ارتھ جرنلزم نیٹ ورک کے سرحد پار تحقیقی منصوبے “ڈارک سائیڈ آف دی بوم” نے ایشیا کی ڈیجیٹل معیشت کی پوشیدہ ماحولیاتی قیمت بے نقاب کرنے پر دو بڑے بین الاقوامی اعزازات حاصل کیے ہیں۔ اس منصوبے کو جون 2026 میں سوپا ایوارڈ برائے ماحولیاتی رپورٹنگ ملا جبکہ 2026 کے اوسبورن ایلیٹ پرائز کی جیوری نے اسے صحافتی جدت پر خصوصی ستائش سے نوازا۔ یہ ماحولیاتی صحافت میں مشترکہ تحقیق کی ایک نمایاں مثال ہے۔
اہم نکات
- “ڈارک سائیڈ آف دی بوم” نے سوپا 2026 کا ماحولیاتی رپورٹنگ اعزاز (علاقائی/مقامی زمرہ) جیتا۔
- اوسبورن ایلیٹ پرائز 2026 کی جیوری نے منصوبے کو صحافتی جدت پر خصوصی ستائش دی۔
- سیم شرامسکی کی قیادت میں 11 ایشیائی ممالک کے 14 نیوز رومز نے ڈیٹا سینٹرز، اے آئی اور کرپٹو مائننگ کے ماحولیاتی اثرات کی تحقیق کی۔
- بنگلہ دیش کی تحقیق “ڈیجیٹل ڈریمز، پارچڈ ریئلٹی” شمس الدین الیاس نے لکھی؛ اس میں ڈیٹا انڈسٹری کے بجلی اور زیر زمین پانی پر دباؤ کا جائزہ لیا گیا۔
- تحقیق کے مطابق ایک درمیانے اے آئی ڈیٹا سینٹر روزانہ تقریباً دس لاکھ لیٹر پانی ٹھنڈک کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ڈیجیٹل ترقی کی پوشیدہ قیمت
ارتھ جرنلزم نیٹ ورک کے مطابق دنیا بھر میں پھیلتا ڈیجیٹل انقلاب ایک پوشیدہ قیمت کے ساتھ آتا ہے — ایسی قیمت جو بائٹس اور بینڈوتھ میں نہیں بلکہ کلو واٹ گھنٹوں اور لاکھوں لیٹر پانی میں ماپی جاتی ہے۔ ایشیا میں کلاؤڈ اور اے آئی سے منسلک ڈیٹا سینٹرز اور کرپٹو کرنسی مائننگ پھیل رہے ہیں اور موسمیاتی تبدیلی سے پہلے ہی متاثرہ محدود قدرتی وسائل پر بے مثال دباؤ ڈال رہے ہیں۔
تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ ایک بڑے جنریٹو اے آئی ماڈل کی تربیت سے اتنا کاربن خارج ہوتا ہے جتنا پانچ گاڑیاں اپنی پوری زندگی میں خارج کرتی ہیں۔ ایک درمیانے درجے کا اے آئی ڈیٹا سینٹر ٹھنڈک کے لیے روزانہ تقریباً دس لاکھ لیٹر پانی استعمال کرتا ہے، جو ایک ہزار گھرانوں کی روزانہ ضرورت کے برابر ہے۔ بٹ کوائن مائننگ اب لاؤس کی بجلی کی کھپت کا ایک تہائی حصہ ہے۔
ماحولیاتی صحافت کا مشترکہ ماڈل
یہ منصوبہ ماحولیاتی صحافت میں سرحد پار تعاون کی طاقت کا مظہر ہے۔ سوپا کے ججوں نے اسے “شاندار کام” قرار دیا جو “سرحدوں کے پار تنظیم، تحقیق، تعاون اور لگن کی مضبوط سطح کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے” اور “حقیقی لوگوں، تصدیق شدہ اعداد و شمار، تخلیقی بصری مواد اور مضبوط تحریر کو ایک مؤثر سلسلے میں جوڑتا ہے”۔
