عالمی موسمیاتی کانفرنس کاپ31 کی تیاریاں زوروں پر ہیں، اور اس بار مذاکرات کا رخ ایک بنیادی تبدیلی کی طرف ہے۔ ترکی 9 سے 20 نومبر 2026 تک انطالیہ میں اقوام متحدہ کی 31ویں موسمیاتی کانفرنس کی میزبانی کرے گا، جس کی صدارت مراد کورم کریں گے۔ کاپ31 کی صدارت کا واضح پیغام ہے: نئے وعدے نہیں، بلکہ پہلے سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد۔ انطالیہ کے ایکسپو سینٹر میں تیاریاں جاری ہیں، جہاں دنیا بھر کی حکومتیں اور مذاکرات کار جمع ہوں گے۔
اہم نکات
- کاپ31 9 سے 20 نومبر 2026 تک انطالیہ، ترکی میں منعقد ہوگی۔
- صدارت مراد کورم کریں گے؛ زور نئے وعدوں کے بجائے عمل درآمد پر ہوگا۔
- اہم موضوعات: 300 ارب ڈالر سالانہ موسمیاتی مالیات، لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ، جیواشم ایندھن سے دوری کا روڈ میپ۔
- یورپین پارلیمنٹ نے 50 کے مقابلے میں 16 ووٹوں سے کاپ31 کی ترجیحات کی قرارداد منظور کی۔
- باضابطہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ 14 سے 18 نومبر تک پیپلز کلائمٹ سمٹ بھی انطالیہ میں ہوگا۔
کاپ31 انطالیہ: وعدوں سے عمل کی طرف
کاپ31 اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی (یو این ایف سی سی) کا 31واں اجلاس ہے۔ ترکی اس کی میزبانی اور صدارت دونوں کی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔ ماحولیات، شہریات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر اور کاپ31 کے صدر مراد کورم کے مطابق سربراہی اجلاس کو موجودہ وعدوں کو عملی جامہ پہنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
متوقع ایجنڈے میں خوراک کی سلامتی، پانی کی بچت، زراعت، صحت عامہ، توانائی کی سلامتی، بجلی کاری، پاور گرڈ، سرکلر معیشت، میتھین کے اخراج، زیرو ویسٹ، موسمیاتی لچکدار شہر، آفات کے خطرے کا انتظام، گرین فنانس، کاربن مارکیٹ، گرین صنعت کاری، ڈیجیٹلائزیشن، حیاتیاتی تنوع، منصفانہ منتقلی اور سمندری ماحولیاتی نظام شامل ہیں۔

مالیات اور جیواشم ایندھن: مشکل ترین مذاکرات
کاپ31 میں پچھلی کانفرنسوں کے فیصلوں پر عمل درآمد اور عالمی موسمیاتی سفارت کاری کے حل طلب مسائل دونوں زیر بحث آئیں گے۔ کاپ27 میں قائم ہونے والے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کی مالی اعانت ایک بڑا مسئلہ رہے گی۔ مذاکرات کار ترقی یافتہ ممالک کے اس عزم پر بھی بات کریں گے کہ ترقی پذیر ممالک کو سالانہ 300 ارب ڈالر موسمیاتی مالیات فراہم کیے جائیں۔
کاپ30 میں منظور ہونے والے بیلیم ایکشن میکانزم کے ادارہ جاتی انتظامات بھی انطالیہ مذاکرات میں طے کیے جائیں گے۔ گلوبل امپلیمنٹیشن ایکسلریٹر کی ابتدائی پیش رفت رپورٹ بھی ترک صدارت کو پیش کی جائے گی؛ یہ نظام ممالک کو ان کے قومی تعین کردہ شراکتوں (این ڈی سی) پر عمل میں مدد دیتا ہے۔ جیواشم ایندھن سے دوری کا روڈ میپ ایک اور کٹھن مسئلہ ہوگا۔ کولمبیا اور نیدرلینڈز کی قیادت میں اعلیٰ سطحی بات چیت کے بعد تیار ہونے والی رپورٹ ترک صدارت کو پیش کی جائے گی، کیونکہ کاپ30 میں ایسے روڈ میپ پر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی مخالفت کے باعث اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔
میزبان ترکی کی توانائی پالیسی جانچ کی زد میں
میزبان ملک کے طور پر ترکی کی موسمیاتی پالیسیوں اور توانائی منتقلی پر خاص نظر رہے گی۔ ترکی نے 2021 میں پیرس معاہدے کی توثیق کی اور 2053 تک خالص صفر اخراج کا ہدف مقرر کیا۔ اپنے پہلے اپ ڈیٹ شدہ این ڈی سی میں ترکی نے 2030 تک اخراج میں کمی کا ہدف 21 فیصد سے بڑھا کر 41 فیصد کر دیا۔ دوسرے این ڈی سی کے تحت 2035 میں اخراج کو 643 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی تک محدود رکھنے کا ہدف ہے، جبکہ اخراج 2038 میں عروج پر پہنچ کر پھر کم ہونا شروع ہوں گے۔
