں کی ذمہ داریاں مختلف ہیں۔
دی ہندو کے مطابق مشترکہ صدارت کی ترجیحات میں فوسل ایندھن سے دور منتقلی کا براہ راست ذکر نہیں ہے۔ نقصانات کے ازالے کی مالی معاونت یا وسیع تر موسمیاتی مالیات بھی اس فہرست میں شامل نہیں۔ یہ عدم شمولیت مذاکرات کا مرکز بن سکتی ہے، کیونکہ ممالک یہ طے کریں گے کہ کون سے ایجنڈا نکات سامنے لائے جائیں۔
رپورٹ کے مطابق 26 اگست کو نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب تخفیفِ اثرات کی زبان، بشمول فوسل ایندھن سے متعلق بحث، اور نقصانات کے ازالے کی مالی معاونت کے مطالبات کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔ فوسل ایندھن سے منتقلی کے لیے ٹھوس اقدام کا وسیع تر مطالبہ بھی دباؤ بڑھا رہا ہے۔
دی ہندو کے حوالے سے شائع کردہ جواب میں ترکیہ کی صدارت نے کہا: ’’ہم جانتے ہیں کہ اس موضوع کے تمام پہلوؤں پر مضبوط آرا موجود ہیں۔ ہم فریقین کو منتقلی پر بات کرنے کی جگہ دیں گے اور ان کے مؤقف غور سے سنیں گے تاکہ دیکھا جا سکے کہ اتفاق رائے سے کیا طے ہو سکتا ہے۔‘‘
صدارت نے کہا کہ کوپ 31 کے ایکشن ایجنڈے میں بجلی کا استعمال بڑھانا مرکزی ترجیح ہے، کیونکہ عمارتوں، ٹرانسپورٹ اور صنعت کو بجلی پر منتقل کرنے سے اخراج کم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ قابل تجدید توانائی میں اضافہ ہونا چاہیے۔ انطالیہ میں سوال یہ ہوگا کہ یہ عملی توجہ فوسل ایندھن کی منتقلی اور مالیات پر باضابطہ بحث کے ساتھ کیسے چلتی ہے۔
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی صدارت نے اس کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ شریک ممالک نئے ایجنڈا نکات پیش کرتے ہیں یا نہیں اور فوسل ایندھن پر انحصار رکھنے والے دونوں میزبان مذاکرات کو کس طرح آگے بڑھاتے ہیں۔












