فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں کاک پٹ کے اندر ہونے والے حملے کے دوران ہندوستانی پائلٹ کیپٹن سمت مچھر نے شدید زخمی حالت میں کاک پٹ کا دروازہ کھول کر 174 مسافروں کی جان بچا لی۔ عمانی شریک پائلٹ کے حملے کے بعد طیارہ دو منٹ سے بھی کم وقت میں 17,000 فٹ سے زیادہ نیچے گرا، مگر مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو کر کے طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اتار لیا۔
اہم حقائق
- پرواز: فلائی دبئی FZ1073، بوئنگ 737 میکس — دبئی سے تل ابیب (بدھ، 30 ستمبر 2026)۔
- حملہ آور: عمانی شریک پائلٹ، جس نے کاک پٹ میں کیپٹن سمت مچھر پر چاقو سے حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔
- طیارہ دو منٹ سے بھی کم وقت میں 17,000 فٹ سے زیادہ بلندی گنوا بیٹھا۔
- شدید زخمی کیپٹن نے کاک پٹ کا دروازہ کھولا؛ اندر آنے والے مسافروں نے حملہ آور کو قابو کر لیا۔
- تبوک (سعودی عرب) میں ہنگامی لینڈنگ؛ 174 مسافروں میں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
- وزیراعظم نریندر مودی اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پائلٹ کو “حقیقی ہیرو” قرار دیا؛ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے 2 اکتوبر کو حملے کی مذمت کی۔
کاک پٹ میں حملہ
رپورٹس کے مطابق پرواز کے دوران دونوں پائلٹوں کے درمیان کاک پٹ میں تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد عمانی شریک پائلٹ نے کیپٹن سمت مچھر پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ حملے کے نتیجے میں طیارہ تیزی سے نیچے گرنے لگا اور دو منٹ سے بھی کم وقت میں 17,000 فٹ سے زیادہ بلندی گنوا بیٹھا۔ مسافروں نے افراتفری کے مناظر بیان کیے — ایک مسافر نے کہا کہ انہیں یقین تھا کہ وہ مرنے والے ہیں۔
سمت مچھر کا فیصلہ کن لمحہ: کاک پٹ کا دروازہ کھولا
شدید زخمی ہونے کے باوجود کیپٹن مچھر نے ہمت نہیں ہاری اور اندر سے کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا۔ دروازہ کھلتے ہی مسافر اور عملہ کاک پٹ میں داخل ہوئے اور حملہ آور کو قابو کر لیا — ایک مسافر نے حملہ آور کو گردن سے پکڑ کر کاک پٹ سے باہر کھینچا، جبکہ ڈاکٹر شوٹا موسایف نے ہیڈفون کی تاروں اور زپ ٹائیز سے حملہ آور کو باندھا اور پھر خون میں لت پت پائلٹ کا علاج کیا۔ اسی دوران مسافروں کے طور پر سفر کرنے والے فلائی دبئی کے دو دیگر پائلٹوں نے طیارے کو سنبھالنے میں مدد کی۔

تبوک میں ہنگامی لینڈنگ
حملے کے بعد طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک کی طرف موڑ دیا گیا، جہاں اس نے بحفاظت ہنگامی لینڈنگ کی۔ لینڈنگ کے فوراً بعد سعودی حکام نے عمانی شریک پائلٹ کو حراست میں لے لیا۔ کیپٹن مچھر کو تبوک کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں ان کا آپریشن ہوا۔ ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے نے تصدیق کی کہ ان کی حالت مستحکم ہے، اور بعد میں انہیں مزید علاج کے لیے ابوظہبی منتقل کر دیا گیا۔
مودی اور نیتن یاہو کی جانب سے خراج تحسین
ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے کیپٹن مچھر کی “غیر معمولی ہمت اور دوسروں کی جانیں بچانے کے غیر متزلزل عزم” کی تعریف کی۔ یو پی ایس سی کی صد سالہ تقریب سے خطاب اور سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ پائلٹ نے “9/11 جیسے ایک اور حملے” کو روکا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی انہیں “حقیقی ہیرو” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 174 زندگیاں بچائیں اور “ہوا میں ایک تباہ کن حادثے” کو روکا۔
اقوام متحدہ کی مذمت اور گجرات کا اعزاز
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 2 اکتوبر کو فلائی دبئی کی پرواز پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کی۔ ان کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کو اس واقعے پر گہری تشویش ہے اور وہ مطمئن ہیں کہ المیہ ٹل گیا۔ ادھر گجرات کے وزیراعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اعلان کیا کہ کیپٹن مچھر کو غیر معمولی بہادری پر “وششٹ گجرات گریما ایوارڈ” اور 25 لاکھ روپے نقد انعام دیا جائے گا۔
تحقیقات کا دائرہ وسیع
سعودی عرب کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق شریک پائلٹ نے پرواز کے دوران کیپٹن پر حملہ کیا۔ دونوں پائلٹ زخمی ہوئے اور طبی معائنے کے بعد جمعرات کی صبح ابوظہبی روانہ ہو گئے۔ سعودی عرب نے عمانی شریک پائلٹ کو متحدہ عرب امارات کے حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ تفتیشی ادارے اب حملے کے محرکات اور شریک پائلٹ کے پس منظر کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
| تاریخ | واقعہ |
|---|---|
| بدھ، 30 ستمبر 2026 | کاک پٹ میں حملہ؛ طیارے کی تبوک میں ہنگامی لینڈنگ؛ حملہ آور گرفتار |
| جمعرات، یکم اکتوبر 2026 | دونوں پائلٹ ابوظہبی منتقل؛ عمانی شریک پائلٹ سعودی عرب سے متحدہ عرب امارات کے حوالے؛ گجرات حکومت کا اعزاز کا اعلان |
| جمعہ، 2 اکتوبر 2026 | اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حملے کی مذمت؛ تحقیقات جاری |
نتیجہ
فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 کا واقعہ کیپٹن سمت مچھر کی غیر معمولی بہادری اور فرض شناسی کی مثال ہے — جان لیوا حملے کے باوجود انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر 174 مسافروں کی حفاظت کو ترجیح دی۔ عالمی رہنماؤں کی تعریف اور اقوام متحدہ کی مذمت اس واقعے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ جاری تحقیقات ہوابازی کی حفاظت کے لیے اہم سبق چھوڑیں گی۔ وطن نیوز پر دنیا کی مزید خبریں پڑھیں۔ مزید تفصیلات کے لیے تحقیقات کی تازہ رپورٹ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

























