فرانس میں نوجوانوں کا احتجاج ایک ملک گیر تحریک میں بدل گیا ہے۔ ستمبر کے وسط میں پیرس کے ایک ہائی اسکول سے شروع ہونے والا یہ مظاہرہ اب فرانس کے ہزاروں اسکولوں تک پھیل چکا ہے — ہزاروں طلبہ بوسیدہ عمارتوں، اساتذہ کی کمی اور تعلیم کے شعبے میں عدم مساوات کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ پولیس کے سخت ردعمل اور ہزاروں گرفتاریوں نے اس تحریک کو ایک قومی سیاسی بحران کی شکل دے دی ہے۔
اہم نکات
- تحریک کا آغاز ستمبر کے وسط میں پیرس کے نواحی علاقے کریتائے کے سین ایکزوپیری ہائی اسکول سے ہوا، جہاں اساتذہ نے عملے کی کمی اور ناقص سہولیات پر ہڑتال کی اور طلبہ ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔
- طلبہ کی شکایات: اساتذہ اور عملے کی شدید قلت، فی کلاس 32 سے 35 طلبہ، بوسیدہ اسکول عمارتیں، یونیورسٹی داخلے کے نظام پارکورس اپ پر عدم اطمینان اور گرمیوں میں کلاس رومز میں 40 ڈگری تک درجہ حرارت۔
- پیمانہ: ملک کے 3700 ہائی اسکولوں میں سے تقریباً 400 متاثر؛ 6 اکتوبر کو ملک بھر میں مارچ میں تنظیموں کے مطابق 450,000 جبکہ وزارت داخلہ کے مطابق 250,000 سے زائد افراد شریک ہوئے۔
- گرفتاریاں اور زخمی: وزارت داخلہ کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 6,000 افراد گرفتار؛ صرف یکم اکتوبر کو 1,949 گرفتاریاں ہوئیں۔ وزیراعظم سیباستیئن لیکورنو کے مطابق 215 نوجوان اور 85 عملے کے ارکان زخمی ہوئے، جبکہ 700 سے زائد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
- رائے عامہ: اوڈوکسا اور لو فیگارو کے سروے میں 62 فیصد فرانسیسی شہریوں نے طلبہ کی تحریک کی حمایت کی۔
- حکومتی ردعمل: وزیراعظم نے تعلیم کے بجٹ میں 1.2 ارب یورو اضافے کی تجویز پیش کی؛ اساتذہ کی یونینیں بھی ہڑتال میں شامل ہو گئیں۔
تعلیمی نظام پر شدید تنقید
فرانس میں نوجوانوں نے ملک کے تعلیمی نظام کو ناکارہ، ناقص سہولیات والا اور عملے کی کمی کا شکار قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ برسوں سے گردش کرتی ویڈیوز میں ایسی کلاس رومز دکھائی جاتی رہی ہیں جہاں کرسیاں اور میزیں کم ہیں یا غیر حاضر اساتذہ کی جگہ کوئی متبادل انتظام نہیں ہوتا۔ طلبہ کے نعرے میں کہا گیا: “اسکول ایک حق ہے، استحقاق نہیں”۔
اس تحریک کے منتظم منیس نادیل کے مطابق اتنے زیادہ اسکولوں کا بیک وقت متحرک ہونا بے مثال ہے اور فرانس کی وزارت تعلیم اس بحران سے نمٹنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دی ہے۔ احتجاج کا آغاز معمولی تھا — اصل اسکول میں مطالبات پورے ہونے پر ہڑتال ختم ہو گئی تھی، لیکن اس کے بعد یہ آگ کی طرح پھیل گئی۔
پولیس کے سخت ردعمل پر سوالات
مظاہروں کے دوران پولیس کی جانب سے نوجوان مظاہرین پر مبینہ تشدد کے واقعات نے عوامی غصے کو مزید ہوا دی ہے۔ ایک پلے کارڈ پر لکھا تھا: “ایک ریاست جو ہائی اسکول کے طلباء پر گیس پھینکے وہ ایک کمزور ریاست ہے”۔ پیرس سمیت کئی شہروں میں آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال ہوا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فرانسیسی حکام سے نوجوان مظاہرین کے خلاف “غیر متناسب پولیس دباؤ” ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ناقدین نے ایک ایسے واقعے کی بھی نشاندہی کی ہے جس میں ایک پولیس اہلکار کو ایک لڑکی کے خلاف گردن پر قابو پانے کا ایسا طریقہ استعمال کرتے ہوئے کیمرے میں دیکھا گیا جو اب قانون کے تحت ممنوع ہے۔ حکومت نے بدامنی کو “شہری تشدد” قرار دے کر انتہائی بائیں بازو کی جماعتوں کو اس کے پیچھے قرار دیا ہے۔

