نومبر میں ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کاپ31 سے پہلے میزبان ممالک نے “برقی کاری” کو مذاکرات کا مرکزی موضوع بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ترکیہ اور آسٹریلیا کی مشترکہ صدارت ڈیزل گاڑیوں اور گیس سے چلنے والے ہیٹنگ نظام کی جگہ برقی متبادل کو فروغ دینا چاہتی ہے، جبکہ فوسل ایندھن کے خاتمے پر عالمی اتفاق رائے تاحال تعطل کا شکار ہے۔
اہم نکات
- کاپ31 انطالیہ میں 9 سے 20 نومبر 2026 تک منعقد ہوگی؛ میزبانی ترکیہ کرے گا اور صدارت میں آسٹریلیا شریک ہوگا۔
- میزبان ممالک “برقی کاری” کو مرکزی موضوع بنا رہے ہیں؛ ترکیہ کی صدارت نے “35 بائی 35” عالمی برقی کاری عہد پیش کیا ہے۔
- فوسل ایندھن کے خاتمے کے ٹھوس اہداف پر اتفاق نہیں ہو سکا اور یہ موضوع کاپ31 کے رسمی ایجنڈے میں شامل نہیں۔
- پری کاپ اجلاس کا آغاز پیر کو تووالو اور فجی میں ہوا؛ یورپی پارلیمان کی ماحولیاتی کمیٹی نے یکم اکتوبر کو فوسل ایندھن کے تیز خاتمے کا مطالبہ کیا۔
- 2025 میں فوسل ایندھن کے اخراج نے ریکارڈ بلندی حاصل کی اور اقوام متحدہ نے ستمبر میں تسلیم کیا کہ 1.5 ڈگری کا ہدف چند برسوں میں حاصل نہیں ہو سکے گا۔

کاپ31 میں برقی کاری کیوں مرکز نگاہ ہے؟
ترکیہ اور آسٹریلیا کاپ31 میں برقی کاری پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں — یعنی ڈیزل گاڑیوں اور گیس ہیٹنگ جیسی براہ راست فوسل ایندھن جلانے والی ٹیکنالوجی کی جگہ برقی متبادل لانا۔ ترکیہ کی کاپ صدارت نے نیویارک کلائمٹ ویک کے موقع پر “35 بائی 35” عالمی برقی کاری عہد کا آغاز کیا تھا جس کے تحت 2035 تک عالمی حتمی توانائی کھپت میں بجلی کا حصہ 35 فیصد کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
تاہم ماحولیاتی تنظیم تھری ففٹی نے خبردار کیا ہے کہ اس عہد میں قابل تجدید توانائی کی کوئی پابند شرط شامل نہیں، جس سے کوئلے یا گیس سے پیدا ہونے والی بجلی بھی اس ہدف میں شمار ہو سکتی ہے۔ تنظیم کے مطابق برقی کاری کی رفتار کے ساتھ کوئلے، تیل اور گیس کے تیزی سے خاتمے کا واضح عزم بھی ضروری ہے۔
فوسل ایندھن کے خاتمے پر تعطل
فوسل ایندھن کو مرحلہ وار ختم کرنے کے ٹھوس اہداف یا راستے پر عالمی اتفاق رائے کی کوششیں رک گئی ہیں اور یہ دیرینہ متنازع موضوع کاپ31 کے رسمی مذاکراتی ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔ گزشتہ برس کے اجلاس میں تیل و گیس پیدا کرنے والے ممالک کی مخالفت کے باعث حتمی معاہدے میں فوسل ایندھن کا نام تک شامل نہیں ہو سکا تھا۔
اتفاق نہ ہونے پر توقع ہے کہ برازیل کوئلے، تیل اور گیس سے دوری کے لیے ایک رضاکارانہ “روڈ میپ” پیش کرے گا۔ رواں برس فوسل ایندھن پر تیز اقدام کے مطالبے والے تقریباً 60 ممالک نے اقوام متحدہ کے عمل سے باہر اپنی الگ کانفرنس بھی منعقد کی تھی۔ فرانس، نیدرلینڈز اور جرمنی کوئلہ، تیل اور گیس چھوڑنے کی واضح حتمی تاریخوں والے روڈ میپ شائع کر چکے ہیں۔

پری کاپ اور یورپی پارلیمان کا مطالبہ
کاپ31 سے پہلے “پری کاپ” اجلاس کا آغاز پیر کو ہوا — تووالو میں رہنماؤں کی بیٹھک اور فجی میں حکومتی اجلاس منعقد ہوئے۔ کانفرنس دوہری صدارت کے انتظام کے تحت منعقد ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہ سائمن سٹیل نے مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ایک کاپ عالمی بحران حل نہیں کر سکتی، لیکن ہر کانفرنس بامعنی قدم آگے بڑھاتی ہے۔
یکم اکتوبر کو یورپی پارلیمان کی ماحولیاتی کمیٹی نے 50 کے مقابلے میں 16 ووٹوں سے ایک قرارداد منظور کی جس میں فوسل ایندھن کے تیز خاتمے، موسمیاتی مالیات میں اضافے اور کمزور ممالک کی حمایت کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں تشویش ظاہر کی گئی کہ یورپی یونین کے اخراج میں 2024 سے 2025 کے دوران ایک فیصد اضافہ ہوا، حالانکہ یونین 1990 کی نسبت 2030 تک تقریباً 54 فیصد کمی کے راستے پر ہے۔ قرارداد پر حتمی ووٹ 19 سے 22 اکتوبر کے مکمل اجلاس میں ہوگا، اور لیڈیا پیریرا کی سربراہی میں 15 اراکین پارلیمان کا وفد 16 سے 20 نومبر تک انطالیہ جائے گا۔
آئندہ اہم تاریخیں
| واقعہ | تاریخ |
|---|---|
| یورپی پارلیمان کا حتمی ووٹ | 19 تا 22 اکتوبر 2026 |
| کاپ31، انطالیہ | 9 تا 20 نومبر 2026 |
| یورپی وفد کی شرکت | 16 تا 20 نومبر 2026 |
| برقی کاری کا ہدف | 2035 تک 35 فیصد |
نتیجہ
کاپ31 ایک ایسے موڑ پر منعقد ہو رہی ہے جہاں ایک طرف برقی کاری جیسے عملی حل مرکز نگاہ ہیں اور دوسری طرف فوسل ایندھن کے خاتمے پر سیاسی تعطل برقرار ہے۔ 2025 کے ریکارڈ اخراج اور بڑھتے موسمیاتی نقصانات کے تناظر میں انطالیہ کے مذاکرات سے توقع ہے کہ وعدوں کو عملی اقدامات میں بدلنے کی راہ ہموار ہوگی — چاہے وہ برقی کاری کے ذریعے ہو یا فوسل ایندھن سے دوری کے روڈ میپ کے ذریعے۔

























