عالمی ادارہ صحت (WHO) نے روس میں ایک لیبارٹری ورکر کی مبینہ طاعون سے موت کے معاملے پر مکمل معلومات نہ ہونے کا انکشاف کیا ہے۔ ادارے نے روسی حکومت سے مزید وضاحت طلب کی ہے کیونکہ ابتدائی رپورٹس میں غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ایک اور ملازم کے غیر واضح وجہ سے نمونیا سے متاثر ہونے کا ذکر ہے۔
روس میں مشتبہ طاعون سے موت
7 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی خبروں کے مطابق، سائبریا میں ایک 28 سالہ لیبارٹری ورکر، دریبا شیپیلووا، کی مبینہ طاعون سے موت واقع ہو گئی۔ وہ سائبریا کے مشرقی شہر ارکوتسک میں واقع اینٹی-طاعون ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ملازمہ تھیں۔ کچھ رپورٹس کے مطابق، وہ ممکنہ طور پر کام کے دوران حادثے کا شکار ہو کر متاثر ہوئیں۔
- دریبا شیپیلووا، 28 سالہ لیبارٹری ورکر، سائبریا میں انتقال کر گئیں۔
- موت کی وجہ مبینہ طور پر طاعون بتائی جا رہی ہے، تاہم روسی حکام نے اس کی تردید کی ہے۔
- روسی حکام کے مطابق، موت کی وجہ ‘نامعلوم ایٹیولوجی کا نمونیا’ ہے۔
- انسٹی ٹیوٹ اور قریبی ہسپتالوں میں قرنطینہ پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
- عالمی ادارہ صحت نے معاملے پر مکمل معلومات نہ ہونے کا اظہار کیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی وضاحت کی ضرورت
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل، ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس، نے کہا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تصویر ابھی تک واضح نہیں ہے اور ادارہ مکمل رسک اسسمنٹ کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بروقت، مکمل اور شفاف معلومات کا تبادلہ متضاد رپورٹس کو واضح کرنے اور ممکنہ عوامی خطرات کا درست اندازہ لگانے کے لیے ضروری ہے۔
دوسرے ملازم کی غیر مصدقہ رپورٹ
ٹیڈروس نے روسی حکومت سے ایک اور غیر مصدقہ میڈیا رپورٹ کے بارے میں بھی مزید وضاحت طلب کی ہے جس میں ‘غیر واضح وجہ سے نمونیا’ کے شکار ایک دوسرے ملازم کا ذکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ کمیونٹی سے آنے والی تمام رپورٹس کا جائزہ لیتا ہے اور اس معاملے پر روس سے جواب کا منتظر ہے۔
غیر واضح انفیکشن کی وجہ
WHO کی وبا اور وبائی امراض کے انتظام کی ڈائریکٹر، ماریا وان کرکھوو، نے بتایا کہ ادارے کو اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ شیپیلووا کو کس وائرل بیماری کا انفیکشن ہوا اور کس طرح ہوا۔ اگر نمونیا کی طاعون کی قسم کو خارج کر دیا گیا ہے، تو سوال یہ ہے کہ وہ اصل میں کس وجہ سے فوت ہوئیں؟
والدہ کا بیان اور شک و شبہات
شیپیلووا کی 64 سالہ والدہ، سویٹلانا، نے مقامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے اس نظریہ کو رد کیا کہ ان کی بیٹی نے ٹیسٹ ٹیوب توڑنے کے بعد انفیکشن حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سچ جانتی ہیں اور احمق دوستوں کو روک رہی ہیں جو اس پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ ٹیوب ناقابلِ شکست ہوتی ہے، چاہے اسے دیوار پر مارا جائے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو ایک محنتی اور ‘پاکیزہ شخص’ قرار دیا جو اپنے کام سے لگن رکھتی تھیں۔
انسٹی ٹیوٹ میں قرنطینہ
شیپیلووا جس اینٹی-طاعون ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرتی تھیں، وہاں اور قریبی ہسپتالوں میں وسیع پیمانے پر قرنطینہ پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کے عملے کو تین دن تک اندر ہی بند رکھا گیا، جہاں وہ فرش اور کرسیوں پر سوتے رہے جبکہ ٹیسٹ کیے جا رہے تھے۔
روسی حکام کا موقف
روسی حکام نے انسٹی ٹیوٹ سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے اور اصرار کیا ہے کہ شیپیلووا کی موت ‘نامعلوم ایٹیولوجی کے نمونیا’ سے ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ طاعون کے پھیلنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور علاقے کی ‘صحت اور وبائی امراض’ کی صورتحال مستحکم ہے۔
عالمی صحت کے لیے خطرات کا جائزہ
عالمی ادارہ صحت کو اس معاملے کی مکمل تفصیلات نہ ہونے کی وجہ سے خطرات کا درست اندازہ لگانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ادارے کی جانب سے روسی حکام سے شفاف اور بروقت معلومات کے حصول کی کوششیں جاری ہیں۔
نتیجہ
روس میں ایک لیبارٹری ورکر کی مبینہ طاعون سے موت کا معاملہ عالمی ادارہ صحت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ادارے کو تاحال اس واقعے کی مکمل تفصیلات میسر نہیں ہیں، جس کی وجہ سے خطرات کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ہو رہا۔ روسی حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور ابتدائی رپورٹس میں تضاد پایا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے مزید وضاحت طلب کی ہے اور شفاف معلومات کے تبادلے پر زور دیا ہے تاکہ صورتحال کی سنگینی کا صحیح ادراک کیا جا سکے۔
اس معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر واقعی طاعون کا خدشہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کے عالمی صحت پر اثرات گہرے ہو سکتے ہیں۔ تاہم، روسی حکام کی جانب سے اس کی تردید اور ‘نامعلوم ایٹیولوجی کے نمونیا’ کو موت کی وجہ قرار دینے کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے تحقیقات اور معلومات کے حصول کی کوششیں جاری ہیں تاکہ اس پراسرار موت کے پیچھے کی حقیقت سامنے لائی جا سکے۔




