اسپین: ماریکارمین کی موت اور ہاؤسنگ تحریک
فرانس کے علاوہ اسپین میں بھی نوجوانوں اور کرایہ داروں کی تحریک جاری ہے۔ ہاؤسنگ بحران کے خلاف ملک گیر احتجاج کی علامت بننے والی 87 سالہ ماریا ڈیل کارمین اباسکال — جنہیں “ماریکارمین” کے نام سے جانا جاتا ہے — اسپتال میں انتقال کر گئیں۔
23 ستمبر کو ماریکارمین کو میڈرڈ کے اس گھر سے بے دخل کیا گیا تھا جہاں وہ 1956 سے مقیم تھیں۔ وہیل چیئر استعمال کرنے والی 87 سالہ خاتون کو اسٹریچر پر گھر سے نکالے جانے کی تصاویر نے اسپین بھر میں احتجاج کو جنم دیا اور یہ معاملہ قومی سیاسی بحران بن گیا۔ وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا، جبکہ پارلیمنٹ کے باہر جمع مظاہرین نے نعرہ لگایا: “ماریکارمین زندہ ہے، جدوجہد جاری رہے گی”۔
سائنس: نوبل انعام یافتہ آپٹوجینیٹکس سے بینائی کی جزوی بحالی
سائنس کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں 7 اکتوبر کو شائع ہونے والے بین الاقوامی پائنیئر مطالعے کے مطابق، آپٹوجینیٹک جین تھراپی حاصل کرنے والے نابینا مریضوں میں سے تقریباً نصف نے روشنی کے حوالے سے کچھ حساسیت دوبارہ حاصل کر لی۔
یہ علاج ریٹینائٹس پگمنٹوسا نامی موروثی آنکھ کی بیماری میں مبتلا مریضوں پر آزمایا گیا۔ تھراپی میں جین کی منتقلی کے ذریعے ریٹینا کے بقیہ خلیوں کو روشنی کے لیے حساس بنایا گیا، جبکہ مریضوں نے خصوصی چشمے پہنے جو ان خلیوں کو متحرک کرتے ہیں۔ حفاظت اس تجربے کا بنیادی ہدف تھا اور زیادہ تر مضر اثرات ہلکے یا درمیانے درجے کے رہے۔ یہ تحقیق اسی آپٹوجینیٹکس سائنس پر مبنی ہے جس پر 5 اکتوبر کو تین سائنسدانوں کارل ڈائیسرتھ، پیٹر ہیگے مین اور گیورگ ناگل کو طب کا نوبل انعام دیا گیا۔
برطانیہ: خاندانی گھروں پر وراثتی ٹیکس ختم کرنے کا وعدہ
برطانیہ میں اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈنوک نے 7 اکتوبر کو پارٹی کانفرنس میں اعلان کیا کہ ان کی حکومت خاندانی گھروں پر وراثتی ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دے گی اور جوڑے اضافی 10 لاکھ پاؤنڈ تک بغیر ٹیکس کے منتقل کر سکیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مکمل وراثتی ٹیکس کا خاتمہ فی الحال ممکن نہیں، تاہم یہ ان کا طویل مدتی ہدف ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے امیر ترین طبقے کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا، کیونکہ وراثتی ٹیکس صرف چند فیصد امیر اسٹیٹس ادا کرتی ہیں۔ یہ وعدہ ٹیکسوں میں کمی اور فلاحی اخراجات میں کٹوتی کے وسیع پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت نوجوان ملازمین کے لیے آجروں کے قومی بیمہ کی شرح بھی آدھی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
نتیجہ
فرانس میں نوجوانوں کا احتجاج صرف تعلیمی نظام کی خامیوں کے خلاف ایک مظاہرہ نہیں، بلکہ یہ ایک وسیع تر نسل در نسل تحریک کا حصہ ہے جو معاشی عدم تحفظ اور عوامی خدمات کے زوال کے خلاف ہے۔ یہ نوجوان نسل محسوس کرتی ہے کہ انہیں ان بنیادی سہولیات سے محروم کیا جا رہا ہے جو پچھلی نسلوں کے لیے عام تھیں۔
اسپین کی ہاؤسنگ تحریک سے لے کر فرانس کے اسکولوں تک، نوجوان بنیادی حقوق اور معاشی تحفظ کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ فرانس میں نوجوانوں کے احتجاج کی یہ کوریج وطن نیوز کے مرکزی پلیٹ فارم پر بھی دستیاب ہے۔ حکومتوں اور پالیسی سازوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ نوجوانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے لیں اور پائیدار حل تلاش کریں۔


