اوسبورن ایلیٹ پرائز کی جیوری نے اسے “دنیا بھر کے نیوز رومز اور رپورٹروں کو جوڑ کر اہم موضوعات پر اعلیٰ اثر والی اصل صحافت” کرنے پر سراہا۔ واضح رہے کہ اصل اوسبورن ایلیٹ پرائز نیویارک ٹائمز کی ویوین وانگ کو ملا تھا، جبکہ “ڈارک سائیڈ آف دی بوم” کو جدت پر خصوصی ستائش ملی۔

بنگلہ دیش کی تحقیق: ڈیجیٹل خواب، پیاسی حقیقت
اس منصوبے میں دی کلائمٹ واچ کی بنگلہ دیشی تحقیق “ڈیجیٹل ڈریمز، پارچڈ ریئلٹی: بنگلہ دیش کی ڈیٹا انڈسٹری کی سونے کی دوڑ کی پوشیدہ قیمت” شامل تھی، جسے ماحولیاتی صحافی شمس الدین الیاس نے تحریر کیا۔ تحقیق میں جائزہ لیا گیا کہ بنگلہ دیش کا بڑھتا ڈیٹا سینٹر شعبہ بجلی، زیر زمین پانی اور موسمیاتی طور پر کمزور برادریوں پر نیا دباؤ ڈال رہا ہے — ایسے وقت میں جب ملک توانائی کی حفاظت اور صاف توانائی کی منتقلی کے چیلنجوں سے نبرد آزما ہے۔
الیاس نے کہا کہ “یہ اعزاز اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ ہمیں ڈیجیٹل ترقی کے وعدوں کے پیچھے ماحولیاتی قیمت کا جائزہ کیوں لینا چاہیے۔ بنگلہ دیش کو تکنیکی ترقی کی ضرورت ہے، لیکن اس ترقی کو عوام کی پانی اور توانائی تک رسائی کا تحفظ کرنا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ دی کلائمٹ واچ اور ارتھ جرنلزم نیٹ ورک کے ساتھ کام کر کے مقامی حقائق کو علاقائی تحقیق سے جوڑنے کا موقع ملا اور “یہ اعزاز پوری رپورٹنگ ٹیم اور ان برادریوں کا ہے جنہوں نے ہم پر اعتماد کیا۔”
الیاس اس سے پہلے 2022 میں کورنگ کلائمٹ ناؤ اعزاز میں خصوصی ذکر پا چکے ہیں، 2023 میں سنکنگ سٹیز منصوبے پر یورپی جرنلزم سینٹر اور گوگل نیوز انیشی ایٹو کا کلائمٹ جرنلزم ایوارڈ جیت چکے ہیں، اور ستمبر 2026 میں انہیں اے پی ایم پی 100 اعزاز بھی ملا۔ وہ جنوبی ایشیائی موسمیاتی صحافی فورم کے بنگلہ دیش چیپٹر کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔
| اعزاز | ادارہ | زمرہ |
|---|---|---|
| سوپا 2026 | سوسائٹی آف پبلشرز ان ایشیا | ماحولیاتی رپورٹنگ میں عمدگی (علاقائی/مقامی) |
| اوسبورن ایلیٹ پرائز 2026 | جیوری کی خصوصی ستائش | صحافتی جدت |
نتیجہ
“ڈارک سائیڈ آف دی بوم” نے ثابت کیا ہے کہ جب 11 ممالک کے 14 نیوز رومز مل کر کام کریں تو ڈیٹا سینٹرز جیسے نظر نہ آنے والے موضوع کی ماحولیاتی قیمت بھی بے نقاب ہو سکتی ہے۔ یہ منصوبہ ماحولیاتی صحافت کے لیے ایک نمونہ ہے — مقامی برادریوں کی آواز کو علاقائی تحقیق سے جوڑ کر پالیسی سازوں تک پہنچانا۔ اس سے پہلے 2026 کے والڈو پروفٹ ایوارڈ میں بھی ماحولیاتی رپورٹنگ کو سراہا گیا تھا۔






