| اشارے | اعداد و شمار |
|---|---|
| کوئلے کا حصہ (کل توانائی، 2024) | تقریباً 25 فیصد |
| قابل تجدید ذرائع (بجلی، 2025) | 43 فیصد |
| شمسی بجلی کی پیداوار (2025) | 38 ٹیرا واٹ گھنٹے |
| ہوا سے بجلی (2025) | 39 ٹیرا واٹ گھنٹے |
| بجلی کی کاربن شدت | تقریباً 420 گرام فی کلو واٹ گھنٹہ |
| فی کس اخراج (2023) | 4.6 ٹن |
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق ترکی میں 2005 سے 2024 کے دوران بجلی کی طلب میں سالانہ اوسطاً 4.5 فیصد اضافہ ہوا، جو ایجنسی کے رکن ممالک میں سب سے تیز رفتار ہے۔ تاہم کوئلہ اب بھی توانائی نظام کا بڑا حصہ ہے: 2024 میں کل توانائی کا تقریباً 25 فیصد اور بجلی کی پیداوار کا ایک تہائی سے زائد۔ ترکی نے 2025 میں تقریباً 120 ملین ٹن کوئلہ استعمال کیا، جو اسے یورپ کا سب سے بڑا کوئلہ صارف بناتا ہے۔ دوسری طرف قابل تجدید ذرائع نے 2025 میں بجلی کی پیداوار کا 43 فیصد فراہم کیا، شمسی بجلی 24 فیصد بڑھ کر 38 ٹیرا واٹ گھنٹے تک پہنچی، اور ترکی یورپ کا سب سے بڑا سولر پینل تیار کنندہ ہے۔ 2035 تک ہوا اور شمسی کی مشترکہ نصب شدہ صلاحیت 120 گیگا واٹ تک بڑھانے کا ہدف ہے۔
2 جولائی 2025 کو منظور ہونے والے ترکی کے موسمیاتی قانون نے خالص صفر ہدف کا قانونی ڈھانچہ قائم کیا اور قومی اخراج تجارتی نظام کی قانونی بنیاد رکھی۔ اکویو جوہری بجلی گھر کا پہلا یونٹ 2026 میں کام شروع کرنے کی توقع ہے، اور 2035 تک 7.2 گیگا واٹ جوہری صلاحیت کا ہدف ہے۔

یورپین پارلیمنٹ کی ترجیحات
کاپ31 کی تیاری کے سلسلے میں یورپین پارلیمنٹ کی ماحولیات، آب و ہوا اور خوراک کی حفاظت کی کمیٹی نے اپنی ترجیحات کی قرارداد 50 کے مقابلے میں 16 ووٹوں سے منظور کی، جبکہ 3 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ ارکان نے جیواشم ایندھن سے تیزی سے دوری، موسمیاتی مالیات میں اضافے اور کمزور ممالک کی مضبوط حمایت کا مطالبہ کیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ 2025 ریکارڈ کے گرم ترین برسوں میں سے ایک تھا اور یورپ سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے۔ یورپین یونین 1990 کے مقابلے میں 2030 تک خالص گرین ہاؤس گیسوں میں تقریباً 54 فیصد کمی کی راہ پر ہے، بشرطیکہ رکن ممالک موجودہ اور منصوبہ بند اقدامات پر مکمل عمل کریں؛ تاہم 2024 سے 2025 کے دوران اخراج میں 1 فیصد اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
باضابطہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کے گروپ 14 سے 18 نومبر تک انطالیہ میں پیپلز کلائمٹ سمٹ کا اہتمام کر رہے ہیں، جسے موسمیاتی انصاف کے لیے متبادل پلیٹ فارم قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بحرالکاہل کے ممالک فجی اور تووالو میں پری کاپ اجلاس بھی ہو چکے ہیں۔ مزید پڑھیے: فجی میں پری کاپ31: مالیات اور 1.5 ڈگری کا عزم۔
نتیجہ
کاپ31 انطالیہ موسمیاتی سفارت کاری کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ہو سکتا ہے۔ اگر وعدوں سے عمل کی طرف منتقلی واقعی ہوتی ہے تو یہ کانفرنس پیرس معاہدے کے بعد کی سب سے اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔ تاہم مالیات، جیواشم ایندھن اور عمل درآمد کے طریقہ کار پر اختلافات بتاتے ہیں کہ انطالیہ کا راستہ آسان نہیں ہوگا۔ دنیا کی نظریں اب نومبر کے ان بارہ دنوں پر ہیں۔






















