کراچی / لاہور — پیر 22 ستمبر 2026 کو پاکستانی شوبز کے دائرے میں ایک اہم آواز دوبارہ گونجی: اداکارہ ہانیہ عامر نے انسٹاگرام سٹوری کے ذریعے باڈی شیمِنگ اور خواتین کے خلاف نفرت انگیز تبصرے کو ‘‘مزاح’’ کا نام دے کر پیش کرنے والے مواد پر سخت تنقید کی۔ ان کے پیغام کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ خواتین عوامی جائیداد نہیں، اور ان کے جسم یا چہرے کو عوامی گفتگو کا کھیل نہیں بنایا جا سکتا۔
کیا کہا گیا؟
ٹائمز آف بنگلادیش (tob.news) اور دیگر علاقائی رپورٹس کے مطابق ہانیہ نے جمعرات کو انسٹاگرام سٹوری میں لکھا کہ 2026 میں خواتین کے جسم، چہروں، ظاہری شکل، عمر اور ذاتی زندگی کو مذاق کا مواد بنانا ‘‘مضحکہ خیز’’ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی شخص محض ‘‘مزاح’’ یا ‘‘ذاتی رائے’’ کہہ کر ایسے الفاظ کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا۔
ان کا ایک اہم جملہ رپورٹس میں یوں نقل ہوا: ‘‘خواتین عوامی جائیداد نہیں، ان کے جسم عوامی تبصرے کا موضوع نہیں، اور ان کے چہرے عوامی گفتگو کا حصہ نہیں ہونے چاہیے۔ ہمیں اب اس مرحلے سے آگے نکل جانا چاہیے۔’’ انہوں نے خاص طور پر مواد بنانے والوں کو یاد دلایا کہ وہ خالی فضا میں بات نہیں کر رہے؛ بلکہ یہ طے کر رہے ہیں کہ معاشرہ کیا ‘‘نارمل، مزاحیہ اور قابلِ قبول’’ سمجھے گا۔
ناظرین کی ذمہ داری
ہانیہ نے صرف تخلیق کاروں پر نہیں، بلکہ دیکھنے والوں پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق لاکھوں لوگ ایسے مواد کو دیکھتے اور شیئر کرتے ہیں، اور اسی اجتماعی رویے سے یہ طے ہوتا ہے کہ خواتین کے بارے میں کون سی باتیں ‘‘تفریح’’ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے سے تبدیلی کا مطالبہ کرنے والوں کو خود بھی اس رویے کو انعام نہیں دینا چاہیے جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے ناظرین سے اپیل کی کہ ایسے مواد کو رسائی (ریچ) نہ دیں، خواتین کو تماشا نہ بنائیں، اور اسے تفریح کا نام نہ دیں۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے کسی ایک شخص یا چینل کا نام نہیں لیا؛ پیغام عمومی اصولوں پر تھا۔
سیاق: کترینہ کیف اور مقامی آوازیں
یہ موقف اس ہفتے آن لائن بحث کے پس منظر میں سامنے آیا جب بالی ووڈ اداکارہ کترینہ کیف نے زچگی کے بعد عوامی پیشی دی اور ظاہری شکل پر سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ناظرین میں سے بہتوں نے دفاع میں کہا کہ زچگی کے بعد جسمانی تبدیلیاں قدرتی عمل ہیں۔ پاکستان میں زحلے سرحدی اور آمنہ الیاس سمیت دیگر فنکاروں نے بھی حالیہ دنوں میں خواتین کو نشانہ بنانے والے آن لائن مواد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
24 News HD اور دی ٹروتھ انٹرنیشنل جیسی رپورٹس کے مطابق اسی بحث میں علی ظفر نے بھی مردوں سے اپنے رویے پر غور کرنے کی بات کی، جبکہ کچھ مقامی مبصرین پر باڈی شیمِنگ کے الزامات لگے۔ یہ پس منظر بتاتا ہے کہ ہانیہ کا بیان الگ تھلگ جذباتی ردعمل نہیں بلکہ وسیع تر ثقافتی بحث کا حصہ ہے۔
شوبز کے لیے کیا مطلب ہے؟
پاکستانی ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر مشہور چہرے جب اصولی موقف لیتے ہیں تو اثر دو طرفہ ہوتا ہے: ایک طرف مداحوں میں گفتگو تیز ہوتی ہے، دوسری طرف مواد بنانے والے ‘‘وائرل فارمولا’’ پر دباؤ محسوس کر سکتے ہیں۔ ہانیہ حالیہ مہینوں میں موسیقی کی طرف بھی بڑھ رہی ہیں؛ تاہم موجودہ بیان ان کی موسیقی کے منصوبے سے الگ، صنفی احترام اور ڈیجیٹل ذمہ داری کا بیانیہ ہے۔
خلاصہ یہ کہ تصدیق شدہ رپورٹس کے مطابق ہانیہ عامر نے ستمبر 2026 کے وسط میں واضح کیا کہ خواتین کے جسم اور ذاتی زندگی کو تفریح بنانا قابلِ قبول نہیں، اور ناظرین کو چاہیے کہ ایسے مواد کو تقویت نہ دیں۔ آزادانہ طور پر کسی مخصوص تنازعے میں ان کا نام لینے کا ثبوت ان کے عمومی بیان میں نہیں دیا گیا۔
ذرائع: tob.news (20–21 ستمبر 2026)، 24 News HD (18 ستمبر 2026)، The Truth International؛ بیانات انسٹاگرام سٹوری کے حوالے سے ان رپورٹس میں نقل ہوئے۔ فیچر تصویر ویکیمیڈیا کامنز کی توضیحی افقی تصویر ہے۔















