اسلام آباد / پشاور — سوموار 21 ستمبر 2026 کو وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد منظم اور جامع انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں کی گئیں۔ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کوہاٹ، ہنگو اور ٹل کے علاقوں میں کارروائی کی، اور حملوں کی ذمہ دار قرار دی جانے والی تنظیموں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں پر فضائی کارروائیاں بھی کی گئیں۔
وزارت کے مطابق 20 ستمبر کو کوہاٹ اور ہنگو میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی ہوئی، جس میں وزارت نے ”بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج“ کے 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی قرار دیے۔ یہ فریمنگ سرکاری بیان کی ہے؛ آزادانہ تصدیق اس رپورٹ میں دستیاب نہیں۔
سرحدی محاذ پر وزارت نے بتایا کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کارروائی میں تین اہداف تباہ کیے گئے؛ تباہ شدہ اہداف میں خودکش بمباروں کی تربیت کا مرکز بھی شامل بتایا گیا۔ بیان کے مطابق متعدد خودکش بمباروں سمیت 28 دہشت گرد ہلاک ہوئے، اور ذخیرہ شدہ بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔ انہی اعداد کے مطابق کوہاٹ و ہنگو کے 9 اور سرحدی اہداف کے 28 ملا کر فتنہ الخوارج کے 37 ہلاکتوں کا مجموعی دعویٰ بنتا ہے—جو جنگ آن لائن کی سرخی سے مطابقت رکھتا ہے۔
بلوچستان کے الگ سلسلے میں سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے جنگ نے لکھا کہ ضلع پنجگور کے علاقوں اپھان کوہ اور پروم میں فتنہ الہندوستان کے چار دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ یہ چار ہلاکتیں سرخی والے ”37 فتنہ الخوارج“ کے اعداد میں شمار نہیں؛ الگ گروہ اور الگ جغرافیائی سیاق ہے۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کی کوشش کی ہے، اور شہریوں کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ بیان میں تشویش کا اظہار کیا گیا کہ افغانستان بدستور دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے، اور کہا گیا کہ پاکستان کو لاحق دہشت گردی کا خطرہ افغانستان سے پیدا ہو رہا ہے۔ یہ تجزیاتی دعوے سرکاری موقف ہیں؛ آزادانہ تصدیق اس تحریر کا حصہ نہیں۔
بیان کے مطابق اہداف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں، اور ضمنی نقصان سے بچاؤ یقینی بنایا گیا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی مہم ”غضب الحق“ پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ غیر ملکی سرپرستی سے ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو۔
اس پس منظر میں جنگ نے یاد دلایا کہ ہنگو میں خوارج سے فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے چھ جوان شہید ہوئے تھے، اور ان کی نمازِ جنازہ پشاور میں ادا کی گئی۔ سرکاری آپریشنز کے نتائج کے ساتھ یہ شہادتیں انسدادِ دہشت گردی کی انسانی قیمت کی یاد دہانی ہیں۔
خلاصہ یہ کہ وزارتِ اطلاعات کے بیان کے مطابق خیبر پختونخوا اور پاک افغان سرحد پر کارروائیوں میں فتنہ الخوارج کے 37 دہشت گرد ہلاک قرار دیے گئے، جبکہ پنجگور میں الگ کارروائی میں چار مزید ہلاکتوں کا ذکر سکیورٹی ذرائع نے کیا۔ مکمل آزادانہ تصدیق اور ضمنی نقصان کی تفصیل ابھی سرکاری بیان سے آگے دستیاب نہیں۔
ذرائع: جنگ آن لائن (خبر 1617755، 21 ستمبر 2026) بشمول وزارتِ اطلاعات و نشریات کا بیان اور سکیورٹی ذرائع۔ جنگ صفحے کی فیچر تصویر حقوق کے لحاظ سے غیر یقینی تھی—یہاں ویکیمیڈیا کامنز کی کھلی لائسنس افقی تصویر استعمال کی گئی۔



















